پشاور دھماکے، کوئی گرفتاری نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کا دارالحکومت پشاورگزشتہ نو ماہ سے بم دھماکوں اور خود کش حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے لیکن پولیس کے مطابق اب تک ہونے والے تقریباً بیس دھماکوں کے سلسلے میں کسی ایک شخص کو بھی باقاعدہ طور پر گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔ پشاور میں ہونے والے دھماکوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان تین خود کش حملوں میں ہوا تھا۔ اس سال ستائیس جنوری کو ہونے والے خودکش حملے میں پولیس کے بعض اعلیٰ حکومتی اہلکاروں سمیت بائیس افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ پندرہ مئی کو ایک افغان ہوٹل میں خودکش حملے نے پچیس افراد کی جانیں لی تھیں۔ پولیس کے مطابق پشاور میں گزشتہ سال اگست سے شروع ہونے والے بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں مجموعی طور پر ستر سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک سو بیس سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس افتخار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان حملوں کے سلسے میں تقریباً دس بارہ افراد کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا تھا جنہیں بعد میں بے گناہ سمجھ کر چھوڑ دیا گیا تھا اور بقول انکے اس وقت ان دھماکوں کے سلسے میں ایک شخص بھی زیر حراست نہیں ہے۔
ابتداء میں پولیس کی گشتی ٹیموں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا لیکن بعد میں اس رجحان میں تبدیلی آئی اور ائرپورٹ، ہسپتالوں، عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس اور عام مقامات کو نشانہ بنایا جانے لگا۔ تازہ ترین بم دھماکہ منگل کو پشاور ہائی کورٹ کے سامنے ہوا جس میں ایک شخص ہلاک اور نو زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق ان تمام بم دھماکوں میں دیسی ساخت کے آتش گیر مادوں کا استعمال کیا گیاہے۔ ہر بم دھماکے اور خودکش حملے کے بعد حکومت لوگوں کو یہ یقین دہانی کراتی رہی کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور ملوث افراد کو جلد گرفتار کر لیاجائے گا لیکن تاحال تحقیقات کے نتائج کو عوام کے سامنے نہیں لایا گیا ہے۔ صوبہ سرحد پولیس کے سربراہ شریف ورک نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ان حملوں کے سلسلے میں کتنے افراد کوگرفتار کیا گیا ہے تاہم انکے بقول پولیس نے بم حملوں میں ملوث بعض گروپوں کا سراغ لگا لیا ہے۔ انہوں نے ان گروپوں کے متعلق مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔ شریف ورک کا کہنا تھا کہ’ نہ صرف پشاور بلکہ صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں سے متصل اضلاع بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں امن و امان کی خراب حالت کا تعلق افغانستان اور قبائلی علاقوں کی صورتحال سے ہے۔ ’ہم نے اس سلسلے میں بعض گروپوں کا سراغ لگایاہے اور ہم اس وقت ایکشن لینے کی حکمت عملی پر غور کررہے ہیں۔‘ جب کبھی بھی اعلی پولیس اہلکاروں سے بم دھماکوں کی روک تھام میں ناکامی سے متعلق پوچھا جاتا ہے تو وہ دیگر عوامل کے علاوہ پولیس کودرپیش مشکلات کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔ پشاور کے ایس ایس پی افتخار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور کے تقریباً بیس لاکھ کی آبادی کے لیے پانچ ہزار پولیس اہلکار دستیاب ہیں۔ ان کے بقول ’ اتنی بڑی آبادی کا تحفظ پانچ ہزار پولیس اہلکار کیسے کرسکتے ہیں۔ہمارے پاس پرانے زمانے کی بندوقیں ہیں ۔ تخریب کاری روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی نہیں ہے جبکہ گاڑیاں بھی ناکافی ہیں۔ اگر ہمیں پندرہ ہزار پولیس اہلکار فراہم کیے جائیں تو پھر آپ دیکھیں سکیں گے کہ ان حملوں میں کتنی کمی آتی ہے۔‘ بعض حلقے حکومت پر تنقید کر رہے ہیں کہ اس نے دہشت گردی کے واقعات پرقابو پانے کے لیےکسی قسم کی کوئی نئی حکمت عملی تشکیل نہیں دی ہے لیکن آئی جی صوبہ سرحد کا کہنا ہے کہ نئی حکمت عملی اپنانے کے نتیجے میں ہی حملوں میں ملوث گروہوں کا سراغ لگا یا جا سکا ہے۔ آئی جی کے مطابق’ ہم نے دہشت گردوں کو محدود کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔ حساس حکومتی مقامات اور پرہجوم بازاروں میں سادہ لباس اور وردیوں میں ملبوس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔اسکے علاوہ ہم نے انٹیلیجنس نیٹ ورک کو مضبوط کردیا ہے۔‘ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت بظاہر ان حملوں کو روکنے اور ذمہ دار افرادکی گرفتاری یا نشاندہی کرنےمیں ناکام نظر آرہی ہے۔صوبائی حکومت کو ان واقعات کے پیچھے مرکزی حکومت کا ہاتھ نظر آتا ہے جس کا مقصد بقول انکے متحدہ مجلس عمل کی حکومت کو ناکام کرنا ہے۔ مرکزی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔ مبصرین صوبائی اور مرکزی حکومت کے درمیان جاری الزام برائے الزام کے اس سلسے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کی وجہ سے دونوں حکومتوں کو دہشت گردی کے مبینہ واقعات سے مؤثرطورپر نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی بنانےکا موقع نہیں ملا ہےاور یہی وجہ ہے کہ مبینہ دہشت گردوں کی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں۔ بم دھماکوں اور خودکش حملوں کا بظاہر نہ رکنے والے اس سلسلے نے عام لوگوں کے خوف و ہراس میں اضافہ کر دیا ہے۔گزشتہ روز پشاور ہائی کورٹ کے سامنے ہونے والے بم دھماکے میں زخمی ہونے والے طالبعلم فضل اللہ کی تیمارداری کرنے والےحسین خان کے بقول’ہمیں اب شہر میں پھرتے وقت دھماکہ کا خوف ہر وقت لگا رہتا ہے اور میں ہر چیز سے ڈرتا ہوں۔‘ |
اسی بارے میں پشاور:خودکش دھماکہ، 25 ہلاک15 May, 2007 | پاکستان ’اس گھر کاسب کچھ ختم ہوگیا‘16 May, 2007 | پاکستان ’ یہ داداللہ ہلاکت کا ردعمل نہیں‘15 May, 2007 | پاکستان فلموں کی دکانوں پر بم دھماکے10 May, 2007 | پاکستان کوئٹہ دھماکے میں بچہ زخمی18 May, 2007 | پاکستان کوئٹہ: ’احتجاجی بم دھماکے‘28 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||