فلموں کی دکانوں پر بم دھماکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں فلموں کی سی ڈیز فروخت کرنے والی دکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے اور ضلع مردان اور چارسدہ میں تازہ بم دھماکوں سے سی ڈیز کی دو دکانوں سمیت آس پاس کی تقریباً سولہ دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مردان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفسر محمد قریش خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تازہ بم دھماکے مردان کے پارہوتی کے علاقے میں واقع ایک مارکیٹ میں بدھ اور جمعرات کی نصف شب ڈیڑہ بجے ہوئے ہیں جس میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ دیسی ساخت کے بم دھماکوں کا ہدف سی ڈیز فروخت کرنے والی دکانیں تھیں جن میں سے چار مکمل طور پر تباہ ہوئی ہے اور آٹھ کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کسی کو بھی ان بم دھماکوں کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ور کہا کہ یہ صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں کی ایک کڑی ہے۔ سی ڈیز کی تباہ ہونے والی ایک دکان کے مالک فدا محمدنے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں دس دن قبل بعض نامعلوم افراد کی طرف ایک ہفتے کے اندر کاروبار ختم کرنے کے دھمکی آمیز خطوط ملے تھے۔ دوسری طرف گزشتہ رات کوضلع چارسدہ میں فلموں کی سی ڈیز فروخت کرنے والی ایک دکان میں بم پھٹنے سے سی ڈیز کی دو دکانیں بھی تباہ ہوگئیں۔ دھماکے سے اردگر کی دکانوں کو بھی جزوی طورپر نقصان پہنچا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات تنگی سرکل کی حدود میں پیش آیا۔ عمرزئی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او نے بتایا کہ میر آباد پل کے نیچے سی ڈیز کی دکانوں میں نامعلوم افراد نے بم رکھا ہوا تھا جس کے پھٹنے سے دو دکانیں تباہ ہوگئیں ہیں جبکہ دیگر کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے ناکہ بندی کی اور ایک نامعلوم موٹر سائیکل کو دھماکہ خیز مواد سمیت قبضے میں لے لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کی تلاش کےلیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ چارسدہ میں اس ہفتے کے دوران کسی سی ڈیز سنٹر پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل بھی موسیقی اور فلمیں فروخت کرنے والی دکانوں کو دو بم حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ گزشتہ روز چارسدہ شہر میں ہی مسلم کالونی میں رہنے والے عیسائیوں کو نامعلوم افراد کی طرف سے ایک خط بھیجا گیا ہے جس میں انہیں دس دن کے اندراندر مسلمان ہونے یا علاقہ چھوڑدینے کی دھمکی دی گئی ہے۔ پاکستان کے قبائلی اور بندوبستی علاقوں میں قائم تعلیمی اداراوں، حجاموں اور سی ڈیز سنٹروں کو دھمکی آمیز خطوط ملنے کا یہ سلسلہ گزشتہ کچھ عرصہ سے جاری ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ان خطوط کے پیچھے مبینہ طورپر وفاقی حساس اداروں کا ہاتھ ہے اور ان کے بقول اس کا مقصد صوبہ سرحد میں امن وامان کی حالت کو خراب کرنا اور ایم ایم اے کی حکومت کو بدنام کرنا ہے۔ | اسی بارے میں چارسدہ: موسیقی کی دکانوں پر حملے04 May, 2007 | پاکستان شیرپاؤ پر حملہ: مرنے والے 28 ہو گئے29 April, 2007 | پاکستان موسیقی، حجام کی دکانوں پر دھماکے04 March, 2007 | پاکستان سی ڈیز، وی سی آر اورخواتین پرپابندی 10 June, 2006 | پاکستان موسیقی کی کلاسز، احتجاج11 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||