’اس گھر کاسب کچھ ختم ہوگیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کےمرحبا ہوٹل میں مبینہ خودکش حملے میں ایک ہی افغان خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد اس گھر میں ایک بڑا مرد اور کچھ بچے رہ گئے ہیں۔ خاندان کے سربراہ صدرالدین ایک افغان مہاجر اور مرحبا ہوٹل کے مالک تھے۔ ان کا تعلق افغانستان کے شہر مزار شریف سے تھا۔ ساٹھ سالہ صدر الدین خود بھی اس حملے میں ہلاک ہوئے جبکہ ان کے دو بیٹے 35 سالہ عین الدین، 24 سالہ زیاد خواجہ، ان کے بھائی 50 سالہ قیام الدین اور پانچ سالہ پوتا نظام الدین بھی جان بحق ہوئے ہیں۔ اس خاندان کا واحد ذریعہ آمدن مرحبا ہوٹل کا افغان ریسٹورنٹ ہی تھا جو اس حملے میں مکمل طورپر تباہ ہوگیا ہے۔ یہ افغان خاندان گزشتہ بائیس سال سے پشاور کے مصروف تجارتی مرکز کوچی بازار میں رہائش پذیر ہے۔ تنگ و تاریک گلیوں میں واقع اس گھر میں منگل سے لوگ بڑی تعداد میں فاتحہ کےلیے آ رہے ہیں، جن میں افغانی اور پاکستانی بھی شامل ہیں۔ صدرالدین کے بھانجے عبد المنان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کے ماموں کے گھر میں قیامت صغرا کا منظر ہے ، ہر طرف چیخ وپکار اور رنج و غم کا عالم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ان ہلاکتوں کے بعد گھر میں چار خواتین بیوہ ہوگئیں ہیں اور ان کا سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔ ہوٹل ، کاروبار سب کچھ تباہ ہوگیا ہے۔ ان کے پاس اب کچھ بھی باقی نہیں رہا‘۔
انہوں نے کہا کہ ہوٹل میں نقدی اور دیگر سامان پولیس لے گئی ہے جبکہ بعض چیزیں لوگوں نے لوٹ لیں، جس میں کیش اور زیورات بھی تھے۔ ناز سنیما روڈ پر مسجد محبت خان کے قریب واقع مرحبا ہوٹل کی تین منزلہ عمارت میں دفاتر بھی قائم تھے جبکہ یہاں پر قیمتی پتھروں کا کاروباربھی ہوتا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا کہ اس ہوٹل میں زیادہ تر افغان مہاجر آتے تھے۔ افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوٹل کے مالک ’جنبش ملی افغانستان‘ اور ازبک ملیشاء کے سربراہ عبد الرشید دوستم کے خاص آدمی تھے۔ افغانستان میں 2004 کے صدارتی انتخابات میں جنرل رشید دوستم نے بھی حامد کرزئی کے الکیشن میں حصہ لیا تھا۔ جس میں بتایا جاتا ہے کہ صدرالدین نے رشید دوستم کےلیے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین میں الیکشن مہم چلائی تھی۔ ایک افغان مہاجر نے بتایا کہ طالبان کمانڈر ملا داد اللہ کی ہلاکت پر خوشی کے طور پر صدرالدین نے مٹھائی تقسیم کی تھی تاہم دیگر ذارئع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ اس واقعہ میں گل بہار کے محمد شیراز بھی ہلاک ہوئے ہیں جو اندرونِ شہر صرافہ بازار میں دوکان کرتے تھے۔ پچیس سالہ محمد شیراز ہوٹل کے سامنےگاڑی پارک کرتے ہوئے موت کا نشانہ بنے۔ محمد شیراز کی ایک بیٹی اور ایک بھائی ہے جبکہ ان کے والد بنک میں ملازم ہیں۔
مرحوم کے والد غلام سرور نے اس دھماکے کا الزام حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ سب کچھ حکومت کی وجہ سے ہورہا ہے بلکہ یہ حکومت کی خود اپنی دہشت گردی ہے۔ ان کو سب کچھ پہلے سے پتہ ہوتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد سےحکومت کے کسی بھی اہلکار نے ان سے اظہارِ ہمدردی نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے ان سے رابط کیا ہے۔ ان کے مطابق ’یہ حکومتی اہلکار خود تو بلٹ پروف گاڑیوں میں پھرتے ہیں اورگاڑیوں سے نیچے نہیں اُترتے، خودکش حملوں سے ڈرتے ہیں ، ان کو غریب اور معصوم لوگوں سے کیا، چاہیے دس مریں یا سو‘۔ بات کرتے ہوئے غلام سرور کئی بار آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کو کیا پتہ کہ میرے گھر کے اندر کیا ہو رہا ہے، شیراز کی ماں اور بیوہ پر کیا بیت رہی ہے۔ | اسی بارے میں خودکش حملہ: چوبیس ہلاک، شیرپاؤ زخمی28 April, 2007 | پاکستان شیرپاؤ پر حملہ: مرنے والے 28 ہو گئے29 April, 2007 | پاکستان پشاور ائر پورٹ پر دھماکہ28 April, 2007 | پاکستان کوئٹہ: گیس پائپ لائن پر دھماکہ02 May, 2007 | پاکستان کوہاٹ: پولیس لائن میں دھماکہ06 May, 2007 | پاکستان مردان: لڑکیوں کے سکول میں دھماکہ11 May, 2007 | پاکستان دھماکہ:سابق فراری کمانڈر زخمی12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||