کوئٹہ: ’احتجاجی بم دھماکے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں بم دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے اور پیر کو شہر کے مضافاتی علاقوں میں پانچ دھماکے ہوئے، جن میں سے ایک واقعہ کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے جبکہ دوسرے میں ریل کی پٹڑی کو نقصان پہنچا ہے۔ پولیس افسر وزیر خان ناصر نے بتایا ہے کہ سریاب روڈ پر نا معلوم افراد نے ایک مکان پر دستی بم پھینکا ہے جس سے مکان میں رہائش پذیر چار مزدور زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے افراد کا تعلق پنجاب سے ہے۔ ریل کی پٹڑی پر ہونے والا بم دھماکہ بلوچستان یونیورسٹی سے کچھ فاصلے پر ہوا۔ باقی تین دھماکوں میں سے ایک سپنی روڈ پر بجلی کے محکمے کے دفتر کے قریب، دوسرا سیٹلائیٹ ٹاؤن اور تیسرا کلی مبارک میں ہوا ہے۔ گزشتہ دو سالوں سے اٹھائیس مئی کے روز کوئٹہ اور بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں بم دھماکوں کی تعداد معمول سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ خود کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون کے ذریعے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکے اٹھائیس مئی کے حوالے سے کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے کو پاکستان نے بلوچستان کے مقام چاغی کے پہاڑوں پر ایٹمی دھماکہ کیا تھا، جس کی بعض بلوچ قوم پرست حلقے مذمت کرتے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیوکلیئر ٹیسٹ کے نتیجے میں بلوچستان کو تابکاری کے اثرات مدتوں بھگتنا پڑینگے۔ نیوکلیئر ٹیسٹ کرنے کے دن کو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے ’یوم تکبیر‘ قرار دیا تھا۔ کوئٹہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس رحمت اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ اٹھائیس مئی کے حوالے سے وہ لوگ جو ایٹمی دھماکوں کو اپنے لیے فخر نہیں سمجھتے اس طرح کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اتوار کو ہونے والے دھماکوں کے حوالے سے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں اتوار کو دو دھماکے ہوئے تھے، جن میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ |
اسی بارے میں دھماکوں میں ایک ہلاک، دو زخمی27 May, 2007 | پاکستان کوئٹہ: گیس پائپ لائن پر دھماکہ02 May, 2007 | پاکستان چاغی کے ماڈل غائب09 May, 2005 | پاکستان چاغی، بچے خوراک کی کمی کا شکار30 April, 2004 | پاکستان چاغی ماڈل بھی راکھ ہوگیا10 February, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||