ایٹمی فضلہ تلف کرنا ایک درد سر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین کے مطابق ایٹمی فضلے کو اس طرح محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جانا چاہیے کہ اس کے تابکاری اثرات مکمل طور پر زائل ہونے تک انسان اور ماحول کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ ایٹمی یا جوہری فضلے کو تابکاری کے لحاظ سے عام طور پر تین درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے: ہلکا، درمیانہ اور اونچا (ہائی لیول)۔ جوہری ہتھیار سازی اور ایٹمی بجلی گھروں سے پیدا ہونے والے فضلے کو ماہرین اونچے درجے کی تابکاری کا حامل قرار دیتے ہیں۔ اسے بعض دفعہ ’جلتے ہوئے یورینیئم کی راکھ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ جوہری ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے تقریباً ہر ملک کے لیئے ایٹمی فضلے کو تلف کرنا ایک درد سر ہے اور اسے محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے پر بھاری اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں۔امریکہ میں کام کرنے والے ایک سو سے زائد جوہری بجلی گھر سالانہ دو ہزار ٹن کے لگ بھگ فضلہ پیدا کر رہے ہیں۔
ہائی لیول جوہری فضلہ ہزاروں سال تک تابکاری کا حامل رہ سکتا ہے۔ امریکہ جوہری فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیئے انیس سو بیاسی سے لاس ویگاس سے اسی میل دور واقع ’یوکا‘ پہاڑی پر انتظامات کرنا چاہ رہا ہے لیکن اسے اس حوالے سے شدید عوامی مخالفت کا سامنا ہے۔ خاص طور پر وہ علاقے اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں جہاں سے گزر کر جوہری فضلہ یوکا پہاڑی پر ڈمپ کیا جائے گا۔ انیس سو بیاسی میں یوکا پہاڑی پر جوہری فضلہ ڈمپ کرنے کا تخمینہ پینتیس ارب امریکی ڈالر لگایا گیا تھا جو اب بڑھ کر ساٹھ ارب ڈالر سے زائد ہوگیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جوہری فضلے کو محفوظ طریقے سے یعنی کیمیائی عمل سے تابکاری اثرات بہت حد تک کم کرکے زیر زمین دفن کرنا ہی اب تک سب سے کم خطرناک طریقہ سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے لیئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مذکورہ جگہ زلزلوں سے کتنی محفوظ ہے اور کہیں یہ امکان تو نہیں کہ فضلے کے تابکاری اثرات زیر زمین آبی ذخائر کو آلودہ کر دیں۔
اقوام متحدہ کا جوہری توانائی کا ادارہ آئی اے ای اے انہیں تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے جوہری فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے لیئے بین الاقوامی ٹھکانے بنانا چاہ رہا ہے اور اس حوالے سے آسٹریلیا اور روس کے علاقوں کو محفوظ ترین سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن آسٹریلیا میں عوامی حلقے ایسے کسی ممکنہ اقدام کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق مالدار جوہری ممالک معاشی مشکلات کے شکار روس میں جوہری فضلہ ڈمپ کرنے کی سہولت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ تاہم جوہری ٹیکنالوجی کے حامل بھارت اور پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک کے لیئے اس صورتحال سے نمٹنا ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔ خاص طور پر وہ ممالک جہاں سول سوسائٹی کمزور اور جمہوریت نا پید ہے اور بہت سےمعاملات ’قومی مفاد‘ کی پر فریب اصطلاح میں تہہ در تہہ لپٹے ہوئے ہیں وہاں مفاد عامہ کا خیال رکھنا ایک سوالیہ نشان رہے گا۔ |
اسی بارے میں جوہری فضلہ، سماعت ملتوی29 March, 2006 | پاکستان توانائی مذاکرات، تجاویز کا تبادلہ13 March, 2006 | پاکستان جوہری توانائی کاعالمی منصوبہ28 June, 2005 | نیٹ سائنس ’ایٹمی توانائی پر انحصار بڑھے گا‘26 June, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||