BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 April, 2006, 16:57 GMT 21:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوجھڑی کیمپ سے بغلچور تک

مقامی آبادی کا دعویٰ ہے کہ انسان تو انسان جانور بھی ایٹمی تابکاری سے متاثر ہونا شروع ہو گئے ہیں
راولپنڈی کے قریب اوجھڑی کیمپ آپ کو یاد ہوگا جس کے ’حادثے‘ کی سیاسی و فوجی وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں لیکن جس بڑے پیمانے پر اسکی تباہی نے نہ صرف ایک وزیر خاقان عباسی سمیت شہری آبادی کو خون، دھویں اور دھماکوں سے بھک سے اڑایا تھا بلکہ ایک سیویلین وزیر اعظم کی بھی قربانی مانگی تھی۔

وزیراعظم محمد خان جونیجو نے، جنکی معزولی پر ان کے اپنے علاقے کے لوگوں نے انہیں ’فاتح ضیاء الحق‘ کا نام دیا تھا، سانحہ اجھڑی کیمپ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ شکر ہے کہ ان کو جان کے بجائے صرف کرسی سے ہاتھ دھونے پڑے کیونکہ یہ سندھی وزیراعظم بھٹو کی طرح ’پاپولر‘ نھیں تھے۔

اور اب دیکھیں یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ کل کے سوویت یونین میں چرنوبل میں ایٹمی حادثے کے تیسویں برسی کے موقعے پر ڈیرہ غازی خان کے قریب بغلچور کے علاقے میں مبینہ طور پر ایٹمی توانائی کمیشن کی طرف سے ایٹمی کچرا شہری آبادی میں ڈمپ کرنے کی رپورٹیں آئی ہیں۔

بغلچور تصویروں میں

اگر یہ رپورٹیں قطعی طور پر مصدقہ ہیں اور جو کہ لگتی بھی ہیں تو یہ بہت ہی تشویش ناک بات ہے۔ ہماری تشویش اپنی جگہ لیکن پاکستان میں ’قومی مفاد‘ اس طرح بزور آوری گڈ مڈ کیے گۓ ہیں کہ بس فیض صاحب یاد آتے ہیں:

’اس جاں کی زیاں کی ھم کو بھی تشویش ہے لیکن کیا کیجیے
ہر راہ جو ادھر کو جاتی ہے مقتل کو گزر کر جاتی ہے۔‘

صوبہ پنجاب کے اس زیادہ تر سرائیکی اور بہت سے بلوچ علاقے ڈیرہ غازی خان کے گاؤں بغلچور کے باشندے نذیر احمد بزدار کے بی بی سی اردو ڈاٹ کام میں چھپے ھوئے یہ الفاظ ’ہماری مٹی نے پاکستان کو پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن بدلے میں ہمیں پسماندگی، غربت اور زہر دیا جارہا ہے‘ بہت کچھ کہہ جاتے ہیں قطع نظر اسکے کہ میں ذاتی طور پر پاکستان یا کسی بھی ملک کی ’ایٹمی طاقت‘ بن جانے کو انسانوں اور امن کی صحت عامہ کے مفاد میں نہیں سمجھتا-

بغلچور کے مقامی لوگوں کی شکایت ہے کہ اس مذکورہ و مبینہ ایٹمی فضلہ کو بغلچور اور اسکے ارگرد کے علاقوں میں ڈمپ کرنے سے وہاں کی مٹی، پانی اور ہوا میں مبینہ طور تابیکاری کے اثرات پیدا ہوں گئے ہیں جن کی وجہ سے علاقے میں بچوں کی شرح اموات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے سرطان کی بیماریاں پھیلی ہیں اور ان کے دودھ دینے والے جانوروں کے سم یا پاؤں بڑے ہو گئے‎ ہیں۔ ایسی علامات و شواہد کی رپورٹیں چاغی اور پوکھران سے بھی آتی رہی ہیں۔

نیز بغلچور سے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بارش کا پانی یورینیم زدہ مٹی میں مل رہا ہے اور وہاں کے پانیوں میں مبینہ تابکاری کے اثرات موجود ہیں جہاں سے انسان اور جانور پانی پیتے ہیں-

مجھے شک ہے کہ اس’اسلامی ایٹمی طاقت‘ پاکستان میں بغلچور وہ پہلی شہری آبادی ہے جہاں جوہری فضلہ ڈمپ کیا جار رہا ہے۔ اس سے قبل بلوجستان کی اسمبلی میں بھی صوبے (بلوچستان) میں ایٹمی فضلہ ڈمپ ہونے کی رپورٹوں کی باز گشت سنی گئی تھی۔ بلوچستان پاکستان میں اللہ اور آرمی کے رحم کرم پر چھوڑ دیا گیا ایک صوبہ ہے۔ ایک ایسا صوبہ جہاں جب نواز شریف حکومت کے دوران ایٹمی دھماکے چاغی میں کیے گے تو تب کے وزیر اعلٰی نے بھی یہ خبر اس شام بی بی سی ہی پر سنی تھی۔ اس ایٹمی دھماکے کی پیشگی خبر صوبے کے وزیر اعظم اعلٰی کو نہیں پر ایک اخبار کے ایڈیٹر کو ضرور تھی۔

اب پاکستان میں بہت سے لوگ اس دن کو ’یوم تکبیر‘ قرار دیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اس دن اس خطے میں امن کے پرندے کو ہی ’تکبیر‘ دے دی گئی تھی۔

قصہ مختصر کہ اب ایسا ملک جہاں، بقول شخصے، چاغی میں کیے گۓ جوہری دھماکے کا نشانہ بنائے ہوئے پہاڑوں کے ٹکڑے پاکستانی ایلیٹ کے بنگلوں کے ڈرائينگ روموں میں سجے ملتے ہوں اور چاغی کی پہاڑوں کے ماڈلز ہر چوک اور چوراہے پر نظر آتے ہوں۔ ایسی تکبیری ریاست میں ایٹمی فضلہ ڈیرہ غازی خان کے غریب بزداروں پر نہیں گرے گا تو کہاں گرے گا۔

ایٹمی فضلے والی سرنگجوہری مسائل
ڈی جی خان کی سرنگ میں ایٹمی فضلہ
بینظیر بھٹو اور نواز شریف ’وعدوں کے جفادار‘
’چارٹر آف ڈیمو کریسی‘ کے جنم پر حسن مجتبیٰ
عید میلا النبی’وہ دن اور تھے‘
نشتر پارک دھماکے پر حسن مجتبیٰ کا کالم
نیپالنیپال اور پاکستان
’پاکستانیوں کے دل بھی ضرور دھڑکتے ہونگے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد