BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 June, 2005, 12:24 GMT 17:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری توانائی کاعالمی منصوبہ
جوہری انفجار کا منصوبہ
نیوکلیر فیوژن کےمنصوبے پر پینتیس سال میں دس ارب یوروخرچ ہوں گے
فرانس کو دس ارب یورو (بارہ ارب ڈالر) مالیت کا بین الاقوامی نیوکلیر فیوژن کے منصوبے کا حق مل گیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے فرانس اور جاپان کے درمیان دوڑ تھی۔

’دی تھرمو نیوکلیر ایکسپیریمنٹل ری ایکٹر‘ (The International Thermonuclear Reactor) یعنی آئی ٹی ای آر نامی یہ منصوبہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے بعد دوسرا مہنگا ترین مشترکہ سائنسی منصوبہ ہے۔

طبعیات کی رو سے دیکھا جائے تو نیوکلیر فیوژن کے اس منصوبے میں اتنی توانائی کا عمل دخل ہوگا کہ یہ زمین پر ستارا بنانے کے برابر ہے۔

آئی ٹی ای آر منصوبہ جاپان اور فرانس میں سے کسی ایک کے حق میں فیصلے کے انتظار میں اٹھارہ ماہ سے تعطل کا شکار تھا۔ اس منصوبے میں یورپی یونین، امریکہ، روس، جاپان، جنوبی کوریا اور چین شامل ہیں۔

نیوکلیر فیوژن کے اس عمل سے اسی طرح توانائی پیدا ہوتی ہے جیسے سورج پر گرمی۔

نیوکلیر فیوژن کے عمل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ معدنی تیل سمیت توانائی حاصل کرنے کے دیگر طریقوں کے مقابلے میں یہ زیادہ صاف ہے۔

منگل کو منصوبے میں شامل چھ فریقوں نے روس میں معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت یہ جنوبی فرانس میں تکمیل پائے گی۔

یورپی یونین کے سائنس اور تحقیق کے کمشنر نے کہا کہ ’آئی ٹی ای آر بین الاقوامی سائنسی تعاون میں ایک بڑا قدم ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ منصوبے کے مقام پر اتفاقِ رائے کے بعد اب کوشش کی جائے گی اس پر جلد از جلد کام شروع ہو سکے۔

زمین پر توانائی کی خاطر فیوژن کے عمل پیدا کرنے کے لیےگیس کو ایک سو ملین ڈگری سی سے زیادہ درجہ حرارت پر گرم کرنا پڑتا ہے۔ یہ درجہ حرارت سورج کے مرکز سے زیادہ ہے۔ اس منصوبے کے لیے سائنسدان کئی دہائیوں سے تیاری کر رہے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ منصوبے کی کامیابی انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگی۔ اس منصوبے سے حاصل ہونے والا ایک کلوگرام جوہری ایندھن ایک کروڑ کلوگرام معدنی تیل کے برابر توانائی دے سکتا ہے۔

بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد