چاغی کے ماڈل غائب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جوہری تجربات کی یاد میں لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے نصب کیے گئے ماڈل کو رات کی تاریکی میں ہٹا دیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے اس اقدام کی کوئی وضاحت نہیں کی گی۔ تاہم جب پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کسی کو اس سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہئے۔ اس سے قبل اسلام آباد کے ایف ٹین سیکٹر کے چوک میں نسب غوری میزائل کا ماڈل دسمبر دو ہزار تین میں اتارا گیا تھا۔ یہ ماڈل اس وقت نصب کئے گئے تھے جب پاکستان نے1998 میں پاکستان نے جوہری دھماکے کیے تھے۔ اس وقت اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر بھی چاغی کا ماڈل موجود ہے جبکہ ایف ایٹ سیکٹر میں شاہین میزائل کا ماڈل بھی ابھی تک اپنی جگہ موجود ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی سے پیر کو جب ہفتہ وار بریفنگ میں لاہور سے ان ماڈل کو ہٹائے جانے کی وجہ دریافت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ ماڈل پاکستان کی حفاظت کے نشان ہیں اور ان کو اس وقت نصب کیا گیا تھا جب ان کے ٹیسٹ کیے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ان کو اس لیے اتارا گیا کہ کچھ نئ تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے ان تبدیلیوں کی وضاحت نہیں کی۔تاہم ان کا اصرار تھا کہ ان ماڈل کو اتارنے کے بارے میں کوئی نتائج اخذ نہ کیے جائیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ ماڈل دن کی روشنی میں بھی اتارے جا سکتے تھے تو دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے میزائل ٹیکنولوجی میں مہارت حاصل کر لی ہے جو وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے حال ہی میں شاہین ٹو میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایسی بات ہے کہ جس سے پاکستانی حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے۔ اسلامآباد میں جب دسمبر دو ہزار تین میں غوری میزائل کا ماڈل اتارا گیا تھا تو اس وقت عام طور پر تاصر تھا کہ ایسا سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو خوش کرنے کے لئے کیا گیا تھا جو اس وقت پاکستان میں سارک اجلاس میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||