’ٹانک میدان جنگ بن گیا تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شہر ٹانک میں منگل کی رات کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے ہونے والی جھڑپوں کے بعد عینی شاہدین نے بتایا کہ شہر میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ ٹانک کے رہائشی محمد نور نے بتایا کہ تمام رات کی جھڑپوں کے بعد الصبح انہوں نے جا کر بازار دیکھا تو وہ میدان جنگ کی تصویر پیش کر رہا تھا۔ ’ہم جب صبح سویرے باہر نکلے تو دیکھا بینکوں سے دھواں نکل رہا تھا جبکہ ان کے کمپوٹر اور فرنیچر باہر سڑک پر پڑے تھے۔ عام لوگ یہ سامان اٹھا کر لےجا رہے تھے۔سات بینک جل گئے تھے۔’ محمد نور نے بتایا کہ نیشنل بینک کا صدر دفتر تباہی سے بچ گیا تھا۔ ’شناختی کارڈز کا دفتر بھی نذر آتش کر دیا تھا۔ ہر جگہ سامان بکھرا پڑا تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ وزیر آباد، وانا سڑک سکیورٹی اہلکاروں نے بکتر بند گاڑی سے بند کر رکھی تھی۔ ’ہمیں نہیں معلوم ایف سی کے کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہوں گے۔‘ محمد نور نے کہا کہ انہوں نے بازار میں ایک کٹا ہوا انسانی ہاتھ، انسانی گوشت اور خون جگہ جگہ پڑے دیکھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ذہنی طور پر معذور شخص کی لاش انہوں نے بازار میں پڑی دیکھی۔ محمد نور کا کہنا تھا کہ عام لوگوں کے مکانات پر بھی راکٹ اور مارٹر گرے ہیں۔ ’ایک ٹانگے والے سرور خان کے گھر پر بھی گرا۔ ایک اور گھر پر بھی لگا ہے لیکن ہمیں نہیں معلوم وزیر آباد میں کتنے مکانوں کو نقصاں پہنچا کیونکہ وہ ایف سی قلعے کے ساتھ ہیں۔ ہمیں وہاں جانے نہیں دیا جا رہا تھا۔’ انہوں نے بتایا کہ دوبارہ لڑائی چھڑ جانے کے خوف سے بازار مکمل طور پر بند ہے۔ تاہم دو فوجی ہیلی کاپٹر فضا میں تمام دن گھومتے رہے ہیں۔ ’صرف تماشا دیکھنے والے اکادکا باہر گھوم رہے تھے۔‘ محمد نور کا کہنا تھا کہ ان بینکوں کے کھاتہ داروں کو بھی تشویش لاحق ہوگئی ہے کہ ان کے پیسوں کا کیا بنے گا۔ | اسی بارے میں ٹانک: جھڑپیں، کرفیو، فوج طلب28 March, 2007 | پاکستان جرگہ بیت اللہ محسود سے ملے گا27 March, 2007 | پاکستان خار: آئی ایس آئی کے چار اہلکار ہلاک27 March, 2007 | پاکستان وزیرستان جنگ، حکومتی کامیابی26 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||