BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 March, 2007, 14:17 GMT 19:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جرگہ بیت اللہ محسود سے ملے گا

حکومت اور طالبان کے درمیان معاہدے کو بیت اللہ محسود کی حمایت حاصل ہے
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ٹانک کے ستر عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ علاقے میں امن عامہ کی بہتری میں مدد کی ایک درخواست لے کر بدھ کے روز جنوبی وزیرستان میں محسود شدت پسندوں کے امیر بیت اللہ محسود کے پاس جائے گا۔

اس بات کا فیصلہ ٹانک کی مقامی انتظامیہ اور شہر میں بسنے والی مختلف قوموں کے عمائدین کے درمیان ایک ملاقات میں ہوا۔ اس ملاقات میں ٹانک میں بسنے والے مقامی بھٹنی، محسود، گنڈاپور اور دیگر قوموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

جنوبی وزیرستان کے ساتھ سرحد پر واقع ٹانک شہر میں پیر کے روز مقامی شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان تصادم میں ایک پولیس انسپکٹر سمیت تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد شہر میں مختلف مقامات پر پولیس کی گاڑیوں، تھانوں اور ایف سی کی چوکیوں پر حملے ہوئے جن میں کم از کم دس افراد زخمی ہوئے تھے۔



ان واقعات کے دوسرے روز منگل کو بھی ٹانک شہر سہما ہوا تھا۔ تمام دکانیں اور بازار مزید پرتشدد کارروائیوں کے خوف سے بند رہے۔

منگل کے جرگے میں جعمیت علما اسلام کے سینیٹر صالح شاہ قریشی بھی شریک تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دیگر ستر عمائدین کے ساتھ بدھ کو جنوبی وزیرستان میں کسی نامعلوم مقام پر بیت اللہ سے ملنے کے لیے جا رہے ہیں۔ ’میری بیت اللہ سے بات ہوگئی ہے اور اس نے اس ملاقات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ وہ ان سے کس قسم کی مدد کی توقع کر رہے ہیں، صالح شاہ نے کہا کہ وہ ہراس شخص سے ملنے کو تیار ہیں جو علاقے میں امن قائم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ منگل کے پرتشدد واقعات کا ان کی بیت اللہ سے متوقع ملاقات کا کوئی تعلق ہے۔’میری معلومات کے مطابق ایسا کچھ نہیں ہے۔ قبائلی روایات کے مطابق جرگے اس طرح کے افراد سے ملاقات ضرور کرتے ہیں۔‘

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں مقامی قبائل نے حکومت کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت وہ اپنے علاقے میں غیرملکیوں کو پناہ فراہم نہیں کریں گے۔

سینٹر صالح شاہ قریشی نے اس امید کا اظہار کیا کہ اب ٹانک میں حالات بہتر ہوں گے۔

کئی مبصرین کے خیال میں ٹانک میں حالیہ دنوں کے واقعات کا جنوبی وزیرستان کی صورتحال سے براہ راست تعلق ہے۔ کئی تو اسے علاقے میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی ایک کڑی بھی قرار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں
ٹانک: دکانیں حملے کی زد میں
09 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد