ٹانک: جھڑپیں، کرفیو، فوج طلب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ٹانک میں منگل کی رات کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے ہونے والی شدید جھڑپوں کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے فوج طلب کر لی گئی ہے اور شہر میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ٹانک کے ناظم ریاض کنڈی کا کہنا ہے کہ شہر میں حالات کشیدہ ہیں جن کے پیش نظر فوج کو طلب کیا گیا ہے۔ یہ اقدام کل رات پولیس کے مطابق تین سے چار سو مسلح افراد کی جانب سے شہر کے مختلف اطراف سے سرکاری اہداف پر راکٹوں اور مارٹروں سے حملے کے بعد اٹھایا گیاہے۔ حکام ان جھڑپوں میں بیس سے پچیس شدت پسند حملہ آوروں کے مارے جانے کا دعویٰ بھی کر رہے ہیں۔ ایس پی ٹانک ممتاز زرین نے بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسند بعد میں اپنے ساتھیوں کی لاشیں رات کی تاریکی میں ساتھ لے جانے میں کامیاب رہے۔ حملہ آوروں کے جانی نقصان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے تاہم حکام نیم فوجی ملیشیا فرنٹئر کور کے ایک سپاہی عبدالطیف خٹک اور ایک دوسرے شخص نیاز علی محسود کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر رہے ہیں۔ ممتاز زرین نے کل رات پانچ گھنٹے کی لڑائی کو میدان جنگ سے تعبیر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات اب بھی کشیدہ ہیں تاہم اگلے چوبیس گھنٹوں میں سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیئے فوج طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چھ بینکوں کے علاوہ نادرا اور دیگر سرکاری دفاتر کو بھی حملہ آوروں نے کل رات نقصان پہنچایا ہے۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ حالات گزشتہ تین چار ماہ سے مقامی شدت پسندوں کے علاقے میں داخل ہونے اور بعد میں تمام صوبے کی صورتحال خراب کرنے کے ایک منصوبے کی کڑی ہے۔ شہر میں پائے جانے والے خوف ہراس کی وجہ سے دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بھی نہیں ہے۔رات بھر جاری رہنے والی اس گولہ باری میں زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں ابھی سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا جا رہا۔ مقامی اخبار نویسوں اور پولیس حکام سے اکھٹا کی جانے والی معلومات کے مطابق شہر میں ایک سے زیادہ جگہوں پر کٹے ہوئے انسانی اعضاء بھی ملے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر میں رات گیارہ سے صبح چھ بجے تک ہلکے اور بھاری اسلحے کا استعمال ہوتا رہا۔ مسلح افراد نے شہر میں صدر تھانے اور ایف سی کے قلعے کو نشانہ بنایا جبکہ گولہ باری میں کئی گھر بھی نشانہ بنے ہیں۔ تھانہ صدر کے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ مقامی شدت پسندوں نے شہر میں چھ بینکوں کو لوٹ کر نذر آتش کردیا۔ انہوں نے فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی اور کہا کہ ایک ذہنی طور پر معذور شخص بھی اس حملے میں مارا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات اب قابو میں ہیں۔ حکام نے تعلیمی ادارے کل ہی بند کرا دیے تھے تاہم نجی اور سرکاری کاروبار اور مراکز بدھ کو مکمل طور پر بند ہیں۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ رات بھر کی لڑائی کے نقصانات کی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ یہ حملے ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب ٹانک کے ستر عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ علاقے میں امن عامہ کی بہتری کے لیے مدد کے درخواست لے کے کر بدھ کو جنوبی وزیرستان میں محسود شدت پسندوں کے امیر بیت اللہ کے پاس جانے والا تھا۔ جرگے کے رکن اور جعمیت علمائے اسلام کے سینٹر محمد صالح شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں کشیدہ حالات کی وجہ سے جرگہ اراکین کے اکھٹا ہونے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ٹانک سے ڈیرہ اسماعیل خان جانے والی سڑک پر پیر کو آکسفورڈ پبلک سکول میں مقامی شدت پسند گروپ کے سربراہ احسان برقی عرف جرنیل اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں احسان کی ہلاکت کے بعد بھی حالات کشیدہ تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ وہ اسمبلی سے خطاب کرنا اور طلبہ کو جہاد کی تلقین کرنا چاہتے تھے۔ ادھر اس سکول کے پرنسپل فرید اللہ اور ان کے ایک بھائی کو بھی نامعلوم افراد نے منگل کو اغواء کر لیا تھا۔ مقامی انتظامیہ حالات پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں جرگہ بیت اللہ محسود سے ملے گا27 March, 2007 | پاکستان ’ٹانک سے بارودی سرنگ برآمد‘09 January, 2007 | پاکستان ٹانک: تین پولیس اہلکار اغواء24 January, 2007 | پاکستان ٹانک میں ایک قبائلی سردار قتل21 February, 2007 | پاکستان ٹانک:بم حملہ، تین اہلکار زخمی26 February, 2007 | پاکستان ٹانک میں دھماکہ، ہنگو میں فائرنگ21 January, 2007 | پاکستان ٹانک میں گڑ بڑ، انسپکٹر ہلاک26 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||