BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 June, 2007, 12:25 GMT 17:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ملا نذیر طالبان تحریک سے خارج‘

ملا نذیر
ملا نذیر کا موقف تھا کہ غیرملکیوں کو قبائلی رسم و رواج کا پاس کرنا ہوگا۔
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں وانا کے قریب غیرملکی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی قیادت کرنے والے ملا نذیر احمد کو طالبان تحریک سے نکال دیا گیا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں طالبان ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کی قیادت نے ملا نذیر احمد کے خلاف یہ اقدام ان کی ازبکوں کے خلاف اس سال مارچ میں کارروائی کی نتیجے میں اٹھایا اور اب ان کا اس تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ملا نذیر احمد نے وانا کے مغرب میں مارچ میں کئی ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد اعظم ورسک، کلوشہ اور شین ورسک کے علاقوں سے سینکڑوں غیرملکیوں کو جن میں اکثریت ازبکوں کی بتائی جاتی ہے بیدخل کر دیا تھا۔

منصوبہ ساز
طالبان ذرائع نے الزام لگایا ہے کہ غیرملکیوں کو بیدخل کرنے کا منصوبہ پاکستانی فوج نے تیار کیا تھا جس کا مقصد بظاہر مغربی ممالک کو خوش کرنا تھا۔
اس لڑائی میں سرکاری ذرائع کے مطابق ڈھائی سو سے زائد غیرملکی اور ان کے حامی ہلاک ہوئے تھے تاہم طالبان ذرائع نے اس تعداد کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے لگ بھگ ایک درجن افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

طالبان ذرائع نے الزام لگایا ہے کہ غیرملکیوں کو بیدخل کرنے کا منصوبہ پاکستانی فوج نے تیار کیا تھا جس کا مقصد بظاہر مغربی ممالک کو خوش کرنا تھا۔

بتیس سالہ ملا نذیر احمد کو گزشتہ برس طالبان قیادت نے ہی جنوبی وزیرستان میں امیر مقرر کیا تھا۔ لیکن اب طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ غیرملکیوں کی ہلاکت میں ملوث ہونے کی وجہ سے وہ ان کے لیئے ناقابل برداشت ہوچکے تھے۔

ملا نذیر سے گزشتہ دنوں ان کے اس لڑائی کے بعد طالبان سے روابط سے متعلق جب بی بی سی نے سوال کیا تھا تو انہوں نے اس کا جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے طالبان کا یہاں کے حالات سے کوئی تعلق نہیں۔

طالبان کے اس اقدام سے واضح ہے کہ ان میں غیرملکیوں کے خلاف کارروائی کے مسئلے پر اختلافات تھے۔ ملا نذیر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پاکستان کے علاوہ افغانستان کی بھی شہریت ہے اور وہ قندہار میں جائیداد کے مالک بھی ہیں۔

اب واضح نہیں کہ طالبان کے اس اعلان کے بعد ملا نذیر کی افغانستان آمد و رفت ممکن ہوسکے گی یا نہیں۔

ملا نذیر افغانستان کے طالبان کے ساتھ ماضی میں تخار اور قندوز کے علاقوں میں شمالی اتحاد کے خلاف جنگ میں حصہ لے چکے ہیں۔ تاہم ان کا موقف رہا ہے کہ انہوں نے کبھی اسامہ بن لادن، ملا محمد عمر یا کسی اور اہم القاعدہ رہنما سے ملاقات نہیں کی ہے۔

ملا نذیر سے وانا میں ٹیلفون کی خرابی کی وجہ سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد