داد اللہ دفن، ایک مغوی قتل، چار رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے مقتول کمانڈر ملا داداللہ کی لاش کے بدلے میں چار افغان اہلکاروں کو رہا کردیا ہے، تاہم افغان حکومت نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ طالبان نے دو ماہ قبل محمکمہ صحت کے ایک ڈاکٹر، تین ڈسپنسرز اور ان کے ڈرائیور کو ژڑی ولسوالی سے اس وقت اغواء کرلیا تھا جب وہ ایک کیمپ میں بچوں کو ویکسین کے قطرے پلا رہے تھے۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف نےافغانستان کے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی کو بتایا کہ افغان حکام نے ملا داد اللہ کی لاش بدھ کی رات کوموسیٰ قلعہ کے کجکی ولسوالی میں ان کے حوالے کردی تھی جس کے جواب میں انہوں نے چار اہلکاروں کو رہا کر دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نےگزشتہ روز مغویوں میں سے ایک ڈسپنسر کو ہلاک کر دیا تھا کیونکہ بقول ان کے افغان حکومت نے وعدے کے برخلاف مقرر وقت پر ملا داد اللہ کی لاش ان کے حوالے نہیں کی تھی۔ قاری یوسف کے مطابق ملا داداللہ کو جمعرات کو علی الصبح قندہار شہر سے سات کلومیٹر دور پرانے قندہار نامی علاقے میں واقع میاں صاحب کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا تدفین کے وقت طالبان کا کوئی اہم رہنما موجود تھا یا نہیں۔ اس سلسلے میں افغان حکام سے بارہا رابطے کی کوشش کی گئی مگر کامیابی نہیں ہوئی تاہم قندہار کے مقامی حکام نے بی بی سی پشتو کو بتایا ہے کہ وہ اس سلسلے میں سردست کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔ واضح رہے کہ افغان صدر حامد کرزئی نے حکم دیا تھا کہ قندہار سے اغوا ہونے والے محکمہ صحت کے پانچ اہلکاروں کے بدلے میں ملا داد اللہ کی لاش دے دی جائے۔ گزشتہ ماہ مارے جانے والے طالبان کمانڈر ملا داد اللہ پر الزام تھا کہ وہ افغانستان میں کئی بم دھماکوں، اغوا کی وارداتوں اور مغویوں کے سر قلم کرنے کے واقعات میں ملوث تھے۔ اس سے قبل طالبان کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ حکومت ان کے کچھ قیدیوں کو رہا کرے تاہم بعد میں وہ مغویوں کو ملا داد اللہ کی لاش کے بدلے میں رہا کرنے پر رضامند ہو گئے تھے۔ |
اسی بارے میں ہلمند: چینوک تباہ، سات فوجی ہلاک30 May, 2007 | آس پاس طالبان: تین افغانیوں کو پھانسی01 April, 2007 | آس پاس ملا داد اللہ کو ہلاک کر دیا گیا13 May, 2007 | آس پاس ’نہیں ملا داد اللہ گرفتار نہیں ہوئے‘22 May, 2006 | آس پاس چھ طالبان شدت پسند’ہلاک‘30 May, 2007 | آس پاس ملا داد اللہ کون ؟19 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||