ملا داد اللہ کو ہلاک کر دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کے فوجی کمانڈر ملا داد اللہ کو ملک کے جنوبی علاقے میں ایک لڑائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔ افغان خفیہ ادارے کے ترجمان کے مطابق ان کی ہلاکت افغان اور مغربی افواج کے ایک مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں عمل میں آئی۔ ملا داد اللہ کی لاش کو قندھار لے جایا گیا ہے جہاں بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے بھی ان کی لاش دیکھی ہے۔ ادھر ملا داد اللہ کے ترجمان شہاب الدین اتل نے بی بی سی اردو سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ ملا داد اللہ کی ہلاکت کی خبر افغان اور امریکی پروپیگنڈہ ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی ملا داد اللہ کی ہلاکت یا گرفتاری کی جھوٹی خبریں آتی رہی ہیں اس لیے افغان حکام نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کے لیے لاش دکھانے کا فیصلہ کیا۔ ملا داد اللہ نے حال ہی میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے پاس سینکڑوں خودکش بمبار ہیں جو ان کے حکم پر افغانستان میں موجود غیر ملکی فوجیوں کے خلاف آپریشن کر سکتے ہیں۔ ملا داد اللہ کا تعلق جنوبی افغانستان میں ہونے والی اغواء کی حالیہ وارداتوں سے بھی جوڑا جاتا رہا ہے۔ ہرات میں بی بی سی کے الیسٹر لیتھ ہیڈ کے مطابق ملا داد اللہ کی جانب سے غیرملکیوں کے سر قلم کیے جانے کی ویڈیوز بھی جاری کی جاتی رہی ہیں۔ ملا داد اللہ سنہ 2001 میں افغانستان میں امریکی کارروائی کے آغاز سے قبل طالبان کی دس رکنی رہنما کونسل کے رکن تھے۔ نیٹو حکام کی جانب سے انہیں’ افغانستان کا سب سے بڑا طالبان کمانڈر‘ قرار دیا جاتا تھا اور ان کا نام امریکہ کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں بھی شامل تھا۔ | اسی بارے میں ’طالبان ہتھیار تیار کر سکتے ہیں‘03 March, 2007 | آس پاس ’نہیں ملا داد اللہ گرفتار نہیں ہوئے‘22 May, 2006 | آس پاس طالبان رہنما ملا داد اللہ ’گرفتار‘19 May, 2006 | آس پاس ملا داد اللہ کون ؟19 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||