BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 June, 2007, 20:03 GMT 01:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹانک:حکومت اور طالبان کا اکھاڑا

ٹانک
تناؤ کی وجہ سے شہر میں کئی مرتبہ کرفیو نافذ ہوا
ایک وقت تھا جب دو بڑی عالمی طاقتوں یعنی امریکہ اور روس نے اپنی جنگ افغانستان میں لڑی تھی۔ تقریباً یہی صورتحال آج کل قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے ساتھ سرحد پر واقع صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ٹانک میں دیکھنے کو مل رہی ہے جوحکومت اور قبائلی طالبان کے درمیان ایک اکھاڑے کا کام دے رہا ہے۔

اس قصبے میں ہلاکتوں اور کرفیو کے بعد بھی حالات پوری طرح معمول پر نہیں آئے۔ تناؤ کی وجہ سے شہر میں کئی مرتبہ کرفیو نافذ ہوا اور رات کا غیراعلانیہ کرفیو تو اب بھی جاری ہے۔

ایسے حالات میں زندگی کی رمک دمک ویسی نہیں جیسی ہونی چاہیے۔ شہر کا ایک اہم سالانہ تہوار پیر صابر شاہ بابا قادریہ کا عرس ہے۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ ہر سال کراچی اور ملتان جیسے دور دراز علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند عرس میں شرکت کے لیے آتے ہیں۔ لیکن اس سال نہیں آئے۔

مزار میں داخل ہوئے تو ایک کھلے میدان میں بڑے سی کڑاھی میں پکے چاول تقسیم ہو رہے تھے۔ اردگرد چند بچے مٹی کے تھال اٹھائے للچائی ہوئی نظروں سے چاولوں کی جانب دیکھ رہے تھے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ لنگر کی اس تقسیم کے موقع پر ویسی گہماگہمی نہیں جیسی کہ ہوا کرتی تھی۔

مزار کے خلیفہ عصمت اللہ خان نے کہا ’ اگرحالات معمول پر ہوتے تو اس شور میں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی۔ ایک دن میں تیس من چاول پکتا لیکن آج صرف چار من تقسیم ہوا۔ اس زیارت کی پچاس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ عرس نہیں ہو رہا۔ اس وجہ سے اس سال عقیدت مند کم آئے‘۔

میلہ ٹھیلا بھی نہیں لگا۔ ٹانک کے ایک نوجوان سیف الرحمان کا کہنا تھا کہ اس سال عرس کا وہ مزہ نہیں جو پہلے ہوتا تھا۔ ’پہلے ڈھول تماشے ہوتے تھے۔ کبڈی اور میچ ہوتے تھے لیکن اب یہ سب کچھ نہیں ہے‘۔

ٹانک
لنگر کی اس تقسیم کے موقع پر ویسی گہماگہمی نہیں جیسی کہ ہوا کرتی تھی

عرس کے منتظمین اس لیے بھی زیادہ احتیاط کر رہے ہیں کیونکہ طالبان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ پیر فقیر کو نہیں مانتے۔

آج کل ٹانک اور بنوں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ایک اکھاڑہ بنے ہوئے ہیں۔ اکثر شہری اس تمام صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر جبکہ چند طالبان پر ڈالتے ہیں۔

ٹانک کے ایک شہری نور جان ملک نے اس صورتحال کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھرایا۔’یہ سب حکومت کرا رہی ہے تاکہ باہر سے مزید رقم ہتھیا سکے‘۔ ان کو تو ان خطرات سے اتنا خوف تھا کہ وہ ملک کے ٹوٹ جانے کے خدشے کا اظہار بھی کر رہے تھے۔

ایک اور شہری نعمت اللہ کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے ذمہ دار حکومت اور طالبان دونوں ہیں جس کی وجہ سے غریب لوگ پس رہے ہیں۔ ’غریبوں کی تعلیم، کاروبار اور زندگی سب کچھ متاثر ہوا ہے‘۔

بھرے بازار میں جب وہ یہ کہہ رہا تھا تو ایک شخص اس پر یہ جملہ کستا ہوا نکل گیا کہ اس بارے میں وہ طالبان کو بتائے گا۔ شہر میں شاید یہی وجہ ہے کہ کم لوگ اس بارے میں کم ہی بات کرنے کو تیار ملے۔

 یہ شہر وزیرستان کا گیٹ وے ہے لہذا وہاں کے حالات کا یہاں اثر ضرور ہوتا ہے۔
ادریس خان

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹانک میں صورتحال کی خرابی کے ذمہ دار وزیرستان کے شدت پسند ہیں۔ ان کا ردعمل لینے طالبان کے ایک کمانڈر حاجی عمر کے پاس پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے ساتھ فٹبال کھیل رہے ہیں یعنی ان کے خلاف قبائلی علاقوں میں جو کارروائیاں کی جا رہی ہیں ان کا جواب قبائلی دیگر علاقوں میں دیتے ہیں۔

حاجی عمر نے واضح کر دیا کہ اگر بقول ان کے قبائلی علاقوں سے متعلق حکومت کی پالیسی تبدیل نہ ہوئی یہ سب کچھ ہوتا رہے گا۔

ٹانک میں جو کچھ ہو رہا ہے اگر وہ شدت پسندوں کا غصہ ہے تو اس کے لیے انہوں نے پولیس کو ہی چنا ہے۔ انہیں پر حملے ہوتے ہیں، انہیں کا اغوا ہوتا ہے اور انہیں کو زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ٹانک کے ڈی ایس پی ادریس خان
شہر کے ہر آنے جانے والے راستے پر اضافی نفری اور چوکیاں قائم کر دی ہیں

ٹانک کے ڈی ایس پی ادریس خان نے بتایا کہ یہ شہر وزیرستان کا گیٹ وے ہے لہذا وہاں کے حالات کا یہاں اثر ضرور ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ انہوں نے شہر کے ہر آنے جانے والے راستے پر اضافی نفری اور چوکیاں قائم کر دی ہیں جس کی وجہ سے طالبان کی کارروائی کا امکان کم ہوگیا ہے۔

امن کی ایک امید مقامی قبائل کا امن جرگہ بھی ہے جو اپنے طور پر کوششیں کر رہا ہے۔

مقامی حکام اور پولیس نے شہر کے گرد سکیورٹی سخت کر دی ہے، نئی چوکیاں قائم کی گئی ہیں اور مقامی امن جرگہ پائیدار امن کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ لیکن حالات ابھی بھی کشیدہ ہیں۔

خدشہ ہے کہ مزید حکومتی کمزوری اس شہر کو پل بھر میں قبائلی علاقے میں تبدیل کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد