’وزیرستان :امن معاہدہ خطرے میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے کہاہے کہ حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان ستمبر دو ہزار چھ میں ہونے والا امن معاہدہ ٹوٹنے کے قریب ہے ۔ طالبان کے مطابق امن معاہدہ ٹوٹنے کی صورت میں حکومت اور عوام دونوں کو ایک نئی جنگ کا سامنا ہوگا۔ مولانا گل رمضان نے مقامی طالبان کمانڈرگل بہادر کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی طالبان کا کہنا ہے کہ ستمبر دوہزار چھ میں ہونے والے امن معاہدے میں حکومت کےساتھ یہ طے پایا تھا کہ شمالی وزیرستان میں فوج کی نئی چوکیاں قائم نہیں کی جائیں گی اور امن معاہدے کے بعد خالی کی گئی چوکیوں میں فوج دوبارہ نہیں آئے گی۔ لیکن مقامی طالبان کی شکایت ہے کہ کچھ دنوں سے حکومت نے شمالی وزیرستان کے بعض علاقوں میں فوج کو دوبارہ تعینات کر دیا ہے ۔جن میں شوال،گورویک ، دوتوائی، اور کمال خیل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان کا امن معاہدہ گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی اور قبائلی گرینڈ جرگے کی کوششوں سے عمل میں آیا تھا۔ لیکن کچھ دنوں سے حکومت کی طرف سےایسے اشارے ملے رہے ہیں جن کے سبب امن معاہدہ ٹوٹ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے امن کمیٹی بھی اس لیے ٹوٹ گئی تھی کیونکہ حکومت نے تین مقامات پر امن کمیٹی کے مشورے کے بغیر کارروائی کی جس میں کئی بے گناہ مارے گئے اور حکومت کے خلاف لوگوں کے غصہ میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اتوار کو میرانشاہ میں ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو مشورہ دیا کہ حکومت کی جانب سے امن معاہدہ توڑنے کی کوشش نہ کی جائےکیونکہ شمالی وزیرستان کے قبائل امن معاہدے کی مکمل پاسداری پر عمل پیرا ہیں۔ البتہ حکومت افغان بارڈر کو مضبوط کرے اور مزید فوج تعینات کرے جس پر مقامی طالبان کو کوئی شکایت نہیں۔ شمالی وزیرستان میں طالبان کے مطابق نئی چوکیاں قائم کرنے پر جب ائی ایس پی ار کے کرنل عتیق سے رابط کیا تو انہوں نے کچھ بتانے سے گریز کیا۔ گل رمضان نے یہ بھی بتایا کہ حکومت مقامی طالبان کو اعتماد لیے بغیر متاثرین کو معاوضہ دے رہی ہے ۔جس میں متاثرین کم اور من پسند لوگ زیاد شامل ہیں۔ یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں ایک ہفتہ پہلے پولیٹکل انتظامیہ نے ایک جرگے کو بتایا تھا کہ شمالی وزیرستان کے بعض علاقوں میں غیر ملکی شرپسند چھپے ہوئے ہیں جن کو علاقے سے بےدخل کرنا علاقے کی لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اس پر جمعہ کو شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی میں عمائدین کا جرگہ بھی ہوا تھا لیکن یہ بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوا۔اور یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ وانا سے کافی تعداد میں غیر ملکی ازبک شمالی وزیرستان میں آگئے ہیں۔ | اسی بارے میں ٹانک:حکومت اور طالبان کا اکھاڑا06 June, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان کی امن کمیٹی مستعفی24 May, 2007 | پاکستان ’لال مسجد پر حملہ ہوا تو ردعمل وزیرستان سے‘27 May, 2007 | پاکستان وزیرستان: چار’جنگجو‘ ہلاک22 May, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان: مغوی اہلکار رہا23 May, 2007 | پاکستان پی اے خیبر کے گھر پر حملہ، تیرہ ہلاک31 May, 2007 | پاکستان باجوڑ میں بم دھماکہ، پانچ ہلاک02 June, 2007 | پاکستان پاک افغان سرحد پر جھڑپیں، ہلاکتیں17 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||