BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 May, 2007, 06:22 GMT 11:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی وزیرستان: مغوی اہلکار رہا

وزیرستان (فائل فوٹو)
اہلکاروں کی بازیابی کے لیے پولیٹیکل انتظامیہ امن کمیٹی میرانشاہ سے مسلسل رابطے میں تھی (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے محکمہ بہبودِ آبادی کے اغواء کیے جانے والے آٹھ اہلکاروں کو رہا کردیا گیا ہے اور وہ بنوں سرکٹ ہاؤس سے پولیس کی گاڑی میں پشاور روانہ ہوگئے ہیں۔

پولیٹیکل انتظامیہ شمالی وزیرستان کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی صبح قبائلی جرگے نے تمام اہلکاروں کو بنوں سرکٹ ہاؤس پہنچا دیا اور بنوں سے ایک پولیس کی گاڑی میں ان افراد کو پشاور روانہ کردیا گیا ہے۔

تاہم جرگے نے یہ نہیں بتایا کہ اغواء کار کون تھے اور ان افراد کو کس مقصد کے لیے اغواء کیا گیا تھا۔

محکمۂ بہبود آبادی کے اغواء کیے جانے والے اہلکاروں کی بازیابی کے لیے پولیٹیکل انتظامیہ، امن کمیٹی میرانشاہ سے مسلسل رابطے میں تھی۔

امن کمیٹی کے صدر گل رنضان نے بتایا تھا کہ مغویان محفوظ ہیں اور جلد رہا ہوجائیں گے اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

پولیٹیکل انتظامیہ اور امن کمیٹی یہ بتانے گریز کر رہے ہیں کہ اغواء کار کون تھے اور مغویوں کو چھڑانے میں جرگے والے کیسے کامیاب ہوگئے ہیں۔

پولیٹیکل انتظامیہ کے اعلیٰ حکام جرگے کے ممبران کے نام بتانے اور کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اغواء کیے جانے والے اہلکاروں کو کسی ذاتی معاملے میں اغواء کیا گیا تھا اور جرگے کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ ان کو ایف آر بنوں کے علاقہ آزاد منڈی میں چھوڑ دیا گیا جہاں سے وہ خود بنوں سرکٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ انیس مئی کو نامعلوم افراد نے محکمہ بہبود آبادی کے آٹھ اہلکاروں پر مشتمل ایک ٹیم کو اغواء کر لیا تھا۔اغواء ہونے والوں میں تین خواتین بھی شامل تھیں۔

حکام نے بتایا تھا کہ محکمہ بہبود آبادی کے یہ اہلکار بنوں سے میرانشاہ سے جا رہے تھے کہ نامعلوم نقاب پوشوں نے تحصیل میر علی کے گاؤں ناوراک کے قریب انہیں اسلحہ کے زور پر اغواء کر لیا تھا۔ اغواء کے موقع پر اہلکاروں کے ساتھ خاصہ دار فورس اور پولیٹیکل انتظامیہ کے اہلکار بھی موجود تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق اغواء کاروں کی تعداد ایک سو سے زائد تھی۔ بعد میں خاصہ دار فورس سےاسلحہ چھین لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد