BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 May, 2007, 17:03 GMT 22:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: حکومت سے تعاون ختم

 وانا آپریشن کی فائل فوٹو
’کارروائی میں چار بچوں کو جن کی داڑھیاں بھی نہیں آئی تھیں شہید کیا گیا ہے‘ امن کمیٹی
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امن کمیٹی نے منگل کی فوجی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے آئندہ حکومت سے تعاون ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امن کمیٹی کے اراکین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں نے یہ کارروائی جلد بازی سے کام لیتے ہوئے کی جن میں بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔


امن کمیٹی گزشتہ برس ستمبر میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد تشکیل دی گئی تھی جس کا مقصد سمجھوتے کی خلاف ورزی کو روکنا اور فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا تھا۔

اتمانزئی وزیر قبیلے کے سربراہ اور امن کمیٹی کے رکن ملک نصر اللہ خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے انہیں دھوکہ دیا ہے اور جس وقت وہ زرگرخیل گاؤں کے لوگوں سے بات چیت میں مصروف تھے تو فوج نے کارروائی شروع کر دی۔

انہوں نے حکومت کے اس مؤقف کی نفی کی کہ اس گاؤں میں کوئی تربیتی کیمپ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کارروائی میں چار بچوں کو جن کی داڑھیاں بھی نہیں آئی تھیں شہید کیا گیا ہے‘۔

اس کمیٹی کے ایک اور رکن سینیٹر متین شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومت پر امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

مناسب مہلت نہیں
 ’معاہدے میں یہ بات واضع طور پر لکھی ہے کہ کسی بھی کارروائی سے قبل امن کمیٹی کو علاقے میں جانے کا مناسب وقت دیا جائے گا تاکہ وہ ضروری تحقیقات کرے اور اگر کوئی خرابی ہے تو اسے دور کیا جائے لیکن مناسب مہلت نہیں دی گئی

خود ان کے الفاظ میں ’معاہدے میں یہ بات واضع طور پر لکھی ہے کہ کسی بھی کارروائی سے قبل امن کمیٹی کو علاقے میں جانے کا مناسب وقت دیا جائے گا تاکہ وہ ضروری تحقیقات کرے اور اگر کوئی خرابی ہے تو اسے دور کیا جائے لیکن مناسب مہلت نہیں دی گئی‘۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی دیہاتیوں نے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی اور کہا تھا کہ اگر کوئی شدت پسند برآمد ہوا تو وہ اس کے ہاتھ باندھ کر دیں گے کہ فوجی ان کو لے جائیں۔ تاہم انہوں نے افسوس کیا کہ فوج نے جلدبازی سے کام لیا۔

اس فیصلے میں امن کمیٹی کے جو اراکین شامل ہیں ان میں ملک نصراللہ اور متین شاہ کے علاوہ ملک قادر خان، مولانا میر قاسم خان، ملک عنایت خان، ملک افضل، ملک بوستان، ملک عبدالقادر اور ملک معمور شامل ہیں۔

اس کارروائی کے بارے میں مقامی طالبان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم امن کمیٹی کے اعلان سے حکومت کے لیے شمالی وزیرستان میں صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

قبائلی علاقوں میں حملہواویلہ پھر خاموشی
باجوڑ کے بعد کس نے کیا کیا؟ عامر احمد خان
بے جوڑ کہانی
باجوڑ کی حکومتی کہانی میں جھول نمایاں ہیں
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
اسی بارے میں
باجوڑ کی عورتوں کی بے بسی
06 November, 2006 | پاکستان
باجوڑ: مقامی صحافی گرفتار
06 November, 2006 | پاکستان
باجوڑ: وکلاء کا حقائق کمیشن
05 November, 2006 | پاکستان
باجوڑ بمباری کے خلاف احتجاج
03 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد