شمالی وزیرستان کی امن کمیٹی مستعفی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پندرہ رکنی امن کمیٹی گزشتہ روز پاکستانی فوج کی جانب کیے جانے والے آپریشن کے خلاف بطوراحتجاج مستعفی ہوگئی ہے۔ امن کمیٹی کے ایک رکن ملک نصراللہ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن کمیٹی کے پندرہ ارکان نے متفقہ طور پر شمالی وزیرستان کے پولٹیکل ایجنٹ کواپنااستعفی پیش کردیاہے کیونکہ بقول انکے گزشتہ روز رزمک کے علاقے میں مقامی قبائل کے ساتھ امن کمیٹی کے کامیاب مذاکرات کے باوجود فوج نے بمباری کے دوران مبینہ طور پر چاربچوں کو ہلاک کردیاتھا۔ ملک نصراللہ نے مزید بتایا کہ فوجی آپریشن سے قبل پولٹیکل انتظامیہ نے امن کمیٹی کو آگاہ کیاتھا کہ انہیں رزمک کے علاقے گڈیوم زرگر خیل میں مبینہ دہشت گردوں کے ایک تر بیتی کیمپ کی اطلاع ملی ہے ۔ حکام نے امن کمیٹی سے درخواست کی کہ وہ علاقے کے لوگوں سے مذاکرات کرکے انہیں تربیتی کیمپ ختم کرنے پر آمادہ کردیں۔ انکے بقول امن کمیٹی نے گاؤں کے لوگوں سے بات چیت کی مگر مقامی افراد نے وہاں کسی بھی تربیتی کیمپ کے قیام سے انکار کرتے ہوئے پیشکش کی کہ اگر حکومت نے وہاں تربیتی کیمپ اور مبینہ دہشت گردوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تو وہ تعاون کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ملک نصراللہ نے دعوی کیا کہ ’جب ہم نے کامیاب مذاکرات کے بعد تمام صورتحال فوجی افسران اور پولٹیکل انتظامیہ کے سامنے رکھی توانہوں نے ہماری بات ماننے سے انکار کردیا اور دس منٹ کے بعد جنگی ہیلی کاپٹروں نے گاؤں پر بمباری شروع کردی جس میں وہاں کھیل کھود میں مصروف چار بے گناہ بچے ہلاک ہوگئے‘۔ واضح رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے گزشتہ پیر کو کہاتھا کہ شمالی وزیرستان کے گڈیوم زرگر خیل میں فوجی ہیلی کاپٹروں نےمبینہ دہشت گردوں کی زیر استعمال ایک تربیتی کیمپ پر بمباری کی ہے جس میں چار غیر ملکوں کو ہلاک کیا گیاہے۔ امن کمیٹی کے رکن نے ملک نصراللہ نےمزید بتایا کہ حکومت نے انکے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے اور اب کسی بھی صورت میں استعفی واپس نہیں لیاجائے گا۔تاہم انہوں نے کہا کہ وہ علاقے کے وسیع تر مفاد میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کو بر قرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اس سلسلے میں حکومت مؤقف جاننے کے لیے شمالی وزیرستان کے حکام سے بارہا رابطے کی کوشش کی گئی مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔ واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں امن کمیٹی کا قیام پچھلے سال ستمبر میں عمل میں لایا گیاتھا اور کمیٹی نے طالبان اور حکومت کے درمیان امن معاہدہ پر دستخط اور بعد میں دونوں فریقین سے معاہدے کی پاسداری کروانے کے سلسلے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ |
اسی بارے میں باجوڑکے زخمی نامعلوم جگہ منتقل06 November, 2006 | پاکستان باجوڑ کی عورتوں کی بے بسی06 November, 2006 | پاکستان باجوڑ: مقامی صحافی گرفتار06 November, 2006 | پاکستان باجوڑ: وکلاء کا حقائق کمیشن 05 November, 2006 | پاکستان باجوڑ اور سرحد میں احتجاج جاری04 November, 2006 | پاکستان باجوڑ اور سرحد میں احتجاج جاری03 November, 2006 | پاکستان باجوڑ بمباری کے خلاف احتجاج03 November, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||