BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 May, 2007, 17:56 GMT 22:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی وزیرستان کی امن کمیٹی مستعفی

 وانا آپریشن کی فائل فوٹو
جنگی ہیلی کاپٹروں کی بمباری کھیل کھود میں مصروف چار بے گناہ بچے ہلاک ہوگئے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پندرہ رکنی امن کمیٹی گزشتہ روز پاکستانی فوج کی جانب کیے جانے والے آپریشن کے خلاف بطوراحتجاج مستعفی ہوگئی ہے۔

امن کمیٹی کے ایک رکن ملک نصراللہ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن کمیٹی کے پندرہ ارکان نے متفقہ طور پر شمالی وزیرستان کے پولٹیکل ایجنٹ کواپنااستعفی پیش کردیاہے کیونکہ بقول انکے گزشتہ روز رزمک کے علاقے میں مقامی قبائل کے ساتھ امن کمیٹی کے کامیاب مذاکرات کے باوجود فوج نے بمباری کے دوران مبینہ طور پر چاربچوں کو ہلاک کردیاتھا۔


ملک نصراللہ نے مزید بتایا کہ فوجی آپریشن سے قبل پولٹیکل انتظامیہ نے امن کمیٹی کو آگاہ کیاتھا کہ انہیں رزمک کے علاقے گڈیوم زرگر خیل میں مبینہ دہشت گردوں کے ایک تر بیتی کیمپ کی اطلاع ملی ہے ۔ حکام نے امن کمیٹی سے درخواست کی کہ وہ علاقے کے لوگوں سے مذاکرات کرکے انہیں تربیتی کیمپ ختم کرنے پر آمادہ کردیں۔

انکے بقول امن کمیٹی نے گاؤں کے لوگوں سے بات چیت کی مگر مقامی افراد نے وہاں کسی بھی تربیتی کیمپ کے قیام سے انکار کرتے ہوئے پیشکش کی کہ اگر حکومت نے وہاں تربیتی کیمپ اور مبینہ دہشت گردوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تو وہ تعاون کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

استعفے واپس نہیں لیں گے
 حکومت نے وعدہ خلافی کی ہے اور اب کسی بھی صورت میں استعفے واپس نہیں لیے جائیں گے تاہم حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کو بر قرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے

ملک نصراللہ نے دعوی کیا کہ ’جب ہم نے کامیاب مذاکرات کے بعد تمام صورتحال فوجی افسران اور پولٹیکل انتظامیہ کے سامنے رکھی توانہوں نے ہماری بات ماننے سے انکار کردیا اور دس منٹ کے بعد جنگی ہیلی کاپٹروں نے گاؤں پر بمباری شروع کردی جس میں وہاں کھیل کھود میں مصروف چار بے گناہ بچے ہلاک ہوگئے‘۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے گزشتہ پیر کو کہاتھا کہ شمالی وزیرستان کے گڈیوم زرگر خیل میں فوجی ہیلی کاپٹروں نےمبینہ دہشت گردوں کی زیر استعمال ایک تربیتی کیمپ پر بمباری کی ہے جس میں چار غیر ملکوں کو ہلاک کیا گیاہے۔

امن کمیٹی کے رکن نے ملک نصراللہ نےمزید بتایا کہ حکومت نے انکے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے اور اب کسی بھی صورت میں استعفی واپس نہیں لیاجائے گا۔تاہم انہوں نے کہا کہ وہ علاقے کے وسیع تر مفاد میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کو بر قرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

اس سلسلے میں حکومت مؤقف جاننے کے لیے شمالی وزیرستان کے حکام سے بارہا رابطے کی کوشش کی گئی مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔

واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں امن کمیٹی کا قیام پچھلے سال ستمبر میں عمل میں لایا گیاتھا اور کمیٹی نے طالبان اور حکومت کے درمیان امن معاہدہ پر دستخط اور بعد میں دونوں فریقین سے معاہدے کی پاسداری کروانے کے سلسلے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

قبائلی علاقوں میں حملہواویلہ پھر خاموشی
باجوڑ کے بعد کس نے کیا کیا؟ عامر احمد خان
بے جوڑ کہانی
باجوڑ کی حکومتی کہانی میں جھول نمایاں ہیں
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
اسی بارے میں
باجوڑ کی عورتوں کی بے بسی
06 November, 2006 | پاکستان
باجوڑ: مقامی صحافی گرفتار
06 November, 2006 | پاکستان
باجوڑ: وکلاء کا حقائق کمیشن
05 November, 2006 | پاکستان
باجوڑ بمباری کے خلاف احتجاج
03 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد