’لال مسجد پر حملہ ہوا تو ردعمل وزیرستان سے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس جدوجہد میں وہ تنہا ناصرف اپنی علماء برادری بلکہ حکومت کی شدید ناراضگی کا سامنا کر رہا ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ابتداء کی مزاحمت کے مقابلے میں اب ان کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلام آباد کی مرکزی لال مسجد کے برطرف خطیب مولانا محمد عبدالعزیز پہلی ملاقات میں کافی دلچسپ شخصیت دکھائی دیے۔ میں پولیس کے دو یرغمال بنائے گئے اہلکاروں سے مسجد کے احاطے میں انٹرویو لینے میں مصروف تھا کہ ایک شخص چپکے سے قریب آ کر بیٹھ گیا اور سوال و جواب سننے لگا۔ ان کو پہلے نہیں دیکھا تھا لیکن ایک رات قبل ایک نجی ٹی وی چینل پر ان کا انٹرویو دیکھا جس میں ان کی شکل تو نہیں دکھائی گئی تاہم ایک طرف سے جزوی دکھایا گیا تھا۔ اس شخص کو دیکھا تو یقین ہوا کہ یہی حکومت کو کئی مقدمات میں مطلوب مولانا محمد عبدالعزیز ہیں۔ انٹرویو روکتے ہوئے ان سے مصافحے کے لیے ہاتھ آگے کیا تو وہ اور وہاں موجود طلبہ قدرے حیران ہوئے۔ میں لال مسجد آیا تو پولیس اہلکاروں سے بات چیت کے لیے تھا تاہم مولانا کی خواہش پر اور اپنی معلومات میں اضافے کے لیے ان سے بھی بات کی۔
مولانا محمد عبداللہ کے بڑے بیٹے ہونے کے ناطے ان کا تعلق دیوبندی سوچ سے ہے۔ وہ گزشتہ برس عید الفطر کے قریب کچے کے علاقے میں تھے جہاں انہوں نے ایک مقامی شخص کے ساتھ مل کر علاقے کے ایک بڑے ڈاکو کی سوچ تبدیل کی، اسے تائب کیا اور توبہ کروائی اور اس کے ذریعے دو دیگر ڈاکوں کو مروایا۔ اس کے بعد مولانا کے بقول باقی کے چھوٹے موٹے ڈاکو خود ہی سدھر گئے اور وہاں سکھ چین کا دور دورہ ہوا۔ کامیابی کے اسی فارمولے کو وہ اب لگ بھگ اسلام آباد میں آزما رہے ہیں۔ تاہم یہ معلوم نہیں کہ یہاں بڑا ’ڈاکو‘ وہ کس کو مانتے ہیں۔ اسی کو قابو میں کرنے کے بعد ان کی بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچے میں بھی ابتداء میں لوگ انہیں پاگل تصور کرنے لگے جو اپنی زندگی کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ لیکن جب ان کی پالیسی کامیاب ہونے لگی تو ان کے پیروکار پیدا ہونے شروع ہوگئے۔ انہوں نے بتایا: ’مجھ پر اسلام آباد میں بھی ابتداء میں لوگ شک کرتے تھے لیکن اب تک کی کامیابی کو دیکھ کر میرے قریب آ رہے ہیں‘۔ جامیہ بنوری، کراچی سے فارغ التحصیل مولانا محمد عبدالعزیز سے حکومت نے لال مسجد کے خطیب کا عہدہ انیس سو پچانوے میں اس فتوی کے بعد واپس لے لیا تھا جب ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں مارے جانے والے فوجی شہید نہیں ہیں۔ مولانا کے والد مولانا عبداللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فوجی آمر ضیاءالحق کے کافی قریب تھے۔ جہاد کے بارے میں ان کی مدلل تقاریر کی وجہ سے انہیں کافی پسند کیا جاتا تھا۔
افغانستان کی طالبان تحریک کے سربراہ ملا محمد عمر اور ان میں دو باتیں کافی مشترک ہیں۔ ایک تو دونوں کی تصاویر کی مخالفت اور دوسرا ’سخت‘ اسلامی نظام کے قیام کے لیے ان کی خواہش۔ ان میں اور قبائلی علاقوں خصوصا وزیرستان کے مقامی طالبان میں بھی کوئی زیادہ فرق محسوس نہیں ہوا۔ مسجد میں لاٹھیوں کے تو دو چار انبار دیکھے ہی لیکن کلاشنکوف سے مسلح کئی محافظ بھی نظر آئے۔ ایک تو شکل و صورت سے ازبک بھی دکھائی دیا لیکن اس کی کسی سے تصدیق کرانے کی ہمت نہیں کی۔ مسجد اور مدرسہ حفصہ کے یہ منتظمین خود اقرار کر چکے ہیں کہ ان کے اکثر طلبہ کا تعلق صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں کے دینی اعتبار سے قدامت پسند علاقوں سے ہے۔ مولانا کا اصل ہتھیار شاید ان ہی علاقوں کے لوگ ہیں۔ ان خطوں کے لوگوں اور مدارس سے ان کے روابط کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ وہ بڑے پراعتماد طریقے سے کہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے حملہ لال مسجد پر ہوگا لیکن اس کا ردعمل کوہستان، دیر اور وزیرستان جیسے علاقوں سے سامنے آئے گا۔ بعض لوگوں کے مطابق یہی خوف حکومت کو شاید کسی کارروائی سے دور رکھے ہوئے ہے۔ مولانا محمد عبدالعزیز بھی ملک میں جاری شدت پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر کا ایک حصہ ہیں۔ وہ قدرے جوان ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ حکومت سے اپنی صلاحیتوں کی برکت اچھے طریقے سے ڈیل کر سکتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں طالبائزیشن نہیں روک سکی تو وفاقی دارالحکومت بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہونا چاہیے۔ پھر ان کی ایک صلاحیت کا قائل میں بھی ہوا ہوں اور وہ ہے ’ڈپلومیسی‘۔ جب بھی بات آگے بڑھتی نظر نہیں آئی انہوں نے ’بیک فٹ‘ پر جانے میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔ لال مسجد میں دو جبکہ مدرسہ فریدیہ میں تین پولیس اہلکاروں کی رہائی اس بات کی واضع مثالیں ہیں۔ جنوری سے جاری کشیدگی میں وقتا فوقتا اضافہ اور کمی نہ صرف حالات بلکہ خطرات کو بھانپتے ہوئے کی جاتی ہے۔
مولانا کو اس میں بھی کوئی اعتراض نہیں کہ انہوں نے اپنی تحریک ایک ایسے وقت شروع کی ہے جس کا فائدہ حکومت کو ہونا ہو صدر جنرل پرویز مشرف کو متوقع صدارتی انتخاب میں ضرور ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کا کوئی غرض نہیں لیکن انہیں نہیں معلوم کہ اس سے ان کو بھی عام لوگ متحدہ مجلس عمل کی طرح صدر کی ’بی‘ ٹیم کی کیٹگری میں ڈال رہے ہیں۔ وہ ان جیسے طالبان طرز کے رہنماؤں کی موجودگی سے مغربی ممالک کی آنکھوں میں اپنی اہمیت برقرار رکھ سکتے ہیں۔ حکومت تو شاید اپنی کسی مصلحت کی وجہ سے انہیں برداشت کر رہی ہے لیکن ان کی منزل کی راہ میں بڑی روکاوٹ اس ملک کی عوام کی اکثریت ہے۔ وہ ابھی شاید ان کے خیالات سے متفق نہیں ہیں۔ |
اسی بارے میں لال مسجد: کارروائی کا امکان بڑھ گیا20 May, 2007 | پاکستان لال مسجد: دو پولیس اہلکار رہا19 May, 2007 | پاکستان لال مسجد: پولیس اہلکار یرغمال18 May, 2007 | پاکستان لال مسجد :مذاکرات ختم16 May, 2007 | پاکستان لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات08 April, 2007 | پاکستان لال مسجد کی ویب سائٹ پر پابندی07 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||