لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے گزشتہ رات لال مسجد جاکر اس کی انتظامیہ سے بات چیت کی ہے۔ مسجد کے نائب امام غازی عبدالرشید نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ چودھری شجاعت حسین ایک وفد کے ہمراہ گزشتہ رات لال مسجد آئے تھے اور انہیں نے مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی۔ ’مولانا عبدالعزیر نے وفد کے سامنے اپنا موقف پیش کیا تھا اور چودھری شجاعت حسین نے ان کا موقف سننے کے بعد کہا تھا کہ وہ حکومت کا ردِعمل معلوم کر کے واپس لال مسجد آئیں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔” یاد رہے کہ حکومت اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان موجودہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب مولانا عبدالعزیز نے گزشتہ جمعے کو شریعت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لال مسجد میں نفاذ شریعت کے لیے شریعت کورٹ کے قیام کا بھی اعلان کیا تھا۔ حکومت کے اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے عبدالعزیز نےاس بات کا اعلان کیا کہ انصاف کی فراہمی کے لیے لال مسجد میں دس علماء پر مشتمل شریعت کورٹ قائم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے حکومت کو وڈیو کی دکانوں اور قحبہ خانوں کو بند کرنے کے لیے بھی ایک مہینے کی مہلت دی ہے اور ان کو بے حیائی کے اڈے قرار دیتے ہوئےکہا کہ اگر حکومت ان کو بند کروانے میں ناکام ہوئی تو ان کے طلبا ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ صدر پرویز مشرف نے گزشتہ روز ٹیکسلا میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ لال مسجد کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل کر لیا جائے گا۔ لال مسجد انتظامیہ سے ملاقات کے بعد چودھری شجاعت حسین نے امید ظاہر کی تھی کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کر لیا جائے گا۔ تاہم لال مسجد انتظامیہ کے غیر لچک موقف سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ حالات ابھی تک ’جوں کے توں” ہیں۔ |
اسی بارے میں خودکش حملوں کی دھمکی06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد کی ویب سائٹ پر پابندی07 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||