خودکش حملوں کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کی مرکزی لال مسجد کے عالم مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے لال مسجد پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی خودکش حملہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ انہوں نے نمازِ جمعہ کے موقع پر تقریبًا تین ہزار افراد کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے لال مسجد میں نفاذ شریعت کے لیے شریعت کورٹ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ لال مسجد سے متصل دینی مدرسہ جامعہ حفصہ کی نقاب پوش طالبات نے گزشتہ ہفتے بدکاری کے ایک مبینہ اڈے پر چھاپہ مار کرخواتین کو اغوا کر لیا تھا اور بعد میں مبینہ طور پر ’توبہ‘ کرنے پر انہیں چھوڑ دیا تھا۔ دینی مدرسے کے طلباء اور طالبات نے آبپارہ مارکیٹ میں واقع ویڈیو شاپس کے مالکان کو بھی تنبیہہ کی تھی کہ وہ ’عریانی اور فحاشی‘ پھیلانے کا سبب بننے والی سی ڈیز کی فروخت بند کردیں۔ حکومتی اہلکاروں نے ابھی تک مولانا عبدالعزیز یا ان کے طلبا اور طالبات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور کہا ہے کہ طاقت کا استعمال صرف مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا جائے گا۔
ان کے اس بیان کے ساتھ ہی باریش نوجوانوں نے اپنے ہتھیار اوپر اٹھا لیے اور جب عبدالعزیز صاحب نے مجمع سے پوچھا کہ ’ہمارا مقصد کیا ہے‘ تو انہوں نے ’جہاد جہاد‘ کے نعروں سے ان کا ساتھ دیا۔ حکومت کے اختیار کو کھلم کھلا چیلنج کرتے ہوئے عبدالعزیز نےاس بات کا اعلان کیا کہ انصاف کی فراہمی کے لیے لال مسجد میں دس علماء پر مشتمل شریعت کورٹ قائم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے حکومت کو وڈیو کی دکانوں اور قحبہ خانوں کو بند کرنے کے لیے بھی ایک مہینے کی مہلت دی ہے اور ان کو بے حیائی کے اڈے قرار دیتے ہوئےکہا کہ اگر حکومت ان کو بند کروانے میں ناکام ہوئی تو ان کے طلبا ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ | اسی بارے میں حفصہ کی طالبات کے خلاف مقدمات29 March, 2007 | پاکستان ’غیر شرعی ہے‘: ’قابلِ مذمت ہے‘30 March, 2007 | پاکستان ’خواتین کا اغواء، ایک سازش تھی‘31 March, 2007 | پاکستان ’بدکاری کے اڈے‘ پر طالبات کا چھاپہ28 March, 2007 | پاکستان ڈنڈے مار کر بیان دلوایا گیا: شمیم29 March, 2007 | پاکستان عبداللہ شاہ کی ضمانت 05 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||