BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 March, 2007, 15:26 GMT 20:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈنڈے مار کر بیان دلوایا گیا: شمیم

شمیم اختر
’لوگ اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے دروازہ توڑ کر گھر میں داخل ہوئے‘
جامعہ حفصہ کی طالبات سے رہائی پانے والی خاتون شمیم اختر کا کہنا ہے کہ لال مسجد کی انتظامیہ نے ان سے زبردستی اقبالی بیان دلوایا ہے۔

’جو کچھ مدرسے کی انتظامیہ نے مجھے لکھ کر دیا میں وہ پڑھنے پر مجبور تھی کیونکہ میری بیٹی اور بہو طالبات کے قبضے میں تھیں‘۔

مدرسہ جامعہ حفصہ میں مختصر سی پریس کانفرنس کے بعد جب وہ اپنی بہو اور بیٹی کے ساتھ گھر پہنچیں تو میڈیا کے لوگ بھی ان کا آزادانہ موقف جاننے کے لیے ان کے گھر پہنچ گئے۔

شمیم اختر نے کہا
 منہ میں کپڑا ٹھونسا اور رسی باندھ کر لےگئے۔اس طرح لے گئے جیسے کتے کو پکڑتے ہیں۔

پچپن سالہ خاتون شمیم جو کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں ان کو مدرسے کے طلبہ اور طالبات نے قحبہ خانہ چلانے کے الزام میں ایک دن قبل ان کی بہو، بیٹی اور چھ ماہ کی پوتی سمیت یرغمال بنا لیا تھا۔

شمیم اختر نے بتایا ’شام کے وقت ہم نے کھانا ابھی سامنے ہی رکھا تھا کہ یہ لوگ اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے دروازہ توڑ کر گھر میں داخل ہوگئے اور ہمیں سفید رنگ کی رسیوں سے باندھ کر ننگے پاؤں جانوروں کی طرح گھسیٹتے ہوئے مدرسہ لے گئے‘۔

 میری پوتی کی ٹانگیں کھینچیں۔ پانچ ماہ کی ہے میری پوتی

شمیم کا کہنا تھا کہ’مدرسہ پہنچ کر انہوں نے نعرے لگائے کہ شیعہ کافر کو پکڑ کر لائے ہیں اور پھر مدرسے کے ڈنڈا بردار طلبہ ان پر ٹوٹ پڑے۔انہوں نے کہا کہ تم شیعہ ہو ہمارے کشمیری مجاہدین کو رہائی دلوا دو۔ اس پر میں نے کہا میرے ہاتھ ابھی اتنے لمبے نہیں کہ میں تمہارے کشمیری مجاہدین رہا کرا سکوں‘۔

 اسلام ڈنڈے مارتا ہے، کیا اسلام میں مرد عورتوں کو لے جاتے ہیں ننگے سر؟

اپنے گھر کے ایک کمرے میں جب شمیم میڈیا سے بات کر رہیں تھیں توگھر کے اندر سے ایک لڑکی نے آواز دی ’امی واپس آجاؤ اگر دوبارہ اٹھا کر لے گئے تو کون رہا کرائے گا۔یہ لوگ مدرسے میں تو نہیں آ رہے تھے ۔جب ہم اپنی کوشش سے آزاد ہوئے ہیں تو ابھی یہ لوگ بھی آ پہنچے ہیں‘۔ اس لڑکی نے بار بار شمیم کو گھر کے دوسرے کمرے میں آنے کو کہا۔

میڈیا پر بظاہر اپنا غصہ اتارنے کے بعد انہوں نے کہا’اسلام آباد میں کوئی ایسا نہیں تھا جو ہمیں چھڑائے ۔ کتنی پولیس ہے اسلام آباد کی۔ سب نے ہمارے اغواء کے بعد چوڑیاں پہن رکھی تھیں۔کوئی نہیں بچانے آیا‘۔

 انہوں نے جو لکھ کر دیا کہا یہی سنانا ہے۔

طالبات کی طرف سے قحبہ چلانے کے الزام کے بارے میں انہوں نے کہا کہ آج تک کسی نے میرے گھر سے کسی کو اس طرح برہنہ نہیں دیکھا جس طرح یہ مدرسے والے بتا رہے ہیں۔ اہلیان محلے کی ان کے خلاف شہادتوں کے بارے میں شمیم نے کہا میرے محلے والے اتنے برے نہیں۔انہیں اگر کوئی شکایت ہوگی تو خود آ کر مجھ سے بات کریں گے۔

شمیم نے طالبات کے قبضے سے رہائی پانے کے بعد کہا کہ وہ اب بھی اسی محلے میں رہیں گی اور اپنے گھر کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گی۔

طالبات کا چھاپہآپ کیا کہتےہیں؟
اسلام آباد میں ’طالبات کا چھاپہ‘
طالبات کی کارروائی
اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی تصاویر
طالبات کی کارروائی
مدرسہ کی طالبات کا مبینہ بدکاری کے اڈے پر چھاپہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد