شمیم رہائی کے بعد بھی عدم تحفظ کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کے دینی مدرسے میں تین روز تک یرغمال رکھی جانے والی خواتین کو پولیس نےمحافظ مہیا کیے ہیں۔ اسلام آباد میں دینی مدرسے کی طالبات کے ہاتھوں تین روز تک یرغمال رہنے کے بعد رہائی پانے والی تین خواتین کی حفاظت کے لیے انتظامیہ نے پولیس محافظ فراہم کردیئے ہیں اور وہ اسلام آباد کا مکان چھوڑ کر راولپنڈی میں اپنے رشتہ دار کے پاس منتقل ہوگئیں ہیں۔ شمیم اختر کے بیٹے کامران مہدی نے بتایا کہ ان کی والدہ، بہن اور بیوی نفسیاتی مریض بن چکی ہیں اور ابھی تک خوفزدہ ہیں۔ ان کے مطابق مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے دوبارہ حراست میں لینے کی دھمکیوں کے بعد وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
کامران مہدی نے کہا کہ پولیس نے جب مقدمہ درج کرلیا ہے تو اب انہیں کارروائی بھی کرنی چاہیے۔ شمیم اختر نے گزشتہ روز جامعہ حفصہ سے رہائی پانے کے بعد الزام لگایا کہ ان کو یرغمال بنانے والی طالبات نے انہیں رسیوں سے باندھ کر گھسیٹا۔ طالبات کے ہاتھوں یرغمال بنائی گئی خاتون شمیم اختر نے اسلام آباد کے مرکز میں واقع لال مسجد میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ منگل کی رات کو جامعہ حفصہ کی تیس چالیس طالبات اور تیس چالیس طلبہ نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں ان کی بیٹی، بہو اور چھ ماہ کی پوتی کو رسیوں سے باندھ کر گھسیٹتے ہوئے لال مسجد لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس بدسلوکی پر انہوں نے مدرسے کی انتظامیہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر ان سے یہ سلوک جاری رکھا گیا تو وہ ترکِ اسلام کر کے عیسائی مذہب اختیار کر لیں گی۔
’میرے خیال میں اسلام کسی خاتون کو اس طرح سے مارنے پیٹنے اور رسیوں سے باندھ کر گلیوں میں گھسٹنے کی اجازت نہیں دیتا‘۔انہوں نے کہا کہ میری اس دھمکی پر ان سے ہونے والی بدسلوکی اور تشدد کا سلسلہ بند کر دیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس امر کی تردید کی کہ وہ اپنے مکان پر کوئی قحبہ خانہ چلاتی تھیں اور کہا کہ انہوں نے اپنے مکان کا ایک کمرہ ایک اور خاتون کو کرائے پر دے رکھا تھا اور ممکن ہے وہ اس طرح کی کسی سرگرمی میں ملوث رہی ہو۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے یہ اقبالی بیان کسی دباؤ میں دیا ہے تو انہوں نے معنی خیز انداز میں اس سوال کا جواب نفی میں دیا۔ تاہم رہائی کے بعد اپنے گھر پہنچنے پر اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے لال مسجد میں بیان اپنی بیٹی اور بہو کو بحفاظت گھر پہنچانے کے لیے دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں وہ بیان مدرسے کی انتظامیہ کی طرف سے لکھ کر دیا گیا تھا۔ ’ہمیں سفید رنگ کی رسیوں سے باندہ کر ننگے پاؤں جانوروں کی طرح گھسیٹتے ہوئے مدرسہ لے گئے۔ مدرسہ پہنچ کر انہوں نے نعرے لگائے کہ شیعہ کافر کو پکڑ کر لائے ہیں‘۔ پریس کانفرنس کے موقع پر مدرسے کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی نے کہا کہ شمیم اختر کے سامنے تین راستے رکھے گئے تھے اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ ان میں سے ایک کا انتخاب کر لیں۔ ’انہیں کہا گیا تھا کہ یا تو ان کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کرایا جائے گا اور مدرسے کی طالبات ان کے خلاف گواہی دیں گی یا ان کے خلاف مدرسے کے اندر قاضی عدالت تشکیل دے کر مقدمہ چلایا جائے گا۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ تیسرا راستہ توبہ کا راستہ ہے اور انہیں نہ اسی راستے کا انتخاب کیا‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||