BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 March, 2007, 14:07 GMT 19:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمیم رہائی کے بعد بھی عدم تحفظ کا شکار

طالبات
جامعہ حفصہ کی طالبات نے انتظامیہ سے کامیاب مذاکرات کے بعد دو پولیس اہلکاروں کو رہا کر دیا تھا
اسلام آباد کے دینی مدرسے میں تین روز تک یرغمال رکھی جانے والی خواتین کو پولیس نےمحافظ مہیا کیے ہیں۔

اسلام آباد میں دینی مدرسے کی طالبات کے ہاتھوں تین روز تک یرغمال رہنے کے بعد رہائی پانے والی تین خواتین کی حفاظت کے لیے انتظامیہ نے پولیس محافظ فراہم کردیئے ہیں اور وہ اسلام آباد کا مکان چھوڑ کر راولپنڈی میں اپنے رشتہ دار کے پاس منتقل ہوگئیں ہیں۔

شمیم اختر کے بیٹے کامران مہدی نے بتایا کہ ان کی والدہ، بہن اور بیوی نفسیاتی مریض بن چکی ہیں اور ابھی تک خوفزدہ ہیں۔ ان کے مطابق مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے دوبارہ حراست میں لینے کی دھمکیوں کے بعد وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

عدم تحفظ کا شکار
 میری والدہ، بہن اور بیوی نفسیاتی مریض بن چکی ہیں اور ابھی تک خوفزدہ ہیں۔ ان کے مطابق مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے دوبارہ حراست میں لینے کی دھمکیوں کے بعد وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں
بیٹا کامران مہدی
انہوں نے کہا کہ رہائی کے بعد انہیں مدرسہ والوں سے کوئی دھمکی نہیں ملی البتہ رہا کرتے وقت انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کے خلاف کوئی بات کی تو انہیں دوبارہ پکڑ لیں گے۔

کامران مہدی نے کہا کہ پولیس نے جب مقدمہ درج کرلیا ہے تو اب انہیں کارروائی بھی کرنی چاہیے۔

شمیم اختر نے گزشتہ روز جامعہ حفصہ سے رہائی پانے کے بعد الزام لگایا کہ ان کو یرغمال بنانے والی طالبات نے انہیں رسیوں سے باندھ کر گھسیٹا۔

طالبات کے ہاتھوں یرغمال بنائی گئی خاتون شمیم اختر نے اسلام آباد کے مرکز میں واقع لال مسجد میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ منگل کی رات کو جامعہ حفصہ کی تیس چالیس طالبات اور تیس چالیس طلبہ نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں ان کی بیٹی، بہو اور چھ ماہ کی پوتی کو رسیوں سے باندھ کر گھسیٹتے ہوئے لال مسجد لے آئے۔

انہوں نے کہا کہ اس بدسلوکی پر انہوں نے مدرسے کی انتظامیہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر ان سے یہ سلوک جاری رکھا گیا تو وہ ترکِ اسلام کر کے عیسائی مذہب اختیار کر لیں گی۔

شمیم اختر
شمیم اختر کے ساتھ ان کی بیٹی اور بہو کو بھی رہا کر دیا گیا

’میرے خیال میں اسلام کسی خاتون کو اس طرح سے مارنے پیٹنے اور رسیوں سے باندھ کر گلیوں میں گھسٹنے کی اجازت نہیں دیتا‘۔انہوں نے کہا کہ میری اس دھمکی پر ان سے ہونے والی بدسلوکی اور تشدد کا سلسلہ بند کر دیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس امر کی تردید کی کہ وہ اپنے مکان پر کوئی قحبہ خانہ چلاتی تھیں اور کہا کہ انہوں نے اپنے مکان کا ایک کمرہ ایک اور خاتون کو کرائے پر دے رکھا تھا اور ممکن ہے وہ اس طرح کی کسی سرگرمی میں ملوث رہی ہو۔

 میرے خیال میں اسلام کسی خاتون کو اس طرح سے مارنے پیٹنے اور رسیوں سے باندھ کرگلیوں میں گھسیٹنے کی اجازت نہیں دیتا۔ہمیں سفید رنگ کی رسیوں سے باندھ کر ننگے پاؤں جانوروں کی طرح گھسیٹتے ہوئے مدرسہ لے گئے۔ مدرسہ پہنچ کر انہوں نے نعرے لگائے کہ شیعہ کافر کو پکڑ کر لائے ہیں
شمیم اختر

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے یہ اقبالی بیان کسی دباؤ میں دیا ہے تو انہوں نے معنی خیز انداز میں اس سوال کا جواب نفی میں دیا۔

تاہم رہائی کے بعد اپنے گھر پہنچنے پر اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے لال مسجد میں بیان اپنی بیٹی اور بہو کو بحفاظت گھر پہنچانے کے لیے دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں وہ بیان مدرسے کی انتظامیہ کی طرف سے لکھ کر دیا گیا تھا۔

’ہمیں سفید رنگ کی رسیوں سے باندہ کر ننگے پاؤں جانوروں کی طرح گھسیٹتے ہوئے مدرسہ لے گئے۔ مدرسہ پہنچ کر انہوں نے نعرے لگائے کہ شیعہ کافر کو پکڑ کر لائے ہیں‘۔

پریس کانفرنس کے موقع پر مدرسے کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی نے کہا کہ شمیم اختر کے سامنے تین راستے رکھے گئے تھے اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ ان میں سے ایک کا انتخاب کر لیں۔ ’انہیں کہا گیا تھا کہ یا تو ان کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کرایا جائے گا اور مدرسے کی طالبات ان کے خلاف گواہی دیں گی یا ان کے خلاف مدرسے کے اندر قاضی عدالت تشکیل دے کر مقدمہ چلایا جائے گا۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ تیسرا راستہ توبہ کا راستہ ہے اور انہیں نہ اسی راستے کا انتخاب کیا‘۔

طالبات کی کارروائی
مدرسہ کی طالبات کا مبینہ بدکاری کے اڈے پر چھاپہ
طالبات کی کارروائی
اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی تصاویر
طالبات کا چھاپہآپ کیا کہتےہیں؟
اسلام آباد میں ’طالبات کا چھاپہ‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد