یرغمال بنائی گئی خواتین رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جامعہ حفصہ کی طالبات کے ہاتھوں قحبہ خانہ چلانے کے الزام میں یرغمال بنائی گئی تین خواتین کورہا کر دیا گیا ہے۔ طالبات کے ہاتھوں یرغمال بنائی گئی خاتون شمیم اختر نے اسلام آباد کے مرکز میں واقع لال مسجد میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ طالبات کے مطالبے پر اپنے گناہوں سے توبہ کر رہی ہیں۔ تاہم رہائی کے بعد اپنے گھر پہنچنے پر اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے لال مسجد میں بیان اپنی بیٹی اور بہو کو بحفاظت گھر پہنچانے کے لیے دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں وہ بیان مدرسے کی انتظامیہ کی طرف سے لکھ کر دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے لال مسجد میں پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس امر کی تردید کی کہ وہ اپنے مکان پر کوئی قحبہ خانہ چلاتی تھیں اور کہا کہ انہوں نے اپنے مکان کا ایک کمرہ ایک اور خاتون کو کرائے پر دے رکھا تھا اور ممکن ہے وہ اس طرح کی کسی سرگرمی میں ملوث رہی ہو۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے یہ اقبالی بیان کسی دباؤ میں دیا ہے تو انہوں نے معنی خیز انداز میں اس سوال کا جواب نفی میں دیا۔ شمیم اختر نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ منگل کی رات کو جامعہ حفصہ کی تیس چالیس طالبات اور تیس چالیس طلبہ نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں رسیوں سے باندھ کر گھسیٹتے ہوئے لال مسجد لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس بدسلوکی پر انہوں نے مدرسے کی انتظامیہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر ان سے یہ سلوک جاری رکھا گیا تو وہ ترکِ اسلام کر کے عیسائی مذہب اختیار کر لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ میری اس دھمکی پر ان سے ہونے والی بدسلوکی اور تشدد بند کر دیا گیا۔ پریس کانفرنس کے موقع پر مدرسے کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی نے کہا کہ شمیم اختر کے سامنے تین راستے رکھے گئے تھے اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ ان میں سے ایک کا انتخاب کر لیں۔ ’انہیں کہا گیا تھا کہ یا تو ان کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کرایا جائے گا اور مدرسے کی طالبات ان کے خلاف گواہی دیں گی یا ان کے خلاف مدرسے کے اندر قاضی عدالت تشکیل دے کر مقدمہ چلایا جائے گا۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ تیسرا راستہ توبہ کا راستہ ہے اور انہیں نہ اسی راستے کا انتخاب کیا۔” درایں اثنا شمیم اختر کی بیٹے نے الزام لگایا ہے کہ ان کے خاندان کے خلاف کارروائی ان لوگوں کی ایما پر کی گئی جو ان سے سرکاری مکان ہتھیانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کی وفات کے بعد سرکاری مکان ان کے نام الاٹ کر دیا گیا تھا۔ انہوں کے مطابق کیونکہ وہ ایک سرکاری دفتر میں کنٹریکٹ پر ملازم ہیں اور کچھ لوگ ان کی الاٹمینٹ منسوخ کرا کے ان سے مکان ہتھیانا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے بدہ کی رات کو اسلام آباد پولیس نے اعلان کیا تھا کہ تین خواتین کو یرغمال بنانے اور دو پولیس اہلکاروں کو سرکاری گاڑیوں سمیت حراست میں رکھنے کے الزام میں جامعہ حفصہ کی انتظامیہ کے خلاف دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ تھانہ آبپارہ کے ڈیوٹی افسر کے مطابق جامعہ حفصہ کے پرنسپل مولانا عبدالعزیز اور نائب پرنسپل مولانا عبدالرشید غازی سمیت اسی کے قریب نامعلوم طلبا اور طالبات کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق ایک مقدمہ پولیس انسپکٹر کی جانب سے دو پولیس اہلکاروں اور پولیس موبائلز کو پکڑنے اور حراست میں رکھنے اور سرکاری کام میں مداخلت کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ جبکہ ایک اور مقدمہ مغوی خاتون شمیم اختر کے بیٹے کی درخواست پر گھر میں لوٹ مار کرنے، زبردستی گھر میں گھسنے اور ان کی والدہ، بہن اور بیوی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||