BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 March, 2007, 16:11 GMT 21:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غیر شرعی ہے‘: ’قابلِ مذمت ہے‘

جامعہ حفصہ
مولانا فضل الرحمٰن طالبات کے اقدام کو بے وقوفی قرار دے چکے ہیں
مدرسے کی طالبات کی جانب سے تین خواتین کو یرغمال رکھنے کو مختلف مکاتب فکر کے بعض علماء نے غیر شرعی قرار دیا ہے جب کہ انسانی حقوق اور خواتین کی تنظیموں اور کچھ سیاسی جماعتوں نے طالبات کے اس عمل اور سیکورٹی ایجنسیوں کی خاموشی کی شدید مذمت کی ہے۔

اہل سنت کے مدارس کی تنظیمات کے صدر مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ اسلام کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ علما برائی سے بچنے کی ترغیب دینے کے لیے تقاریر کرسکتے ہیں اور احتجاج کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برائی کو روکنے کے لیے علماء تشدد کا راستہ نہیں اختیار کرسکتے کیونکہ شرعی اعتبار سے طاقت کے زور پر برائی کو روکنے کا اختیار ریاست اور حکومت کو حاصل ہے۔

تین خواتین کو اسلام آباد کی جامعہ سیدہ حفصہ میں یرغمال رکھے جانے پر حکومتی اداروں کی خاموشی اور مدرسہ کی انتطامیہ سے پولیس کے مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جس ملک میں امن پسند اور شریف لوگوں کی بات نہ سنی جائے اور انتشار کی صلاحیت رکھنے والوں سے مذاکرات کیے جائیں تو پھر ایک وقت آئے گا کہ غیر مسلح اور شرافت کے علمبردار لوگ بھی تشدد کا راستہ اختیار کریں گے۔ کیونکہ ان کے بقول ’حکومت لوگوں کو یہ راستہ خود دکھا رہی ہے‘۔

اس سلسلے میں علامہ ساجد نقوی کی رائے بھی مفتی منیب الرحمٰن سے مختلف نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ امر باالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی لوگوں کو نیکی کی ترغیب دینے اور برائی سے روکنے کے اقدامات کرنا اسلامی حکومت کا کام ہے۔

حکومت کیا تاثر دینا چاہتی ہے
 حکومت عالمی برادری کے لیے یہ تاثر پیدا کرنا چاہتی ہے کہ طالبانائیزیشن اسلام آباد تک پہنچ چکی ہے اور ان کو مذہبی جنونیوں اور فوجی آمریت میں سے کسی کا انتحاب کرنا ہوگا

انہوں نے کہ معاشرے کے کسی طبقے کو طاقت کے زور پر برائی کو روکنے اختیار حاصل نہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی طبقہ ایسا کرے گا تو اس سے جہاں انتشار پھیلے گا وہاں حکومتی رٹ بھی متاثر ہوگی۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کے جنرل سیکریٹری اقبال حیدر نے کہا کہ کوئی مذہب یہ اجازت نہیں دیتا کہ خود ہی مدعی اور خود ہی عدالت بن جاؤ۔ انہوں نے کہا وہ حیران ہیں کہ حکومت ’مذہبی جنونیوں‘ سے مذاکرات کر رہی ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ ’حکومت نے وکلا سے تو مذاکرات نہیں کیے، لاہور میں انہیں عدالتی احاطے میں لاٹھیاں ماریں۔ چیف جسٹس سے تو کوئی بات چیت نہیں کی۔ حکومت در اصل یہ کہہ رہی ہے کہ وہ مذہبی جنونیوں کی سرپرست اعلیٰ ہے‘۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی سربراہ نگار احمد نے لاہور سے فون پر بات کرتے ہوئے خواتین کو یرغمال رکھے جانے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ قانون یہ اجازت نہیں دیتا کہ کوئی بھی اٹھے، کسی پر الزام لگائے اور اسے رسیوں سے باندھ کر گھسیٹ کر لے جائے اور برقعہ پہنا دے۔

انہوں نے کہا کہ خانہ کعبہ میں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ مکمل برقعہ یا نقاب کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ تو ’ڈنڈے کے زور پر خود کو معاشرے کا ٹھیکیدار بنانا ہے‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ تین روز خواتین مدرسے میں رہیں اور ان کی تنظیم نے کچھ بھی نہیں کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ خواتین کے حقوق کی دیگر تنظیموں سے مل کر بھرپور احتجاج کی تیاری کر رہی ہیں۔

’اگر وہ تھوڑی تعداد میں خواتین کا مظاہرہ کرتیں تو پھر مدرسے کے لوگ یہ تاثر دیتے کہ جو خواتین خاموش ہیں وہ ان کے ساتھ ہیں‘۔

اس سلسلے جماعت اسلامی کے سرکردہ رہنما لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ قانون کسی کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے لیکن ان کے مطابق جب حکمرانِ وقت خود قانون کی پاسداری نہیں کرے گا تو ظاہر ہے کہ پھر لوگ خود سے کوئی قدم اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

حکمرانِ وقت پاسداری نہ کرے تو
 جب حکمرانِ وقت خود قانون کی پاسداری نہیں کرے گا تو ظاہر ہے کہ پھر لوگ خود سے کوئی قدم اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں

پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی مدرسے کی طالبات کی جانب سے خواتین کو حراست میں رکھنے اور حکومت کی جانب سے مذاکرات کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

سابق وزیرِ داخلہ نصیر اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ناقابل یقین ہے کہ پولیس اہلکاروں کی رہائی کے لیے انتظامیہ مذہبی انتہا پسندوں سے بات چیت کرے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت عالمی برادری کے لیے یہ تاثر پیدا کرنا چاہتی ہے کہ طالبانائیزیشن اسلام آباد تک پہنچ چکی ہے اور ان کو مذہبی جنونیوں اور فوجی آمریت میں سے کسی کا انتحاب کرنا ہوگا۔ بابر کے مطابق ایک طرف حکومت حقوق مانگنے پر بلوچ قوم پرستوں کو قتل کر رہی ہے اور دوسری جانب طالبات کو لائبریری پر قبضہ کی اجازت دیتی ہے۔

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے لندن میں نواز شریف سے ملاقات کے بعد پہلے جامعہ حفصہ کی طالبات کے قدم کو بے وقوفی قرار دے چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد