BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 March, 2007, 13:02 GMT 18:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خواتین کا اغواء، ایک سازش تھی‘

جامعہ حفصہ کی طالبات
’طالبات نے ان مردوں پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جوان خواتین کے پاس جاتے رہے‘
پاکستان میں سول سوسائٹی کی تنظیموں نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی طالبات کی جانب سے تین خواتین کو یرغمال بنانے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اس سے ایک سازش قرار دیا ہے۔


سنیچر کو اسلام آباد پریس کلب میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے غیر سرکاری تنظیموں کے رہنماؤں نےالزام لگایا کہ جامعہ حفصہ کی طالبات ’تاریکی‘ کی قوتوں کے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کر رہی ہیں۔

غیر سرکاری تنظیموں کی نمائندگی پر اسلام آباد میں عورت فاونڈیشن کے سربراہ نعیم مرزا نے کی۔ انہوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں انتہاپسند قوتوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور قانون کے نفاذ میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔

نعیم مرزا نے کہا کہ حکومت کے اندر اور باہر بعض ایسے عناصر ہیں جو ملکی صورتحال کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔

نعیم مرزا کے بقول’ ہم سمجھتے ہیں کہ جامعہ حفصہ کی طالبات کے اس قدم کے پیچھے ایک بہت بڑی سازش چھپی ہوئی ہے تاکہ پاکستان میں جمہوریت کا راستہ روکا جائے‘۔

حفصہ کی طالبات نے جی سکس کی تین خواتین کو یرغمال بنالیا تھا

غیر سرکاری تنظیموں کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھایا کہ جامعہ حفصہ کی طالبات نےتین خواتین کو اس لیے یرغمال بنایا کہ وہ مبینہ طور پر بدکاری میں ملوث تھیں لیکن طالبات نے ان مردوں پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جوان خواتین کے پاس جاتے رہے۔

نعیم مرزا نے کہا کہ ایک طرف حکومت وزیرستان اور باجوڑ میں انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے فوجی آپریشن کررہی ہے جبکہ دوسری جانب اسلام آباد میں مذہبی انتہا پسندی کے فروغ پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

انہوں نے اسلام آباد میں بچوں کی لائبریری پرجامعہ حفصہ کی طالبات کے گزشتہ تین ماہ سے جاری قبضے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت اس سلسلے میں سخت قدم اٹھائے۔

پریس کانفرنس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی وجہ سے بعض خواتین نے سیر کے لیے واک پر جانا چھوڑ دیا ہے جبکہ انہیں ایسی رپورٹیں بھی ملی ہیں کہ بعض نامعلوم افراد ان گاڑیوں کے نمبر نوٹ کر رہے ہیں جو خواتین چلا رہی ہیں۔

اس پریس کانفرنس میں ویمن ایکشن فورم، ایس ڈی آئی پی، پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق، روزن، عورت فاونڈیشن، ایس پی او، دی نیٹ ورک اور سنگی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ مدرسےکی طالبات کی جانب سے تین خواتین کو یرغمال رکھنے کو متحدہ مجلس عمل کے رہنماء مولانا فضل الرحمن اورمختلف مکاتب فکر کے بعض علماء نے غیر شرعی قرار دیا تھا۔

طالبات کی کارروائی
اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی تصاویر
جامعہ حفصہیرغمالی، غیرشرعی
سیکورٹی ایجنسیوں کی خاموشی کی مذمت
اسلام آباد کے طالبان
آئی ایس آئی کے اہلکار اور لال مسجد میں نماز
طالبات کی کارروائی
مدرسہ کی طالبات کا مبینہ بدکاری کے اڈے پر چھاپہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد