BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 March, 2007, 07:20 GMT 12:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماں، بیٹی اور بہو طالبات کی یرغمال

فائل فوٹو
گزشتہ ماہ اسی مدرسے کی طالبات نے بچوں کی لائبریری پر قبضہ کر لیا تھا
مدرسہ حفصہ کی انتظامیہ نے دھمکی دی ہے کہ اسلام آباد کے ایک مکان پر طالبات کے چھاپے اور تین خواتین کو یرغمال بنانے کے الزام میں گرفتار کی گئی چار استانیوں کو بدھ کی شام تک رہا نہ کیا گیا تو جہاد کا اعلان کر دیا جائے گا۔

مدرسے کی طالبات نے اسلام آباد کے ایک رہائشی علاقے جی سکس کے ایک مکان پر منگل کی شام کو چھاپہ مار کر ایک خاتون اور اس کی بہو اور بیٹی کو ’جنسی کاروبار میں ملوث ہونے پر‘ یرغمال بنا لیا تھا۔ مقامی پولیس نے طالبات کی طرف سے کی جانے والی اس کارروائی کے جواب میں مدرسے کی چار خواتین اساتذہ کو گرفتار کر لیا تھا۔


پولیس کی کارروائی کے بعد مدرسے کی سینکٹروں طالبات ڈنڈے اٹھا کر سڑک پر نکل آئیں۔ مشتعل طالبات نے جنھیں طلباء کی معاونت بھی حاصل تھی پولیس کی دو گاڑیوں کو ان کے ڈرائیوروں سمیت مدرسے کے احاطے میں بند کر دیا۔

مدرسے کے منتظم غازی عبدالرشید نے بعد ازاں ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ اسلام آباد کی رہائشی تین خواتین ان کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر فوری طور مدرسے کی چار اساتذہ کو رہا نہ کیا گیا تو جہاد کا اعلان کر دیا جائے گا۔

غازی عبدالرشید نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان خواتین پر زنا کے الزام میں مقدمات چلائے جائیں اور قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکام نے ان پر مقدمات دائر نہ کیئے تو مدرسے کے اندر قاضی عدالت قائم کی جائے گی اور شریعت کے مطابق انہیں سزائیں سنائی جائیں گی۔

اس مدرسے کی طالبات اور طلباء نے آبپارہ مارکیٹ میں واقع ویڈیو شاپس کے مالکان کو بھی خبردار کیا ہے کہ جنسی مواد پر مبنی سی ڈیز کی فروخت بند کردیں۔

News image
 ہمارے مدرسے کی طالبات اور طلباء نے اہل محلہ کی درخواست پر کارروائی کی ہے اور تین خواتین کو مدرسے میں رکھا ہے
جامعہ حفصہ کے نائب پرنسپل غازی عبدالرشید

اس سے قبل اسی مدرسہ کی طالبات نے گزشتہ ماہ اسلام آباد میں بچوں کی ایک لائبریری پر کئی دنوں تک قبضہ کیے رکھا تھا۔

مدرسے کے منتظم نے دعویٰ کیا کہ اہل محلہ مذکورہ خواتین سے تنگ تھے اور کئی بار پولیس کو اس کی شکایت بھی کی لیکن متعلقہ خاتون کے بااثر ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی تھی۔

جب غازی عبدالرشید سے پوچھا کہ ان کے مدرسے کی طالبات نے کس اختیار کے تحت کارروائی کی تو انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی ملک ہے اور اسلام کہتا ہے کہ برائی کو روکیں۔

اس بارے میں جب آبپارہ تھانے کے ایس ایچ اور سفیر حسین بھٹی سے جاننا چاہا تو انہوں نے کہا کہ وقوعہ ان کے علم میں ہے لیکن اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ انہوں نے تجویز دی کی سینیئر افسران سے بات کریں اور انہوں نے ایک اے ایس پی کامران عادل کا نمبر بھی دیا۔ جب متعلقہ اے ایس پی کو فون کیا تو ان کا نمبر بند تھا جبکہ ایس ایس پی اسلام آباد ظفر اقبال سے رابطہ کیا تو ان کے عملے نے کہا کہ صاحب مصروف ہیں اور بعد میں آپ کو کال بیک کریں گے۔

اسلام آباد کے بعض شہریوں نے ’طالبان طرز کے اقدام‘ پر سخت تشویش ظاہر کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے کارروائی نہیں کی تو ایسے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جبکہ کچھ رہائشیوں نے جامعہ حفصہ کی طالبات کی اس کارروائی کو سراہا ہے۔

طالبات کی کارروائی
اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد