اسلام آباد لائبریری پر قبضہ، 40واں دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کے نائب پرنسپل غازی عبدالرشید نے کہا ہے کہ بچوں کی لائبریری پر مدرسے کی طالبات کا قبضہ برقرار رہے گا لیکن بچوں کے استعمال کے لیے یہ لائبریری کھول دی گئی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بچے مطالعے کے لیے لائبریری استعمال کرسکتے ہیں اور انہیں کتابیں وغیرہ بھی جاری کی جائیں گی لیکن انہوں نے کہا کہ سرکاری سٹاف کو اس وقت تک نہیں آنے دیا جائے گا جب تک حکومت منہدم مساجد دوبارہ تعمیر نہیں کرے گی۔ اخبارات میں لائبریری پر قبضے کے حوالے سے جامعہ حفصہ اور قابضین پر شدید تنقید کے بعد لائبریری کو بچوں کے لیے کھولا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں حکومت نے بیس فروری کو دو مساجد کو غیر قانونی تعمیرات کی بنا پر منہدم کردیا تھا اور بعض دیگر مساجد اور مدارس کو نوٹس جاری کیے تھے۔ جس کے بعد سیکٹر جی سکس میں لال مسجد سے ملحقہ بچوں کی لائبریری پر دینی مدرسے کی برقعہ پوش طالبات نے قبضہ کرلیا تھا۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بچوں کی لائبریری پر دینی مدرسے کی طالبات کے قبضے کو چالیس روز ہوچکے ہیں اور تاحال حکومت کے لیے سرکاری عمارت پر قبضہ ختم کرانا ایک بڑا چیلینج بنا ہوا ہے۔ حکام کے مطابق بچوں کی مقبوضہ لائبریری میں آٹھ ہزار کے قریب کتابیں اور آڈیو ویڈیو کیسٹ موجود ہیں اور روزانہ ایک سو بچے وہاں آتے تھے۔ سیکٹر جی سکس میں واقع جامعہ حفصہ کے نائب پرنسپل کا کہنا ہے کہ مدرسے میں ساڑھے چھ ہزار طالبات دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور یہ دنیا میں خواتین کی اسلامی تعلیم کی سب سے بڑی درسگاہ ہے۔ ان کے مطابق جب اتنی بڑی تعداد میں برقعہ پہن کر طالبات آتی ہیں تو حکمرانوں کی روشن خیالی مجروح ہوتی ہے اور وہ مدرسے کو گرانا چاہتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ حکومت تو کہتی ہے کہ مدرسہ سرکاری زمین پر قبضہ کرکے تعمیر کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ مدرسے کے لیے حکومت سے منظوری لی گئی تھی۔ البتہ ان کے مطابق گندے پانی کے نالے سے ملحقہ کچھ زمین نظریۂ ضرورت کے تحت استعمال میں لائی اور اس کی منظوری کے لیے درخواست بھی دی لیکن حکومت قبول نہیں کر رہی۔
غازی عبدالرشید نے جو حفاظتی اقدامات کے پیش نظر مدرسے کی عمارت میں خود ساختہ نظر بندی کاٹ رہے ہیں، کہا کہ پاکستان میں کئی فوجی جرنیلوں اور با اثر افراد نے جو بڑے بڑے مکانات، پلازے اور فارم ہاؤسز غیر قانونی طور پر حاصل کر رکھے ہیں انہیں دو روز میں قانونی حیثیت دی جاتی ہے لیکن مساجد اور مدارس نے اگر تھوڑی بہت زمین حاصل کی تو اُسے ناجائز قرار دیا جاتا ہے۔ بچوں کی سرکاری لائبریری کی دیوار پر جو لوہے کا جنگلہ ہے اس پر طالبات نے کپڑے لگا کر پردہ کر رکھا ہے اور صدر دروازے کو تالہ لگادیا ہے۔ لیکن مدرسے میں داخل ہوکر لائبریری میں جایا جاسکتا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر سکندر حیات کے مطابق انہوں نے لائبریری پر قبضے کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے لیکن کارروائی حکومت کی ہدایت پر مؤخر کردی تھی۔ کیونکہ ان کے بقول حکومتی سطح پر معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت اور علماء کے ایک وفد نے اس بارے میں بات چیت بھی کی جس میں طے پایا تھا کہ حکومت مساجد تعمیر کرے گی۔ وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق ایک متاثرہ مسجد امیر حمزہ کی تعمیر کے لیے ایک اینٹ بھی رکھی تھی لیکن تاحال تعمیر شروع نہیں ہوئی۔ | اسی بارے میں اسلام آباد:لائبریری پرطالبات کاقبضہ01 February, 2007 | پاکستان باجوڑ مدرسہ کا دوبارہ سنگ بنیاد09 November, 2006 | پاکستان مدرسہ سے تعلق، جماعت کی تردید02 November, 2006 | پاکستان مدرسہ کی تعمیر3 ماہ میں: جماعت02 November, 2006 | پاکستان نو مسلم لڑکیاں مدرسہ کے حوالے10 April, 2006 | پاکستان میران شاہ: مدرسہ بم سے اڑا دیا گیا 15 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||