لال مسجد گولڈن ٹمپل کی راہ پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ ابتدا میں ایک سیدھے سادے غیر سیاسی مذہبی عالم تھے ۔گاؤں گاؤں تین نکاتی منشور کی تبلیغ کرتے تھے۔یعنی نشے چھڈو، امرت چکھو اور گر سکھ بنو۔ سرکردہ ہندوستانی صحافی اور ادیب خشونت سنگھ لکھتے ہیں کہ بھنڈرانوالہ کی سادہ زندگی اور سادہ زبان کا اتنا اثر ہوا کہ ہزاروں سکھ نوجوانوں نے سکھ دھرم کے بنیادی اصولوں کا پالن کرتے ہوئے شراب، تمباکو، منشیات اور زنا سے برسرِ عام توبہ کی اور ہرگاؤں کے گوردوارے میں لوگ خود ہی خود فحش فلموں کے کیسٹس گرنتھیوں کے حوالے کرنے لگے۔ جب بھنڈرانوالہ اتنے مقبول ہوگئے تو وہ مزید آگے بڑھے اور انہوں نے حریف اکالی دل کے سکھ قوم پرستی کے تصور کے مقابلے میں یہ نظریہ پیش کیا کہ سکھوں کی نجات ایک ایسے خالصتان کی تشکیل سے وابستہ ہے جس کی بنیاد شریعتِ نانکی ہو۔اور اسکی راہ میں اگر کوئی بے راہرو سکھ آتا ہے تو اسے ہٹا دینا چاہئے۔چنانچہ بے ضرر بھنڈرانوالہ کے حامیوں نےاسکا یہ مطلب لیا کہ چالیس سے زائد نرنکاری سکھوں کو قتل کردیا۔ایک مخالف اخبار کے مالک جگت نارائن کو قتل کردیا اور سکھ سیاسی مخالفین کو بھی قتل کی دھمکیاں موصول ہونے لگیں۔ دھلی پر حکمراں کانگریس نے اکالیوں کی سیاسی طاقت کو متوازن رکھنے کے لئے بھنڈرانوالہ کی بڑہتی ہوئی طاقت سے نہ صرف چشم پوشی شروع کردی بلکہ معروف صحافی کلدیپ نئیر کے بقول جب ایک دفعہ پنجاب پولیس مفرور بھنڈرنوالہ کو پکڑنے کے لئے قریبی ریاست ہریانہ پہنچی تو دہلی سے کانگریس کے مرکزی وزیرِ داخلہ زیل سنگھ نے ہریانہ کے وزیرِ اعلی بھجن لال کو فون کیا کہ بھنڈرانوالہ کو نکلنے دیا جائے۔
جب انیس سو بیاسی میں بھنڈرانوالہ نے امرتسر کے دربار صاحب پر اپنے سینکڑوں مسلح حامیوں کے ساتھ قبضہ کرلیا تو پھر کھیل اندرا گاندھی حکومت کے ہاتھ سے بھی نکل گیا۔ دو برس بعد گولڈن ٹمپل کو فوج کشی کرکے فتح کرنا پڑا۔اس عرصے میں دس ہزار کے لگ بھگ افراد کام آئے۔اور اندرا گاندھی کو بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اسلام آباد کی سرکاری لال مسجد کا سب سے پہلے باقی ملک کے لوگوں نے اس وقت نام سنا جب اکتوبر دو ہزار ایک میں افغانستان پر حملے کے بعد یہاں سے طالبان کی حمائت میں جلوس نکلنے شروع ہوئے۔لیکن یہاں کے منتظمین نے سیاسی طاقت کا پہلا بھر پور مظاہرہ اب سے ڈھائی ماہ پہلے کیا جب مسجد سے متصل مدرسے کی طالبات نے غیر قانونی مساجد کے انہدام کے جواب میں بچوں کی لائبریری پر قبضہ کرلیا۔لیکن حکومت نے جس طرح اس مسئلے پر مسجد اور مدرسے کی انتظامیہ کی شرائط مان لیں اسکے بعد حوصلے اور بڑھے۔ طلباء نے وڈیو دوکانوں کے چکر لگانے شروع کردیئے۔لٹھ بازی کی تربیت شروع ہوگئی اور طالبات نے کمانڈو ایکشن کرکے تین عورتوں اور دو پولیس والوں کو پکڑ لیا۔حکومت نے اس مرتبہ بھی مسجد اور مدرسے کی جانب سے پیش کردہ شرائط پر سمجھوتہ کرلیا۔اس سے مزید حوصلے بڑھے اور اب نہ صرف شرعی عدالت قائم ہوگئی ہے بلکہ حکومت اور لوگوں کو تائب ہونے اور نفاز شریعت کا بھی الٹی میٹم مل گیا ہے۔اگلا مرحلہ نفازِ شریعت کے لئے طاقت کے استعمال کا ہوگا۔
حکومت کہتی ہے کہ مسجد کے دو عالموں اور انتظامیہ کے خلاف زمین پر ناجائز قبضے اور پارلیمنٹ میں دھماکے کی سازش سمیت کئی مقدمات درج ہیں۔لیکن حکومت میڈیا کو ان مقدمات کی تفصیل بتانے سے ہچکچا رہی ہے۔ حکومت نے انٹرنیٹ پر اپنے مخالف بلوچ قوم پرستوں کی ویب سائٹس کو بلاک کیا ہوا ہے۔لیکن لال مسجد پاکستان کی پہلی سرکاری مسجد ہے جس کی ویب سائٹ پر حکومت کی اتھارٹی کو کھلم کھلا چیلنج کیا گیا ہے مگر وہ ہر ایک کی دسترس میں ہے۔ صدر مشرف ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ کوئی ان کے خلاف سازش کررہا ہے۔لیکن کچھ مبصرین سوال اٹھاتے ہیں کہ واقعی کوئی سازش ہو رہی ہے یا صرف بتائی جارہی ہے۔ فی الحال لال مسجد ابھی گولڈن ٹمپل کے مرحلے تک تو نہیں پہنچی لیکن راستہ اسی طرف جا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں خواتین کے اغواء کے خلاف مظاہرہ 05 April, 2007 | پاکستان ’خواتین کا اغواء، ایک سازش تھی‘31 March, 2007 | پاکستان ’غیر شرعی ہے‘: ’قابلِ مذمت ہے‘30 March, 2007 | پاکستان خودکش حملوں کی دھمکی06 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||