BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 July, 2007, 08:26 GMT 13:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خودکش حملہ: 24 فوجی ہلاک

فائل فوٹو
جمعہ کو شمالی وزیرستان میں فائرنگ کرکے تین افراد کو ہلاک کردیا گیا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک خودکش حملے میں 24 سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ستائیس زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بنوں منتقل کردیا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ سنچر کی صبح گیارہ بجکر بیس منٹ پر میرانشاہ سے پچیس کلومیٹر دور ڈزنارائی کے مقام پر رزمک کی جانب سے آنے والی ایک سفید کار میں سوار خودکش حملہ آور نے اپنی کار کو فوجی چوکی کے ساتھ کھڑی شوال رائفل کی ایک گاڑی سے ٹکرا دیا جس کے نتیجہ میں گاڑی میں سوار شوال رائفل کے اٹھارہ اہلکار ہلاک اور اٹھائیس زخمی ہوگئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں پیرا ملٹری فورسز کے اہلکاروں کے علاوہ فوجی بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق خودکش حملہ آور کی کار کے فوجی گاڑی کے ساتھ ٹکرانے کے بعد ایک زودار دھماکہ ہوا۔ دھماکہ سے فوجی گاڑی میں آگ لگ گئی اور وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ حملہ کا نشانہ بننے والی گاڑی میں آگ نے ساتھ کھڑی دو اور فوجی گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے ان پر موجود گولہ بارود دھماکے سے اڑ گیا۔

پاک فوج کے ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحئی کو بتایا ہے کہ خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے جبکہ ستائیس زخمی ہیں۔

انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ رزمک اور میرانشاہ کے درمیانی راستے میں فوج نے کئی نئی چوکیاں بنائی ہیں اور شمالی وزیرستان میں فوج کے دستوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حمل کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خودکش حملے کا نشانہ بننے والا یہ قافلہ پانچ چھ گاڑیوں پر مشتمل تھا جو رزمک سے میرانشاہ کی جانب جا رہا تھا۔

واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں طالبان کے ایک ترجمان نے دھمکی دی تھی کہ اس ماہ کی پندرہ تاریخ تک علاقے میں قائم تمام فوجی چوکیاں ہٹا دی جائیں۔

دوسری طرف خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا ہے کہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے افغان سرحد کے قریب شمالی وزیرستان کے علاقے میں خودکش حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ اس حملے میں آٹھ اہلکار ہلاک جبکہ پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیرہ ہے۔

لال مسجد (فائل فوٹو) ’اسلامی انقلاب‘
’لال مسجد پر حملہ ہوا تو ردعمل وزیرستان سے‘
کون کسے مار رہا ہے
وزیرستان میں کیا ہوا، کیا ہو رہا ہے، کیا ہوگا؟
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
اسی کی دہائی کی یاد
’دھماکہ افغانستان یا وزیرستان سے جُڑاہوا ہے‘
گلبدین حکمت یاررودادِ میران شاہ
حکمت یار کے پوسٹر اور طالبان کی چہل پہل
اسی بارے میں
شمالی وزیرستان، تین ہلاک
13 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد