’حکومت مخالف کارروائی کا فیصلہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی دارالحکومت میں سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی جنگجو سردار بیت اللہ محسود نے لال مسجد کے واقعہ کے بعد حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی بی سی کو حاصل ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد بیت اللہ محسود نے ایک جرگہ جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں منعقد کیا جس میں بیت اللہ محسود کے تمام طالبان کمانڈروں کے علاوہ محسود قبیلے اور علاقے کے دیہاتوں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ خفیہ سرکاری معلومات کے مطابق یہ اجلاس گیارہ جولائی کو دو پہر ایک سے دو بجے کے درمیان منعقد ہوا تھا۔ اس سے ایک روز قبل ہی سکیورٹی فورسز نے لال مسجد میں اپنی کارروائی مکمل کر لی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس جرگے میں کچھ ایسے نامعلوم افراد نے بھی شرکت کی جن کو اس سے پہلے اس علاقے میں نہیں دیکھا گیا۔ یہ جرگہ ایک بند کمرے میں ہوا تاہم اس میں ہونے والے فیصلوں کا اعلان علاقے کی مساجد میں کیا گیا۔ اس دستاویز کے مطابق بیت اللہ محسود نےحکومت کے خلاف اعلان جنگ کے لیے اپنے نمائندے علاقے میں بھیج دیے ہیں جوکہ مساجد میں جا کر حکومت کے خلاف جنگ کا اعلان کر رہے ہیں۔
سرکاری دستاویز کے مطابق طالبان نے لال مسجد کے خلاف آپریشن پر حکومت کو سبق سِکھانے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بعد میں کیے جانے والے اعلان میں انہوں نے محسود قبیلے کے ہر شخص کو ہدایت کی کہ وہ پاکستانی فوج کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کے لیے تیار رہے۔ تینتیس سالہ بیت اللہ محسود نے اپنے قبیلے کے عام لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے فی الحال گھروں میں رہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جرگے میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ طالبان لدھا قلعے کو فوری طور پر نشانہ بنا سکتے ہیں اور اس کارروائی کے لیے ان کے پاس تمام ضروری اسلحہ اور سازو سامان موجود ہے۔ بیت اللہ محسود نے جنوبی وزیرستان سے لیکر اسلام آباد تک حکومت کے خلاف کارروائیاں کرنے کا عندیہ دیا ہے اور انہوں نے تمام مقامی باشندوں سے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں ان کی حمایت کریں کیونکہ ان کے مطابق پاکستانی فوج ظلم کی تمام حدیں عبور کر چکی ہے۔ ان سرکاری دستاویز کے مطابق بیت اللہ محسود اور ان کے ساتھیوں نے ان علاقوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر لی ہے جہاں پر زیادہ تعداد میں فوج کے اہلکار رہائش پذیر ہوں۔ ادھر اس جرگے سے پہلےمحسود قبیلے کے طالبان کے کمانڈروں کا ایک اجلاس ہواجس میں سینیئر سرکاری افسران کو قتل کرنے کی مبینہ منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ادھر وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق حکومت نے چاروں صوبوں کے ہوم سیکرٹریوں کو اس ضمن میں مناسب حفاظتی اقدامات کرنے اور ان طالبان اور ان کے ساتھوں کی گرفتاری کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔ بیت اللہ محسود نے اس سے قبل گزشتہ دنوں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لال مسجد کے خلاف کارروائی کی مذمت کی تھی اور حکومت کو ایسا کرنے سے باز رہنے کی بات کی تھی۔ | اسی بارے میں لال مسجد: اتوار کو کیا کیا ہوا؟08 July, 2007 | پاکستان حکومت خمیازہ بھگتےگی:محسود08 July, 2007 | پاکستان پی اے خیبر سے جرگے کی ملاقات 08 June, 2007 | پاکستان طالبان کی کارروائی کشیدگی کا باعث13 April, 2007 | پاکستان جرگہ بیت اللہ محسود سے ملے گا27 March, 2007 | پاکستان ’پنجابی طالبان کون؟‘20 March, 2007 | پاکستان بیت اللہ محسود کے ساتھی گرفتار؟09 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||