BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 July, 2007, 04:11 GMT 09:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو ہفتوں کے دوران آٹھ خود کش حملے

خود کش
خود کش حملوں میں کم از کم 79 افراد ہلاک ہو گئے ہیں
اسلام آباد میں منگل کی رات کو ہونے والے مبینہ خود کش حملے کے بعد پاکستان میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والے خود کش حملوں کی تعداد آٹھ تک پہنچ گئی ہے جس میں اب تک کم از کم 79 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں23 فوجی بھی شامل ہیں۔


اسلام آباد میں ہونے والے حملے سے پہلے تک ہونے والے تمام خود کش حملے پاکستان کے قبائلی اور صوبہ سرحد کے ضلع سوات اور جنوبی اضلاع بنوں اور ٹانک میں پیش آئے ہیں اور زیادہ تر میں پاکستانی فوج اور پولیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار میں ہونے والے وکلاء کنونشن کے پنڈال کے قریب ہونے والے مبینہ خود کش حملے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

منگل ہی کو پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے کھجوری چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں دو فوجیوں اور خود کش حملہ آور سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

چار جولائی کو قبائلی علاقے میران شاہ سے بنوں آنے والے ایک فوجی قافلے کو مبینہ خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں حکام کے مطابق چھ فوجیوں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے تھے۔

چھ جولائی کو صوبہ سرحد کے ملاکنڈ ایجنسی کے چکدرہ پل کے ساتھ ہونے والے خودکش حملے میں چار فوجیوں کو ہلاک جبکہ ایک کو زخمی کردیا گیا تھا۔

ڈی آئی خان
ڈی آئی خان میں بھی پولیس بھرتی کے دفتر پر حملہ کیا گیا

اس حملے کے چھ روز بعد یعنی بارہ جولائی کو ایک مبینہ خودکش بمبار نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں قائم پولٹیکل ایجنٹ کے دفتر پر حملہ کردیا تھا جس میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

بارہ جولائی ہی کے روز صوبہ سرحد کے ضلع سوات کے صدر مقام مینگورہ میں گاڑی میں سوار دو مبینہ خوکش حملہ آوروں نے اس وقت خود کو دھماکے کے ساتھ اڑادیا جب فوجی قافلے کا پیچھا کرتے ہوئے پولیس نے انکی گاڑی روکی اور انکی تلاشی لے ہی رہے تھی کہ گاڑی میں دھماکہ ہوا جس میں تین پولیس اہکاروں اور دو حملہ آوروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے ۔

پندرہ جولائی کو صوبہ سرحد کے ضلع سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دو مختلف مبینہ خودکش حملوں میں گیارہ فوجیوں سمیت چالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پہلا خودکش حملہ سوات کے علاقہ مٹہ میں پیش آیا تھا جس میں دو مبینہ خودکش حملہ آوروں نے فوجی قافلے کو نشانہ بنایا اور نتیجے میں تیرہ افراد ہلاک اور باون زخمی ہوگئے۔ جبکہ دوسرے واقعے میں ڈی آئی خان میں پولیس بھرتی مرکز پر ہونے والے حملے میں چھ پولیس اہلکاروں سمیت ستائیس افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے تھے۔

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں واقع لال مسجد کیخلاف فوجی آپریشن، صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں فوج کی تعیناتی اور قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں نئی چیک پوسٹوں کے قیام کے بعد ان علاقوں میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور راکٹ حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یاد رہے کہ لال مسجد کے خلاف ہونے والے آپریشن میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق 102 افراد ہلاک ہوگئے تھے تاہم آپریشن کے بعد ہونے والے خود کش حملوں، بم دھماکوں اور راکٹ حملوں میں اب تک ستاسی افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں آٹھ جولائی میں پشاور میں ہلاک کیے گیے تین چینی شہری بھی شامل ہیں۔

بم دھماکہرپورٹرز نے کیا دیکھا
’انسانی اعضا دور دور تک بکھرے ہوئے تھے‘
عینی شاہدینعینی شاہدین
’وہ جھلس چکے تھے اور بھاگ رہے تھے‘
جسٹس ریلی کے راستے میں دھماکہاسلام آباد دھماکہ
جسٹس ریلی پنڈال سے کچھ ہی دور
اسی بارے میں
دیر میں پولیس پر بم حملہ
17 July, 2007 | پاکستان
خودکش حملے، چالیس ہلاک
15 July, 2007 | پاکستان
سوات: فوجیوں سمیت14 ہلاک
15 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد