BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 May, 2007, 22:40 GMT 03:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء کی جدوجہد، عوام بھی شامل

جسٹس افتخار اور وکلاء
وکلاء کا ججوں سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ وہ آئندہ کبھی بھی پی سی او کے تحت حلف نہ لیں
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ وکلاء کی جہدوجہد نے عام آدمی کو بھی اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے اور پاکستان کے عوام بھی اب عدلیہ کی آزادی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے’ اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے سمینار سے خطاب کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ آئین عدلیہ کی مکمل آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور وہ تمام اقدام جو عدلیہ کی آزادی کے منافی ہوں وہ آئین کے بھی منافی ہیں۔

سیمینار میں تحریری تقریر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے کہا کہ آئین میں اختیارات کی تقسیم کا ایک نظام وضع کیا گیا ہے جس پر اگر عمل کیا جائے تو اچھی حکمرانی سامنے آتی ہے اور شہری بنیادی انسانی حقوق سے مستفید ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اختیارات جب ایک شخص میں مرتکز ہوجائیں تو پھر خطرناک حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔چیف جسٹس نے اس مرحلے پر انگریزی مصنف لارڈ ایکٹن کے مشہور قول کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’طاقت بدعنوان بناتی ہے اور مطلق اختیار مکمل بدعنوان بناتا ہے۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ عام آدمی بھی عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کی خواہش رکھتا ہے اور اس کے لیے وہ جہدوجہد کرنے کو بھی تیار ہے۔

انہوں نے کہا آئین میں اختیارات کی جو تقسیم کی گئی ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو ایک بہتر نظام حکومت وجود میں آتا ہے، جس سے آئین میں دیئے گئے اختیارات کا استعمال کرنے والے ہر شخص پر قدغن لگ جاتی ہیں اور اسے اپنے دائرے میں رہ کر فرائضِ منصبی سرانجام دینا ہوتے ہیں۔

وکلاء اور سیاسی کارکنوں نے شاہراہ دستور پر مشعل بردار جلوس بھی نکالا

جسٹس افتخار نے کہا کہ مطلق العنان نظام حکومت فاسد نظام ہے۔ ’مطلق العنانیت کا جھکاؤ بد عنوانی اور طاقت کے ناجائز استعمال کی طرف ہوتا ہے۔ ایسا نظام شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرنے کا اہل نہیں ہوتا‘۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا سیمینار ایک جلسے کی شکل اختیار کرگیا اور ایک کے بعد دوسرا مقرر موضوع پر لکھے ہوئے اپنے مقالے ایک طرف رکھ کر اپنی فی البدیہہ تقریر میں فوجی حکمرانوں کو ہدف تنقید بناتا رہا۔

تاہم جسٹس افتخار نے اپنی لکھی ہوئی تقریر پر ہی اکتفا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خلاف ریفرنس سے متعلق کوئی بات نہیں کریں گے۔

سیمینار جسے شام پانچ بجے شروع ہونا تھا، رات نو بجے شروع ہو سکا۔ جسٹس افتخار اپنی سرکاری رہائشگاہ سے نکلے تو سینکڑوں کی تعداد میں وکلاء اور سیاسی کارکنوں نے ان کا استقبال کیا اور سپریم کورٹ کی عمارت تک کا چند منٹوں کا فاصلہ کم و بیش اڑھائی گھنٹوں میں طے ہوا۔

سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر اور باہر ہزاروں کی تعداد میں وکلاء موجود تھے، جو تمام وقت جذباتی انداز میں نعرے بازی کرتے نظر آئے۔

سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر صرف وکلاء کو جانے کی اجازت تھی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے شاہراہ دستور پر اکٹھے ہونے والے لوگوں کے لیے بڑی بڑی ٹیلی ویژن سکرین نصب کر رکھی تھیں، جن کے ذریعے سیمینار کی کارروائی براہ راست دکھائی جاتی رہی۔

آڈیٹوریم میں صرف وکلاء کو جانے کی اجازت تھی

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پچاس ملکوں کے سفارت کاروں کو سیمینار میں مدعو کیا تھا، لیکن صرف جاپان، جرمنی، اور ناروے کے سفارت کاروں نے شرکت کی۔

چیف جسٹس کے وکلاء پینل کے ارکان میں بیرسٹر اعتزاز احسن، علی احمد کرد، حامد خان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک نے اپنی تقریروں میں کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے شروع ہونے والی جدوجہد اب ملک میں بحالی جمہوریت کی تحریک میں تبدیل ہو چکی ہے۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر پاکستانی عدالتوں نے نظریہ ضرورت کی بنیاد پر فوجی حکومتوں کو جائز قرار نہ دیا ہوتا تو پاکستان کے حالات مختلف ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کی اس جدوجہد میں وکلاء کا ججوں سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ وہ آئندہ کبھی بھی پی سی او (پروویژنل کانسٹیٹیوشنل آرڈر) کے تحت حلف نہیں لینگے۔

وکلاء اور سیاسی کارکنوں کے نعروں کا سب سے زیادہ نشانہ صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی رہی جبکہ بارہ مئی کو چیف جسٹس کے دورۂ کراچی کے موقع پر ہونے والے تشدد کی گونج بھی نعروں میں سنائی دیتی رہی۔

سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر بڑی بڑی ٹی وی سکرینوں پر سیمینار کی کارروائی براہ راست دکھائی گئی

سرحد سے آئے ہوئے وکلاء کی طرف سے لگایا گیا نعرہ ’ یہ جو غنڈہ گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘ وقفے وقفے سے سپریم کورٹ کے آڈیٹوریم میں گونجتا رہا۔
صدر مشرف کی طرف سے وردی کو اپنی کھال قرار دینے پر بھی وکلاء نعرے بلند کر رہے تھے کہ ’کھال اتارو ملک سنوارو‘۔

چیف جسٹس کے وکلاء نے اعلان کیا کہ جسٹس افتخار دو جون کو ایبٹ آباد بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر ایبٹ آباد جائیں گے۔

 سندھ ہائی کورٹ بلڈنگقائم مقام گورنر
سندھ ہائی کورٹ کے ججز کے فیصلے کی تعریف
موبائل’گو مشرف گو‘
صدر کے خلاف احتجاج ’موبائل‘ ہو گیا
 کیا سید شریف الدین پیرزادہ صدر مشرف کی کرسی بچا سکتے ہیں؟’آپ تو ڈرا رہے ہیں‘
حکومتی وکلاء اور ملائیشیا کی مثال
 جسٹس افتخار چودھری ہڈی اور سیاسی گلے
جسٹس افتخارگلے کی’ہڈی‘ بنتے جا رہے ہیں
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
قانونی نکات
جسٹس افتخار کی پیٹیشن کے قانونی نکات
داتو پرام کمارا سوامے جیورسٹس کمیشن
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی پر تشویش
اسی بارے میں
جسٹس افتخار جبری چھٹی پر
17 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد