وکلاء کی جدوجہد، عوام بھی شامل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ وکلاء کی جہدوجہد نے عام آدمی کو بھی اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے اور پاکستان کے عوام بھی اب عدلیہ کی آزادی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے’ اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے سمینار سے خطاب کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ آئین عدلیہ کی مکمل آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور وہ تمام اقدام جو عدلیہ کی آزادی کے منافی ہوں وہ آئین کے بھی منافی ہیں۔ سیمینار میں تحریری تقریر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے کہا کہ آئین میں اختیارات کی تقسیم کا ایک نظام وضع کیا گیا ہے جس پر اگر عمل کیا جائے تو اچھی حکمرانی سامنے آتی ہے اور شہری بنیادی انسانی حقوق سے مستفید ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات جب ایک شخص میں مرتکز ہوجائیں تو پھر خطرناک حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔چیف جسٹس نے اس مرحلے پر انگریزی مصنف لارڈ ایکٹن کے مشہور قول کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’طاقت بدعنوان بناتی ہے اور مطلق اختیار مکمل بدعنوان بناتا ہے۔‘ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ عام آدمی بھی عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کی خواہش رکھتا ہے اور اس کے لیے وہ جہدوجہد کرنے کو بھی تیار ہے۔ انہوں نے کہا آئین میں اختیارات کی جو تقسیم کی گئی ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو ایک بہتر نظام حکومت وجود میں آتا ہے، جس سے آئین میں دیئے گئے اختیارات کا استعمال کرنے والے ہر شخص پر قدغن لگ جاتی ہیں اور اسے اپنے دائرے میں رہ کر فرائضِ منصبی سرانجام دینا ہوتے ہیں۔
جسٹس افتخار نے کہا کہ مطلق العنان نظام حکومت فاسد نظام ہے۔ ’مطلق العنانیت کا جھکاؤ بد عنوانی اور طاقت کے ناجائز استعمال کی طرف ہوتا ہے۔ ایسا نظام شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرنے کا اہل نہیں ہوتا‘۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا سیمینار ایک جلسے کی شکل اختیار کرگیا اور ایک کے بعد دوسرا مقرر موضوع پر لکھے ہوئے اپنے مقالے ایک طرف رکھ کر اپنی فی البدیہہ تقریر میں فوجی حکمرانوں کو ہدف تنقید بناتا رہا۔ تاہم جسٹس افتخار نے اپنی لکھی ہوئی تقریر پر ہی اکتفا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خلاف ریفرنس سے متعلق کوئی بات نہیں کریں گے۔ سیمینار جسے شام پانچ بجے شروع ہونا تھا، رات نو بجے شروع ہو سکا۔ جسٹس افتخار اپنی سرکاری رہائشگاہ سے نکلے تو سینکڑوں کی تعداد میں وکلاء اور سیاسی کارکنوں نے ان کا استقبال کیا اور سپریم کورٹ کی عمارت تک کا چند منٹوں کا فاصلہ کم و بیش اڑھائی گھنٹوں میں طے ہوا۔ سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر اور باہر ہزاروں کی تعداد میں وکلاء موجود تھے، جو تمام وقت جذباتی انداز میں نعرے بازی کرتے نظر آئے۔ سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر صرف وکلاء کو جانے کی اجازت تھی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے شاہراہ دستور پر اکٹھے ہونے والے لوگوں کے لیے بڑی بڑی ٹیلی ویژن سکرین نصب کر رکھی تھیں، جن کے ذریعے سیمینار کی کارروائی براہ راست دکھائی جاتی رہی۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پچاس ملکوں کے سفارت کاروں کو سیمینار میں مدعو کیا تھا، لیکن صرف جاپان، جرمنی، اور ناروے کے سفارت کاروں نے شرکت کی۔ چیف جسٹس کے وکلاء پینل کے ارکان میں بیرسٹر اعتزاز احسن، علی احمد کرد، حامد خان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک نے اپنی تقریروں میں کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے شروع ہونے والی جدوجہد اب ملک میں بحالی جمہوریت کی تحریک میں تبدیل ہو چکی ہے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر پاکستانی عدالتوں نے نظریہ ضرورت کی بنیاد پر فوجی حکومتوں کو جائز قرار نہ دیا ہوتا تو پاکستان کے حالات مختلف ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کی اس جدوجہد میں وکلاء کا ججوں سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ وہ آئندہ کبھی بھی پی سی او (پروویژنل کانسٹیٹیوشنل آرڈر) کے تحت حلف نہیں لینگے۔ وکلاء اور سیاسی کارکنوں کے نعروں کا سب سے زیادہ نشانہ صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی رہی جبکہ بارہ مئی کو چیف جسٹس کے دورۂ کراچی کے موقع پر ہونے والے تشدد کی گونج بھی نعروں میں سنائی دیتی رہی۔
سرحد سے آئے ہوئے وکلاء کی طرف سے لگایا گیا نعرہ ’ یہ جو غنڈہ گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘ وقفے وقفے سے سپریم کورٹ کے آڈیٹوریم میں گونجتا رہا۔ چیف جسٹس کے وکلاء نے اعلان کیا کہ جسٹس افتخار دو جون کو ایبٹ آباد بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر ایبٹ آباد جائیں گے۔ |
اسی بارے میں قائم مقام گورنر نہیں بنیں گے: جج 26 May, 2007 | پاکستان وکلاء سے خطاب، سفارت کار مدعو26 May, 2007 | پاکستان ’سڑکوں پر خون بہہ رہا ہے اور ۔۔۔‘25 May, 2007 | پاکستان ’تمیزالدین کیس کا حوالہ نہ دیں‘22 May, 2007 | پاکستان جنرل مشرف عوامی کٹہرے میں16 May, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار جبری چھٹی پر17 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||