قائم مقام گورنر نہیں بنیں گے: جج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ کے ججز نے آئندہ قائم مقام گورنر بننے سے انکار کر دیا ہے اور اپنے اس فیصلے سے حکومت کو آگاہ کردیا ہے۔ یہ فیصلہ جمعہ کے روز سندھ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے زیر صدارت ہونے والے فل کورٹ اجلاس میں کیا گیا۔ اس اجلاس کے بعد چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ، سیکریٹری گورنر کو ایک خط لکھ کر آگاہ کیا گیا ہے کہ آئندہ ججز قائم مقام گورنر کا حلف نہیں اٹھائیں گے۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ قائم مقام گورنر بننا انتظامیہ سے عدلیہ کی علیحدگی کے فیصلے کی بھی خلاف وزری ہے۔اس سے عدالتی کام بھی متاثر ہوتا ہے لہذا جج قائم مقام گورنر نہیں بنیں گے۔ واضح رہے کہ گورنر کی غیرموجودگی میں صوبائی اسمبلی کے اسپیکر یا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو قائم مقام گورنر مقرر کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے جب گورنر عشرت العباد متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین سے ملاقات کے لیے لندن گئے تھے تو قائم مقام چیف جسٹس سرمد جلال عثمانی کو گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ روایتی طور پر گورنر کی حلف برداری گورنر ہاؤس میں ہوتی ہے مگر جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ہائی کورٹ میں حلف اٹھایا تھا۔ |
اسی بارے میں صدر عدالت کو جوابدہ نہیں: وکیل16 May, 2007 | پاکستان حکومتی وکلاء اور ملائیشیا کی مثال19 May, 2007 | پاکستان ’ کونسل میں مداخلت نہیں‘21 May, 2007 | پاکستان وکلاء سے خطاب، سفارت کار مدعو26 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||