BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 May, 2007, 18:30 GMT 23:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدلیہ کی آزادی کی مہم خوش آئند‘

جواد ایس خواجہ
’عدلیہ کی آزادی کے لئے نیت کا صحیح ہونا ضروری ہے‘
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو غیر فعال بنائے جانے کے خلاف مستعفی ہونے والے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ اگر جج خود پابند اور غیر آزاد رہنا چاہیں تو اور بات ہے البتہ جو صحیح معنوں میں جج ہوتا ہے اس پر نہ تو کوئی دباؤ ڈال سکتا ہے اور نہ ہی وہ قابل رسائی ہو سکتا ہے۔

بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے کہا ’جب تک ایگزیکیٹو عدلیہ کو اپنی راہ میں رخنہ سمجھے گی تب تک وہ تمام اقدامات کئے جاتے رہیں گے جو عدلیہ کی بہتری اور وقار کے لیے نقصان دہ ہوں۔ عدلیہ کی آزادی کے لئے نیت کا صحیح ہونا ضروری ہے‘۔

جواد ایس خواجہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے وہ پہلے جج ہیں جنہوں نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو غیر فعال بنائے جانے، ان کے خلاف صدارتی ریفرنس اور ان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر احتجاج کرتے ہوئے عدلیہ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

پاکستان کی ماتحت عدلیہ سے ججوں کی بڑی تعداد نے استعفے دیے ہیں۔ جن میں زیادہ تعداد سندھ سے تعلق رکھنے والے ججوں کی ہے۔

جواد ایس خواجہ نے اکیس اپریل انیس سو ننانوے میں نواز شریف کی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی سے صرف چھ ماہ قبل لاہور ہائی کورٹ کے جج کا عہدہ سنبھالا اور انیس مارچ دو ہزار سات کو ملک میں عدلیہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر احتجاج کرتے ہوئے استعفےٰ دے دیا۔

سابق جسٹس جواد ایس خواجہ کا ذرائع ابلاغ کے کسی بھی ادارے سے یہ پہلا انٹرویو ہے جس میں انہوں نے صدارتی ریفرنس، پاکستان کی عدلیہ کے کردار سے متعلق پوچھے گئے سوالوں کے جواب دینے سے گریز کیا ہے، تاہم انہوں نے’ عدلیہ کی آزادی کے لیے وکلا کی جاری تحریک‘ کو خوش آئند قرار دیا۔

 اگر کوئی جج دباؤ قبول کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی کمزوری ہے۔ دباؤ کی بات بھی تو اس وقت آئے گی کہ اگر دباؤ ڈالنے والے کی جج تک رسائی ہو۔ اور ایسی رسائی ناممکن بنانا بھی جج کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔
جواد ایس خواجہ

اس سوال پر کہ انہوں نے ایک ایسے وقت میں عدلیہ سے علیحدگی اختیار کی جب عدلیہ آزمائشوں میں گھری ہوئی ہے تووہ کیا سمجھتے ہیں کہ ان کا فیصلہ درست تھا انہوں نے کہا کہ مجھے اب بھی پکا یقین ہے کہ میرا یہ فیصلہ درست تھا، تنقید بھی ہو رہی ہے اور سمجھا جا رہا ہے کہ میں عدلیہ میں رہ کر اسی طرح کام کر سکتا تھا جس طرح نو مارچ سے قبل کر رہا تھا، لیکن یہ مفروضہ غلط ہے۔

’ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میری کام کرنے کی صلاحیت نو مارچ کو ختم ہو گئی تھی۔ اور اس چیز کا مجھے پوری شدت سے احساس ہو گیا تھا جس کی وجہ سے میں نے استعفےٰ دینے کا فیصلہ کیا‘۔

یہ پوچھے جانے پر کہ پاکستان کی عدلیہ بہت مشکل حالات میں کام کرتی ہے، ہر طرف سے اس پر دباؤ ہوتے ہیں، تو کیا ایک جج کو قابل رسائی ہونا چاہیے؟ان کا کہنا تھا کہ وہ آٹھ سال سے ہائی کورٹ کے جج ہیں، اس عرصے میں ایک بار بھی ان پر کسی نے دباؤ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جج دباؤ قبول کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی کمزوری ہے۔ دباؤ کی بات بھی تو اس وقت آئے گی کہ اگر دباؤ ڈالنے والے کی جج تک رسائی ہو اور ایسی رسائی ناممکن بنانا بھی جج کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات اعلیٰ عدالتوں کے ججوں سے متعلق ضابطہِ اخلاق میں واضح طور پر تحریر ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری

جواد ایس خواجہ سے پوچھا گیا کہ آپ پر بحثیت جج کس کس طرح کے دباؤ رہے اور آپ نے ان کا کیسے سامنا کیا؟

تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی بھی کسی قسم کا کوئی دباؤ محسوس نہیں کیا۔ ان کے مطابق جج کا کام بہت سیدھا اور آسان ہے، اُس نے ہر فیصلہ قانون اور کیس کے واقعات کی روشنی میں کرنا ہوتا ہے اور اگر جج ایسا ہی کرے تو پھر اس پر کسی قسم کا دباؤ اثر نہیں کرے گا۔

جواد ایس خواجہ اعلیٰ عدلیہ کے ان ججوں میں شامل تھے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف لیا تھا ۔ ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے پی سی او کے تحت حلف کیوں لیا تھا،اس کے کیا محرکات تھے؟

انہوں نے کہا کہ اس کے کئی عوامل تھے۔ تب بھی انہوں نے ابتدائی طور پر حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔وہ اس وقت لاہور ہائی کورٹ کے جونیئر ترین جج تھے اورانہیں بحثیت جج چند ماہ ہی ہوئے تھے۔

اس وقت وہ ملتان میں تھے جہاں دیگر سات جج صاحبان بھی تعینات تھے۔ تین جج بہاولپور میں تھے جو سب کے سب حلف لینے کے لیے چلے گئے تھےاور ان کے نہ جانے کی وجہ سے حلف برداری کی تقریب روک دی گئی تھی۔

’ان دس جج صاحبان میں سے سینئر جج (جو کہ آجکل سپریم کورٹ کے جج ہیں) اور اس وقت کے صوبائی وزیر قانون خالد رانجھا میرے پاس آئے ۔ سینئر جج صاحبان نے مجھ پر زور دیا کہ میں حلف لوں۔‘

’ان کا کہنا تھا کہ انصاف کی لڑائی عدلیہ میں رہ کر ہی جاری رکھی جا سکتی ہے، عدلیہ سے علیحدہ ہو کر وہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے‘۔

سابق جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ’ تاہم میں نے ان سے پوچھا کہ اور کتنے ججز نے حلف لینے سے انکار کیا ہے تو مجھے کہا گیا کہ میرے علاوہ تمام ججز حلف لے رہے ہیں اور میں واحد جج ہوں جو انکار کر رہا ہوں‘۔

’میں نے ان سے یہ بات ملکی سطح پر پوچھی تھی لیکن ہو سکتا ہے انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کی حد تک مجھے جواب دیا ہو۔ میں نے اپنے سینئر جج صاحبان کی بات مانتے ہوئے حلف لیا تھا‘۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ان میں وہ معاملہ فہمی بھی نہیں تھی جو اب ہے۔ ’یہ تمام عوامل پی سی او کے تحت میرے حلف لینے کی وجہ بنے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد