وکلاء سے خطاب، سفارت کار مدعو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری سنیچر کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کے تحت منعقد ہونے والے ایک سمینار سے خطاب کرینگے۔ بارہ مئی کو ہنگاموں کی نظر ہو جانے والے دورہِ کراچی کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا کہ جسٹس افتخار وکلاء کی کسی تقریب میں شرکت کرینگے۔ سمینار سپریم کورٹ آف پاکستان کے آڈیٹوریم میں منقعد ہوگا اور اس کا موضوع ہے ’اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی‘۔ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے سپریم کورٹ کے آڈیٹوریم میں سمینار کی اجازت دیتے ہوئے تاکید کی ہے کہ اس موقع پر سیاسی سرگرمیوں اور کردار کشی سے پرہیز کیا جائے۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ روا رکھے جانے والےحکومتی سلوک کے خلاف سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
ادھر حکومت نے شاہراہ آئین پر لوگوں کے اجتماع کو روکنے کے لیے وفاقی دارالحکومت کے تمام راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے۔ سمینار کے مقررین میں جسٹس افتخار محمد چودھری کے علاوہ ان کے وکیل اعتزاز احسن، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار حسن اور پاکستان بار کونسل کے رکن رشید رضوی شامل ہیں۔ سمینار میں سپریم کورٹ کے ججوں کو تو مدعو نہیں کیا گیا لیکن پہلی مرتبہ سفارت کارروں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پچاس ملکوں کے سفیروں کو دعوت نامے بھجوائے ہیں۔ |
اسی بارے میں کراچی: خون سے اخبارات رنگے رہے13 May, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کی واپسی، ہنگاموں میں 34 ہلاک12 May, 2007 | پاکستان ’آمرانہ نظام ، تباہی اور بربادی‘06 May, 2007 | پاکستان جسٹس کیس میں تاخیر پر تشویش25 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||