BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء سے خطاب، سفارت کار مدعو

جسٹس افتخار محمد چودھری
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جہاں کہیں بھی جاتے ہیں وکلاء ان کا بھرپور استقبال کرتے ہیں
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری سنیچر کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کے تحت منعقد ہونے والے ایک سمینار سے خطاب کرینگے۔

بارہ مئی کو ہنگاموں کی نظر ہو جانے والے دورہِ کراچی کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا کہ جسٹس افتخار وکلاء کی کسی تقریب میں شرکت کرینگے۔ سمینار سپریم کورٹ آف پاکستان کے آڈیٹوریم میں منقعد ہوگا اور اس کا موضوع ہے ’اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی‘۔

قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے سپریم کورٹ کے آڈیٹوریم میں سمینار کی اجازت دیتے ہوئے تاکید کی ہے کہ اس موقع پر سیاسی سرگرمیوں اور کردار کشی سے پرہیز کیا جائے۔

مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ روا رکھے جانے والےحکومتی سلوک کے خلاف سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ججوں کی بجائے سفارت کار
 سمینار میں سپریم کورٹ کے ججوں کو تو مدعو نہیں کیا گیا لیکن پہلی مرتبہ سفارت کارروں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے

ادھر حکومت نے شاہراہ آئین پر لوگوں کے اجتماع کو روکنے کے لیے وفاقی دارالحکومت کے تمام راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے۔

سمینار کے مقررین میں جسٹس افتخار محمد چودھری کے علاوہ ان کے وکیل اعتزاز احسن، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار حسن اور پاکستان بار کونسل کے رکن رشید رضوی شامل ہیں۔

سمینار میں سپریم کورٹ کے ججوں کو تو مدعو نہیں کیا گیا لیکن پہلی مرتبہ سفارت کارروں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پچاس ملکوں کے سفیروں کو دعوت نامے بھجوائے ہیں۔

 کیا سید شریف الدین پیرزادہ صدر مشرف کی کرسی بچا سکتے ہیں؟’آپ تو ڈرا رہے ہیں‘
حکومتی وکلاء اور ملائیشیا کی مثال
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
جسٹس افتخار’جسٹس کیس‘
سپریم کورٹ سے جی ٹی روڈ کا سفر تاریخوں میں
رب جانے یا مشرف
’جسٹس ریلی حکومتی ریلیوں کے بیچ سینڈوچ‘
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد