قائم مقام گورنر: ججز فیصلے کی تعریف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئینی ماہرین نے سندھ ہائی کورٹ کے ججز کی طرف سے قائم مقام گورنر نہ بننے کے فیصلہ کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ عدلیہ کی آزادی کی طرف ایک قدم ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے ججز نے فل کورٹ اجلاس میں قائم مقام گورنر بننے سے انکار کردیا ہے۔ سابق وزیر قانون اور حکمران مسلم لیگ کے سینیٹر ایس ایم ظفر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بحیثیت قانون دان میرا یہ موقف ہے کہ یہ فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا کیونکہ ججز کو انتظامیہ کی طرف نہیں آنا چاہیے، چاہے کسی جج کی انتظامیہ کے عہدے پر تعیناتی تھوڑے عرصہ کے لیے ہی کیوں نہ ہو‘۔ ان کہنا تھا کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے اکھٹے ہونے سے عدلیہ کو نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے ججز کے فیصلہ کے بعد یہ روایت پڑ جانی چاہیے اور یہ بات اب اس جگہ نہیں رکے گی۔ سابق وزیر قانون ایس ایم مسعود نے سندھ ہائی کورٹ کے ججز کے فیصلے کو باہمت قدم قرار دیا ہے۔ ان کے بقول عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی ہونی چاہیے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو انتظامیہ کے عہدوں پر فائز نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے عدلیہ کی آزادی پر ضرب آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر کسی جماعت کا نمائندہ نہیں ہوتا اسی طرح اعلیٰ عدلیہ کے جج کی حیثیت بھی آزادنہ ہوتی ہے لیکن سندھ میں گورنر کے منصب پر ایک سیاسی جماعت کے نمائندہ کو فائز کردیا گیا۔ ایسی صورت میں اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کا قائم مقام گورنر پر عارضی تعیناتی عدلیہ کے لیے خرابی کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے ججز کا قائم مقام گورنر نہ بننے کا فیصلہ نہ صرف دانش مندانہ ہے بلکہ عدلیہ کی آزادی کی طرف ایک قدم ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عابد حسن منٹو نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے ججز نے ایک شاندار فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کے دستور کے مطابق عدلیہ اور انتظامیہ الگ الگ ہیں اور ان کو الگ الگ رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کی وکلاء تنظیموں کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو قائم مقام گورنر نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے ججوں نے قائم مقام گورنر نہ بننے کا فیصلہ کر کے ایک ٹھوس اقدام کیا اور اس سے عدلیہ کی آزادی کی تحریک کو تقویت ملے گی۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جسٹس (ر) ملک محمد قیوم نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے ججوں نے ایک بالکل درست فیصلہ کیا ہے کیونکہ پاکستان کے آئین کے تحت عدلیہ اور انتظامیہ اکھٹی نہیں ہوسکتیں۔ ان کے بقول اب تک آئین کی خلاف وزری ہو رہی تھی اور عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی عدلیہ کی آزادی کے لیے ضروری ہے اور اس طرح کے فیصلوں سے عدلیہ کو آزادی ملے گی۔ ’سندھ ہائی کورٹ کے ججز کا فیصلہ قابل تحسین ہے‘۔ |
اسی بارے میں صدر عدالت کو جوابدہ نہیں: وکیل16 May, 2007 | پاکستان حکومتی وکلاء اور ملائیشیا کی مثال19 May, 2007 | پاکستان ’ کونسل میں مداخلت نہیں‘21 May, 2007 | پاکستان وکلاء سے خطاب، سفارت کار مدعو26 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||