BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 July, 2007, 08:25 GMT 13:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاکتوں میں اضافہ، وکلاء کا احتجاج


پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں وکلاء کنونشن کے پنڈال کے قریب ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سترہ ہو گئی ہے۔

ادھر دھماکے کے خلاف وکلاء ملک کے بڑے شہروں میں احتجاج کر رہے ہیں۔ کراچی اور کوئٹہ میں وکلاء نے احتجاجاً عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا ہے۔


اسلام آباد سے نامہ نگار نیئر شہزاد کے مطابق مرگلہ سرکل کے اے ایس پی مقدس حیدر نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔

اے ایس پی مقدس حیدر کے مطابق اب تک کی تحقیقات سے اس بات کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا اور خود کش بمبار ایک عورت تھی۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے بم دھماکے کی تحقیقات کے لیے ایک پانچ رکنی ٹیم تشکیل دی ہے۔ اسلام پولیس کے ایس پی سی آئی ڈی محمد علی کی سربراہی میں قائم یہ تحقیقاتی ٹیم ڈی ایس پی سی آئی ڈی کے علاوہ ایف آئی اے کے سپیشل انویسٹی گیشن گروپ، ملٹری انٹیلیجنس اور آئی ایس آئی کے نمائندوں پر مشتمل ہو گی۔

ہلاک شدگان کے لیے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی

دوسری طرف ایف آئی اے کے سپیشل انویسٹی گیشن گروپ کی ٹیم نے ایک سولہ سترہ سالہ نوجوان کو گرفتار کیا ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت وہ نوجوان اس عمارت کی چھت پر تھا جس کے عین نیچے سیاسی پارٹیوں نے اپنے کیمپ قائم کیے ہوئے تھے۔

بدھ کی صبح تک پولیس نے دھماکہ والی جگہ کو گھیرے میں لیا ہوا تھا اور تمام مارکیٹ بند تھی۔

اسلام آباد کے منگل کی رات ہونے والے دھماکے کے خلاف کراچی اور کوئٹہ میں وکلاء نے احتجاجاً عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا ہے جبکہ کراچی سٹی کورٹس کے احاطے میں ہلاک شدگان کے لیے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ہے۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نمائندے ایوب ترین کے مطابق دھماکے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر بدھ کو کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور اسلام آباد میں دھماکے کو چیف جسٹس کو قتل کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔

پنجاب کے وکلاء کی نمائندہ تنظیم پنجاب بار کونسل نے بھی اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی تقریب میں خود کش حملہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر بدھ کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

بم دھماکہرپورٹرزنے کیا دیکھا
’انسانی اعضا دور دور تک بکھرے ہوئے تھے‘
عینی شاہدینعینی شاہدین
’وہ جھلس چکے تھے اور بھاگ رہے تھے‘
جسٹس ریلی کے راستے میں دھماکہاسلام آباد دھماکہ
جسٹس ریلی پنڈال سے کچھ ہی دور
اسی بارے میں
خودکش حملے، چالیس ہلاک
15 July, 2007 | پاکستان
خودکش حملہ: 24 فوجی ہلاک
14 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد