وکلاء، جماعتیں استقبال کیلئے تیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تئیس جون کو چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کی ملتان آمد کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ سنہ انیس سو اکاسی میں تشکیل پانے والی ملتان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر یہ کسی بھی چیف جسٹس آف پاکستان کا دوسرا دورہ ہوگا۔ اس سے پہلے سنہ دو ہزار پانچ میں ناظم حسین صدیقی چیف جسٹس کی حیثیت سے ملتان ہائیکورٹ بار کے عشائیہ میں شرکت کر چکے ہیں اور اس میں انہوں نے خطاب بھی کیا تھا۔ لیکن اس مرتبہ چیف جسٹس کو کسی عشائیہ میں نہیں بلکہ لائرز کنونشن میں مدعو کیا گیا ہے جس کے لئے دعوت نامے پورے پنجاب کی ایک سو نو ڈسٹرکٹ اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز کو ارسال کیے گئے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ بار کے عہدیداروں کے ذریعے وکلاء کے ساتھ ساتھ ججوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ ان میں ہائیکورٹ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اور سول کورٹس کے جج صاحبان بھی شامل ہیں۔ صدر ملتان بار حبیب اللہ شاکر کا کہنا ہے کہ ’یہ روایت ہے کہ چیف جسٹس جب کسی بار میں جاتے ہیں تو ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں کے تمام ججوں کو مدعو کیا جاتا ہے اور پروٹوکول اور احترام کے حوالے سے جج صاحبان ایسی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں جہاں چیف جسٹس موجود ہوں اور ہمیں امید ہے کہ اس تقریب میں بھی جج صاحبان کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔‘
لیکن دوسری طرف نو مارچ کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ملک کے مختلف حصوں میں جو دورے کیے ہیں یا جن تقریبات میں شرکت کی ہے ان میں پشاور، لاہور، سکھر اور حیدرآباد میں تو ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے جج صاحبان شریک ہوئے لیکن ایبٹ آباد اور فیصل آباد میں جج صاحبان کی حاضری نظر نہیں آئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ ملتان میں ہونے والے لائرز کنونشن میں چیف جسٹس کی آمد پر جج صاحبان کی شرکت کی روایت کا کیا ہوتا ہے۔ بہرحال متان ایک اہم شہر ہے اور وکلاء کی طرف سے چیف جسٹس کی بحالی کی جو تحریک جاری ہے اس میں وکلاء اور سیاسی حلقے دونوں اس دورے کو اہمیت دے رہے ہیں۔ چیف جسٹس کو لاہور سے ملتان ہوائی جہاز کی بجائے سڑک سے لانے کا جو فیصلہ چیف جسٹس کے وکلاء نے کیا ہے مبصرین کے مطابق اس کا مقصد رائے عامہ کو ہموار اور منظم کرنے کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس کے مخالفین کو دباؤ کا شکار کرنا بھی ہے۔ لاہور سے قومی شاہراہ پر پتوکی، اوکاڑہ، ساہیوال، چیچہ وطنی، میاں چنوں اور خانیوال سے ہوتے ہوئے چیف جسٹس نے ایک جلوس کی شکل میں ملتان پہنچنا ہے۔ خاص طور پر راستے میں ساہیوال میں ان کا کچھ دیر کا قیام بھی شیڈول کا حصہ ہے جس میں وہ ان وکلاء کی عیادت بھی کریں گے جو ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس تشدد سے زخمی ہو گئے تھے۔
ملتان میں چیف جسٹس کے استقبال کے لئے ملتان ہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار کی انتظامیہ نے جو پروگرام ترتیب دیے ہیں، ان کے مطابق ملتان بار کی استقبالیہ کمیٹی کے اراکین ڈیڑھ سوگاڑیوں کے جلوس کے ساتھ وکلاء چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا استقبال ملتان کے نواحی علاقہ پل رانگو پر کریں گے اور پھر انہیں جلوس کی صورت میں ہائیکورٹ ملتان بینچ لایا جائے گا، جہاں ایک بڑا پنڈال قائم کیا گیا ہے۔ ملتان بار کے سیکرٹری رانا نوید کے مطابق ہائیکورٹ ملتان بینچ کی عمارت کے لان میں قائم پنڈال میں ساڑھے پانچ ہزار کرسیاں لگائی جا رہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بار ایسوسی ایشن کے لان اور پارکنگ پر بھی شرکاء کے بیٹھنے کا بندوبست کیا جا رہا ہے، جبکہ وکلاء اور لوگوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر ایس پی چوک سے کے ایف سی چوک اور کھوسہ چیمبر سے کے ایف سی چوک تک سڑک ٹریفک کے لئے بند ہو گی۔ ملتان میں حکومت مخالف سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، ایم ایم اے، تحریک انصاف اور دیگر جماعتیں اور ان کے مقامی کارکن اور قائدین کی طرف سے بھی چیف جسٹس کا پرجوش استقبال کرنے کی تیاریاں کی گئی ہیں۔ پی پی پی پنجاب کے صدر مخدوم شاہ محمود قریشی اور ایم ایم اے کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ چوک کمہاراں والا پر ایک جلوس کے ساتھ ان کے استقبال کے لئے موجود ہونگے۔ ان کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور این جی اوز کی طرف سے عوام کو چیف جسٹس کے استقبال کے لئے مدعو کرنے اور رائے عامہ ہموار کرنےکے لئے کئی دن پہلے سے شہر کے مختلف علاقوں میں کیمپ بھی لگائے گئے ہیں۔ ملتان کی سب سے بڑی تاجر تنظیم چیمبر آف سمال ٹریڈرز نے بھی چیف جسٹس کے بھرپور استقبال کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے صدر خالد محمود قریشی کے مطابق تاجر شہر میں پانی کی سبیلیں لگائیں گے، استقبالی جلوس کے شرکاء میں پانچ ہزار لنچ باکس تقسیم کیے جائیس گے اور بِیس من پھولوں کی پتیاں ان کے جلوس کی راہ میں نچھاور کی جائیں گی۔
دوسری طرف یہ دورہ ملتان کی ضلعی انتظامیہ کے لئے بھی ایک امتحان ہے۔ چیف جسٹس کے حال ہی میں مختلف شہروں میں ہونے والے دوروں میں لوگوں کی شرکت ، جلوسوں اور تقریب کی طوالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے اپنا لائحہ عمل ترتیب دیا ہے۔ ملتان کے قائم مقام ضلعی رابطہ افسر قاضی محمد اشفاق کے مطابق ’ملتان انتظامیہ کی توجہ امن و امان کی صورتحال پر ہے۔ ہم نے وکلاء تنظیموں کے عہدیداروں کی مشاورت سے سکیورٹی پلان تشکیل دیا ہے اور پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کی گئی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ پنڈال میں کوئی غیر متعلقہ شخص داخل نہ ہو۔‘ تیرہ وکلاء جن میں جن میں بہاولپور کی دو خاتون وکلاء بھی شامل ہیں جمعرات کو اپنے شہروں سے چیف جسٹس کے استقبال کے لیے پیدل ملتان کے لئے روانہ ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ مظفرگڑھ کے چالیس وکلاء نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بھی چیف جسٹس کے استقبال کے لئے سنیچر کی صبح پیدل ملتان روانہ ہوں گے۔ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری ملتان میں ہونے والے لائرز کنونشن میں کس موضوع پر گفتگو یا خطاب کریں گے، اس کا اعلان چیف جسٹس کے وکلاء اور ملتان بار کے عہدیداروں، دونوں کی طرف سے نہیں کیا گیا۔ صدر بار حبیب اللہ شاکر کے مطابق ’چیف جسٹس ملتان میں اپنے خطاب سے پہلے خود ہی بتائیں گے کہ انہوں نے کس موضوع پر بات کرنی ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||