 | | | بعض لوگ تو چیف جسٹس کی بحالی کو ملک سے آمریت کا خاتمہ قرار دے رہے ہیں |
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نو مارچ 2007 کو ساڑھے دس بجے تک عدالتی کام کرنے کے بعد بینچ سے اُٹھ گئے تھے، کیونکہ ساڑھےگیارہ بجے ان کی صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات طے تھی۔ صدر جنرل مشرف سے ملاقات ’حبسِ بے جا‘ میں بدل گئی اور جب پانچ گھنٹے بعد انہیں فوجی نگرانی میں واپس چیف جسٹس ہاؤس پہنچایا گیا تو ان کے بیرونی دنیا سے رابطے منقطع ہو چکے تھے۔ چیف جسٹس پیر کے روز چار ماہ دس دن کے بعد ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کے اسی کمرہِ عدالت میں مقدموں کی سماعت شروع کریں گے، جہاں جمعے کے روز انہیں بحال کرنے کاحکم سنایا گیا ہے۔ ان چار مہینوں میں چیف جسٹس نے بلوچستان کے علاوہ ملک کے تینوں صوبوں کے کئی شہروں کا دورہ کیا، جہاں لاکھوں لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک کے بقول جسٹس افتخار محمد چودھری چیف جسٹس آف پاکستان کے علاوہ اب ’پیپلز چیف جسٹس‘ کے عہدے پر بھی فائز ہو چکے ہیں۔  | صدر کی وردی  اگر انہوں نےصدر جنرل پرویز مشرف کی وردی سے متعلق زیرِ التو درخواست کا فیصلہ نہ کیا تو شدید گرمی کے موسم میں خون اور پسینہ بہانے والے لاکھوں لوگوں کو انتہائی مایوسی ہوگی  |
بعض لوگ تو چیف جسٹس کی بحالی کو ملک سے آمریت کا خاتمہ قرار دے رہے ہیں، لیکن کیا وہ لوگوں کی ان امیدوں پر پورا اتر پائیں گے؟ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پیر کے روز جب ایک بار پھر مقدموں کی سماعت شروع کریں گے تو ان کے سامنے وہ مقدمے تو نہیں ہوں گے جو ان کے بقول ان کے خلاف حکومتی کارروائی کا باعث بنے، لیکن وہ مقدمے بہرحال سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔ چیف جسٹس نے اپنی آئینی درخواست نمبر07/21 میں لکھا کہ ان کے خلاف حکومتی کارروائی کی مندرجہ ذیل وجوہات تھیں: 1) ایک سال میں چھ ہزار انسانی حقوق کی درخواستوں کو نمٹانا 2) سٹیل ملز کی نج کاری سے متعلق فیصلہ 3) گوادر میں بااثر افراد کو زمینوں کی الاٹمنٹ کی انکوائری شروع کرنا 4) ماحول کو بچانے کے لیے پنجاب حکومت کے نیو مری منصوبے کو روکنا 5) اسلام آباد میں پارک کو مِنی گاف کلب میں بدلنے کے فیصلے کو روکنا 6) لاپتہ لوگوں سے متعلق مقدمے کی سماعت شروع کرنا 7) منو بھیل کے مقدمے میں پیر پگاڑا کے قریبی رشتہ دار عبد الرحمن بروہی کی گرفتاری کا حکم دینا 8) لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانے کا از خود نوٹس  | عوامی چیف جسٹس  سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک کے بقول جسٹس افتخار محمد چودھری چیف جسٹس آف پاکستان کے علاوہ اب پیپلز چیف جسٹس کے عہدے پر بھی فائز ہو چکے ہیں  |
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنی اس درخواست میں لکھا کہ کچھ ’اہم‘ درخواستوں کی مارچ میں سماعت ہونا تھی۔ یہ ’اہم‘ درخواستیں مندرجہ ذیل ہیں۔ الف) صدر جنرل پرویز مشرف کے یونیفارم سے متعلق ریویو پیٹشن ب) صدارت پاکستان سے متعلق درخواستیں جن کی سماعت مارچ میں طے تھی پ) حبیب بینک، پی ٹی سی ایل کی نج کاری ت) پیٹرول کی قیمتوں سے متعلق درخواستیں چیف جسٹس اگر تمام درخواستوں کا فیصلہ نہ بھی کریں لیکن اگر انہوں نےصدر جنرل پرویز مشرف کی وردی سے متعلق زیرِ التو درخواست کا فیصلہ نہ کیا تو شدید گرمی کے موسم میں خون اور پسینہ بہانے والے لاکھوں لوگوں کو انتہائی مایوسی ہوگی۔
|