BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 July, 2007, 12:04 GMT 17:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہم اقوال: ’ شرات کروگے تو جج بنادوں گا۔۔۔‘

سپریم کورٹ
سماعت کے دوران وکلا اور ججوں دونوں ہی کی طرف سے کئی دلچسپ اقوال سامنے آئے۔

گزشتہ چند ہفتوں میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مقدمے کی سماعت کے دوران کچھ دلچسب باتیں سننے کو ملیں جو حسب ذیل ہیں:

21 مئی


مولا جٹ سپریم کورٹ میں
News image
 ’ مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نہی مردا‘
اعتزاز احسن
جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست پر سماعت کے دوران تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک کونسل ہے جس کو صدر سے ’ہدایت‘ ملتی ہے اور وہ صدر کو ’سفارش‘ کرنے کی مجاز ہے، اس کو سپریم کورٹ کے مقابلے کی عدالت کیسے مان لیا جائے۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے جب دلائل کے دوران آئین میں اسلامی دفعات کا ذکر کیا تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ حکومتیں اسلام کے نام پر بھی ہیرا پھیری کرنے سے باز نہیں آتیں اور اسلام کے نام پر بنائی جانے والی فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کو او ایس ڈی بنا کر بیکار بنا دیا جاتا ہے۔

22 مئی


’شرارت کروگے تو جج بنا دوں گا۔۔۔‘
News image
 جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ پاکستان میں ججوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے اگر جاری رہا تو لوگ اپنے بچوں کو یہ کہہ کر ڈرایا کریں گے کہ ’جج بنا دوں گا اور زیادہ (شرارت) کروگے تو چیف جسٹس بنا دوں گا‘۔
جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ ’خدارا ہمیں مولوی تمیز الدین کیس کا حوالہ نہ دیں یہ ہمارے لیے طعنہ بن چکا ہے۔‘ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے یہ ’ریمارکس‘ اس وقت دیے جب سرکاری وکیل ملک قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں مولوی تمیز الدین کیس کے بعد موجودہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سب سے اہم ہوگا۔

جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ مولوی تمیز الدین کیس میں جسٹس منیر کا فیصلہ عدلیہ کے لیے طعنہ بن گیا ہے اور اس کیس کا فیصلہ بھی کہیں یہی صورت نہ اختیار کر لے۔

پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کو جب گورنر جنرل غلام محمد نے برطرف کر دیا تھا تو اس وقت اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین نے سندھ ہائی کورٹ میں اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ نے قانون ساز اسمبلی کی برطرفی کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے فیصلہ مولوی تمیز الدین کے حق میں دیا تھا جس کے بعد گورنر جنرل کی طرف سے وفاقی عدالت یا سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور اس اپیل کو جسٹس منیر کی سربراہی میں قائم بینچ نے منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ تکنیکی بنیادوں پر کالعدم قرار دے دیا تھا۔

23 مئی


قائد اعظم کا ’احسان‘
News image
 چوراسی سالہ سید شریف الدین پیرزادہ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ تم وکیل بنو۔ جسٹس خلیل الرحمن نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’قائد اعظم کا یہ بھی ہم پر احسان ہے‘۔
شریف الدین پیرزادہ
جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ پاکستان میں ججوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے اگر جاری رہا تو لوگ اپنے بچوں کو یہ کہہ کر ڈرایا کریں گے کہ ’جج بنا دوں گا اور زیادہ (شرارت) کروگے تو چیف جسٹس بنا دوں گا‘۔

مقدمے کی سماعت کے دوران جب وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری وقت سے پہلے ہی سپریم کورٹ میں درخواست لے کر پہنچ گئے ہیں، تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا وفاقی حکومت کے وکیل انتہائی خطرناک بات کر رہے ہیں۔

جسٹس رمدے نے کہا کہ سادہ الفاظ میں وفاقی حکومت کے وکیل کے دلائل کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے سپریم جوڈیشل کونسل کو چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کرنے دی جائے اور اس کے بعد وہ عدالت سے رجوع کریں جس پر عدالت کوئی حکم جاری کرے۔

جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل نےچیف جسٹس کے خلاف کوئی فضول حکم جاری کر دیا تو اس حکم کے خلاف کوئی اپیل بھی دائر نہیں کی جا سکے گی۔

24 مئی


سپریم کورٹ کا کاکم نہیں
News image
 سپریم کورٹ صدر کی ’بدعملی‘ پر فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں ہے اور یہ اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے جو صدر کا مواخذہ کر سکتی ہے۔
جسٹس فقیر کھوکھر
درخواست کی سماعت کے موقع پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اگر کسی کلرک یا نائب قاصد کو سروس سے نکال دیا جائے تو وہ بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق رکھتا ہے لیکن اگر سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ کی روشنی میں ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے کسی جج کو نکال دیا جائے تو وہ کہیں اپیل دائر کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ وہ موجودہ مقدمے کے فیصلے میں شاید مقننہ کو یہ سفارش کریں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ کے روشنی میں نکالے جانے والے جج کو اپیل کا حق دینے کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے۔

25 مئی


کیا جج کو اپیل کا اختیار نہیں؟
 درخواست کی سماعت کے موقع پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اگر کسی کلرک یا نائب قاصد کو سروس سے نکال دیا جائے تو وہ بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق رکھتا ہے لیکن اگر سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ کی روشنی میں ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے کسی جج کو نکال دیا جائے تو وہ کہیں اپیل دائر کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
سماعت کے دوران ایک موقع پر اعتزاز احسن نے کہا کہ پنجاب کے سابق گورنر مصطفیٰ کھر نے کہا ہے کہ اعتزاز احسن اور انہیں مروا دیا جائےگا۔ اعتزاز احسن نے مشہور پنجابی فلم مولا جٹ کا ایک ڈائیلاگ بولا جس میں فلم کا ہیرو کہتا ہے ’ مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نہی مردا‘ تو عدالت کے سربراہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وکیل کتنی اعلیٰ بحث کرتے ہوئے کہاں پہنچ گئے ہیں۔

28 مئی


’صدر بھی سپریم کورٹ کو جوابدہ‘
 جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ صدر سمیت تمام عہدیدار سپریم کورٹ کے سامنے جوبداہ ہیں۔ سماعت کے دوران ایک موقع پر جسٹس رمدے نے کہا کہ ہر معاشرے کی بنیاد انصاف پر ہوتی ہے اور صرف انصاف کی فراہمی کی ہی وجہ سے شہری مملکت سے وفادار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں وہ معاشرے تباہ ہوگئے جہاں انصاف کا فقدان تھا۔
سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کا فیصلہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر کیا جائے گا۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ وکیل یقین رکھیں کہ عدالت اس مقدمے کا فیصلہ ضرور کرے گی لیکن ساتھ ایک واقعہ بھی سنایا جس کا لب لباب یہ تھا کہ آپ تو ہمیں طاقت ور ہونے کا کہہ کر فیصلہ اپنے حق کروانے کی کوشش کر رہے ہو لیکن اس کے نتائج تو ہمیں ہی بھگتنا پڑیں گے۔

جسٹس فقیر کھوکھر نے کہا کہ سپریم کورٹ صدر کی ’بدعملی‘ پر فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں ہے اور یہ اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے جو صدر کا مواخذہ کر سکتی ہے۔
30 مئی



پاکستان بار کونسل کے وکیل حامد خان نے کہا کہ صدر کسی جج کے خلاف ریفرنس کابینہ سے منظوری کے بعد ہی بھیج سکتے ہیں۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ ہوگیا کہ کابینہ ججوں کے بارے میں فیصلے کی مجاز ہے تو پھر بھی وکلاء کو اعتراضات ہوں گے اور وکلاء کے نمائندوں کو ابھی سے سوچ لینا چاہیے کہ ججوں کی تعیناتی اور ان کو ہٹانے کے لیے سیاستدانوں کے ایک بڑے گروپ کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس رمدے نے کہا ججوں کی تعیناتی کو خفیہ رکھنے کی حکمت ان کی سمجھ سے بالاتر ہے اور انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ تعیناتی سے پہلے ممکنہ ججوں کے ناموں کا اعلان کیا جائے تاکہ اگر کسی کو جج پر اعتراض ہے تو وہ سامنے آئے۔
31 مئی



جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ صدر سمیت تمام عہدیدار سپریم کورٹ کے سامنے جوبداہ ہیں۔ سماعت کے دوران ایک موقع پر جسٹس رمدے نے کہا کہ ہر معاشرے کی بنیاد انصاف پر ہوتی ہے اور صرف انصاف کی فراہمی کی ہی وجہ سے شہری مملکت سے وفادار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں وہ معاشرے تباہ ہوگئے جہاں انصاف کا فقدان تھا۔

29 مئی



سماعت کےدوران بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ جب خلیفہ دوئم حضرت عمر سے سوال پوچھا جا سکتا ہے تو صدر جنرل پرویز مشرف عدالت میں کیوں پیش نہیں ہو سکتے۔

6 جون



چوراسی سالہ سید شریف الدین پیرزادہ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ تم وکیل بنو۔ جسٹس خلیل الرحمن نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’قائد اعظم کا یہ بھی ہم پر احسان ہے‘۔

’سپریم کورٹ بھی کٹہرے میں‘
 جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ صرف ملک کے چیف جسٹس کٹہرے میں نہیں کھڑے ہیں بلکہ پوری عدالت عظمٰی کٹہرے میں کھڑی ہے۔ ’جسٹس افتخار محمد چودھری آج بھی چیف جسٹس ہیں اور ہم سے امید کی جا رہی ہے کہ ہم چیف جسٹس کو انصاف مہیا کریں۔‘
بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ سید شریف الدین کو خود کا موازنہ قائداعظم کے ساتھ نہیں کرنا چاہیے تھا۔’انہوں نے ساری زندگی فوجی حکمرانوں کی وکالت کرتے ہوئے گزاری ہے۔‘

سید شریف الدین پیرزادہ نے سماعت کے اختتام پر کہا کہ اگر قائداعظم ہوتے تو ملک میں فوج کی حکمرانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا تھا اور اعتزاز احسن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’نہ ہی ان جیسے لوگ ہوتے‘۔

12 جون



جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ صرف ملک کے چیف جسٹس کٹہرے میں نہیں کھڑے ہیں بلکہ پوری عدالت عظمٰی کٹہرے میں کھڑی ہے۔ ’جسٹس افتخار محمد چودھری آج بھی چیف جسٹس ہیں اور ہم سے امید کی جا رہی ہے کہ ہم چیف جسٹس کو انصاف مہیا کریں۔‘

جسٹس رمدے نے کہا کہ عدالت کے لیے دونوں ہستیاں (چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور صدر جنرل پرویز مشرف) قابل احترام ہیں اور عدالت کو حقائق کےمطابق فیصلہ کرنا ہے۔

26 جون



جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہی ملک کے تمام مسائل کی ذمہ دار نہیں ہے۔ ’مان لیا کہ ہم اتنے اچھے لوگ نہیں لیکن ہم ہی ملعون اور قابل طعنہ زنی نہیں۔‘

27 جون



جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا یہ ’کیس‘ نہیں ’کرائسس‘ ہے یعنی مقدمہ نہیں بحران ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت نقصان ہو چکا ہے اور اب کچھ نہ کچھ افہام وتفہیم کی فضا پیدا ہونی چاہیے۔

5 جولائی



جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ تاریخی ہوگا اور ہنستے ہوئے کہا کہ ’اگر آیا تو‘۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے جواباً کہا: ’انشاء اللہ آئے گا اور اچھا آئے گا‘۔
جسٹس افتخار (فائل فوٹو)چیف جسٹس کیس
’مقدمہ اگلےدو ہفتوں میں اختتام پذیرہوسکتا ہے‘
جسٹس خلیل الرحمن چیف جسٹس کیس
اگر فیصلہ آیا تو تاریخی ہوگا: سپریم کورٹ
جسٹس افتخار محمد چودھری حکومتی بیاناتِ حلفی
چیف جسٹس پر خفیہ اداروں کے الزامات
 کیا سید شریف الدین پیرزادہ صدر مشرف کی کرسی بچا سکتے ہیں؟’آپ تو ڈرا رہے ہیں‘
حکومتی وکلاء اور ملائیشیا کی مثال
موبائل’گو مشرف گو‘
صدر کے خلاف احتجاج ’موبائل‘ ہو گیا
جسٹس افتخارجسٹس کا قافلہ
جسٹس افتخار کا اسلام آباد تا لاہور سفر
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد