اہم اقوال: ’ شرات کروگے تو جج بنادوں گا۔۔۔‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ چند ہفتوں میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مقدمے کی سماعت کے دوران کچھ دلچسب باتیں سننے کو ملیں جو حسب ذیل ہیں: 21 مئی
وفاقی حکومت کے وکیل نے جب دلائل کے دوران آئین میں اسلامی دفعات کا ذکر کیا تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ حکومتیں اسلام کے نام پر بھی ہیرا پھیری کرنے سے باز نہیں آتیں اور اسلام کے نام پر بنائی جانے والی فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کو او ایس ڈی بنا کر بیکار بنا دیا جاتا ہے۔ 22 مئی
جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ مولوی تمیز الدین کیس میں جسٹس منیر کا فیصلہ عدلیہ کے لیے طعنہ بن گیا ہے اور اس کیس کا فیصلہ بھی کہیں یہی صورت نہ اختیار کر لے۔ پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کو جب گورنر جنرل غلام محمد نے برطرف کر دیا تھا تو اس وقت اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین نے سندھ ہائی کورٹ میں اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ نے قانون ساز اسمبلی کی برطرفی کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے فیصلہ مولوی تمیز الدین کے حق میں دیا تھا جس کے بعد گورنر جنرل کی طرف سے وفاقی عدالت یا سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور اس اپیل کو جسٹس منیر کی سربراہی میں قائم بینچ نے منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ تکنیکی بنیادوں پر کالعدم قرار دے دیا تھا۔ 23 مئی
مقدمے کی سماعت کے دوران جب وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری وقت سے پہلے ہی سپریم کورٹ میں درخواست لے کر پہنچ گئے ہیں، تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا وفاقی حکومت کے وکیل انتہائی خطرناک بات کر رہے ہیں۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ سادہ الفاظ میں وفاقی حکومت کے وکیل کے دلائل کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے سپریم جوڈیشل کونسل کو چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کرنے دی جائے اور اس کے بعد وہ عدالت سے رجوع کریں جس پر عدالت کوئی حکم جاری کرے۔ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل نےچیف جسٹس کے خلاف کوئی فضول حکم جاری کر دیا تو اس حکم کے خلاف کوئی اپیل بھی دائر نہیں کی جا سکے گی۔ 24 مئی
بینچ کے سربراہ نے کہا کہ وہ موجودہ مقدمے کے فیصلے میں شاید مقننہ کو یہ سفارش کریں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ کے روشنی میں نکالے جانے والے جج کو اپیل کا حق دینے کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے۔ 25 مئی
28 مئی
جسٹس فقیر کھوکھر نے کہا کہ سپریم کورٹ صدر کی ’بدعملی‘ پر فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں ہے اور یہ اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے جو صدر کا مواخذہ کر سکتی ہے۔ پاکستان بار کونسل کے وکیل حامد خان نے کہا کہ صدر کسی جج کے خلاف ریفرنس کابینہ سے منظوری کے بعد ہی بھیج سکتے ہیں۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ ہوگیا کہ کابینہ ججوں کے بارے میں فیصلے کی مجاز ہے تو پھر بھی وکلاء کو اعتراضات ہوں گے اور وکلاء کے نمائندوں کو ابھی سے سوچ لینا چاہیے کہ ججوں کی تعیناتی اور ان کو ہٹانے کے لیے سیاستدانوں کے ایک بڑے گروپ کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس رمدے نے کہا ججوں کی تعیناتی کو خفیہ رکھنے کی حکمت ان کی سمجھ سے بالاتر ہے اور انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ تعیناتی سے پہلے ممکنہ ججوں کے ناموں کا اعلان کیا جائے تاکہ اگر کسی کو جج پر اعتراض ہے تو وہ سامنے آئے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ صدر سمیت تمام عہدیدار سپریم کورٹ کے سامنے جوبداہ ہیں۔ سماعت کے دوران ایک موقع پر جسٹس رمدے نے کہا کہ ہر معاشرے کی بنیاد انصاف پر ہوتی ہے اور صرف انصاف کی فراہمی کی ہی وجہ سے شہری مملکت سے وفادار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں وہ معاشرے تباہ ہوگئے جہاں انصاف کا فقدان تھا۔ 29 مئی سماعت کےدوران بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ جب خلیفہ دوئم حضرت عمر سے سوال پوچھا جا سکتا ہے تو صدر جنرل پرویز مشرف عدالت میں کیوں پیش نہیں ہو سکتے۔ 6 جون چوراسی سالہ سید شریف الدین پیرزادہ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ تم وکیل بنو۔ جسٹس خلیل الرحمن نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’قائد اعظم کا یہ بھی ہم پر احسان ہے‘۔
سید شریف الدین پیرزادہ نے سماعت کے اختتام پر کہا کہ اگر قائداعظم ہوتے تو ملک میں فوج کی حکمرانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا تھا اور اعتزاز احسن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’نہ ہی ان جیسے لوگ ہوتے‘۔ 12 جون جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ صرف ملک کے چیف جسٹس کٹہرے میں نہیں کھڑے ہیں بلکہ پوری عدالت عظمٰی کٹہرے میں کھڑی ہے۔ ’جسٹس افتخار محمد چودھری آج بھی چیف جسٹس ہیں اور ہم سے امید کی جا رہی ہے کہ ہم چیف جسٹس کو انصاف مہیا کریں۔‘ جسٹس رمدے نے کہا کہ عدالت کے لیے دونوں ہستیاں (چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور صدر جنرل پرویز مشرف) قابل احترام ہیں اور عدالت کو حقائق کےمطابق فیصلہ کرنا ہے۔ 26 جون جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہی ملک کے تمام مسائل کی ذمہ دار نہیں ہے۔ ’مان لیا کہ ہم اتنے اچھے لوگ نہیں لیکن ہم ہی ملعون اور قابل طعنہ زنی نہیں۔‘ 27 جون جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا یہ ’کیس‘ نہیں ’کرائسس‘ ہے یعنی مقدمہ نہیں بحران ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت نقصان ہو چکا ہے اور اب کچھ نہ کچھ افہام وتفہیم کی فضا پیدا ہونی چاہیے۔ 5 جولائی جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ تاریخی ہوگا اور ہنستے ہوئے کہا کہ ’اگر آیا تو‘۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے جواباً کہا: ’انشاء اللہ آئے گا اور اچھا آئے گا‘۔ |
اسی بارے میں ’کچھ معاملات پر ہونٹ سِلے ہیں‘18 July, 2007 | پاکستان یومِ سوگ، عدالتوں کا بائیکاٹ17 July, 2007 | پاکستان ’فیصلہ بیس جولائی تک متوقع‘11 July, 2007 | پاکستان ’تو پھر فیصلہ عوام سے کرا لیں‘09 July, 2007 | پاکستان ’ایڈوائس وزیر اعظم ہی کی تھی‘04 July, 2007 | پاکستان ’سوال ہے احتساب کون کرے گا‘03 July, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ میں حکومت کی معافی 02 July, 2007 | پاکستان مقدمہ نہیں بحران ہے: جسٹس رمدے27 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||