’کچھ معاملات پر ہونٹ سِلے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف کارروائی کے بعض پہلوؤں پر ان کے ہونٹ سلے ہوئے ہیں لیکن وہ ججوں سے بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب چیف جسٹس کےخلاف ایکشن لیا گیا تو ججوں نے کیا رد عمل ظاہر کیا تھا۔ سید شریف الدین پیرزداہ نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والی تیرہ رکنی فل کورٹ سے کہا ’میرا آپ سے سوال ہے کہ جب چیف جسٹس کے خلاف کارروائی ہوئی آپ نے کیا کیا، آپ نے دو قائم مقام چیف جسٹسوں بنائے گئے روسٹر کے تحت مقدموں کا فیصلہ کیا۔‘ فل کورٹ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا ’پیرزادہ صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا مقدمہ اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ بدھ کے روز حکومتی وکلاء نے اپنے دلائل مکمل کر لیے ۔ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن جمعرات کے روز اپنے جوابی دلائل شروع کریں گے۔ اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ وہ جمعرات کے روز ہی اپنے دلائل مکمل کر لیں گے۔ چودہ مئی سے شروع ہونے والے اس مقدمے اب تک اکتالیس دن تک دلائل دیئے جا چکے ہیں۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ صدر پاکستان کو ریاستی معاملات میں عدالت کے سامنے نہیں بلایا جا سکتا لیکن اگر معاملہ ان کی ذات کا ہو تو عدالت ان کو طلب کر سکتی ہے۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے جب اسلامی دور کے حوالوں سے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وقت حاکم کو ریاستی معاملات میں عدالت میں طلب نہیں کیا جا سکتا تو فل کورٹ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں عدلیہ اور انتظامیہ علیحدہ ادارے نہیں تھے۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ وقتِ حاکم قاضی بھی ہوتا تھا اور سپہ سالار بھی۔
سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ اسلامی اصولوں کے مطابق قاضی اگر ایسے معاملات میں ملوث ہو جو اس کے عہدے سے مطابقت نہ رکھتے تو ایسے قاضی کو برخاست کر کے ’رسوا‘ کرنا جائز ہے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ بے عزتی صرف قاضی کےحصے میں کیوں ہے، سپہ سالار اور دوسرے عہدیدار اس سے کیوں مبرا ہیں۔ جسٹس رمدے نے حضرت عمر کے دور میں مشہور سپہ سالار خالد بن ولید کو برخاست کرنے کے واقعہ کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ اصول سب کے لیے برابر ہونا چاہئیں۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا ججوں کا احتساب عدلیہ کی آزادی کا اہم عنصر ہے اور چیف جسٹس بھی ایک جج ہوتا ہے اور احتساب کا جو طریقہ کار دوسرے ججوں کے لیے ہے وہی چیف جسٹس پر بھی لاگو ہوگا۔ جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ کوئی شخص اس بنا پر احتساب سے نہیں بچ سکتا کہ وہ جج یا قاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاضی کے لیے سزا دوسرں سے زیادہ سخت ہونی چاہیے۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے پاکستان کے ابتدائی دنوں سے لے کر انیس سو تہتر کے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اگر چیف جسٹس کےخلاف ریفرنس دائر کیا گیا ہو تو چیف جسٹس کے بعد سب سے زیادہ سینئر جج چیف جسٹس کا کردار نبھائے گا۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے برطانیہ کے 1921 کے ایسے مقدمے کا حوالہ دیا جس میں چیف جسٹس کو اپنے استعفے کی خبر اخبار سے ملی۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے ان سے بغیر تاریخ کے استعفی لے لیا گیا تھا۔ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے اس موقع پر کہا کہ ان کو سمجھ نہیں آ رہی کہ سید شریف الدین اس مقدمے کا حوالہ کیوں دے رہے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اس مقدمے کا حوالہ دینے کے بھی وہی مقصد ہیں جس کے لیے حکومتی وکلاء نے ملائیشیا کی سپریم کورٹ کا حوالہ دیا تھا۔ ملائشیا میں ان ججوں کو بھی نکال دیا گیا تھا جنہوں نے چیف جسٹس کے خلاف کارروائی رکوانے کی کوشش کی تھی۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا پاکستان میں ایک وقت وہ بھی تھا جب ججوں کو معطل کیا جا سکتا تھا اور جسٹس اخلاق کو معطل کیا گیا تھا۔ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ یہ مارشل لاء کے زمانے کا ایک قانون تھا لیکن اس کے تحت بھی جج کو معطل کرنے سے پہلے چیف جسٹس سے مشورہ لازمی تھا۔
جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ لوگوں کو اعتبار ہی نہیں ہے کہ جن ججوں کے بھی مقدمے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجے گئے وہ درست تھے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس اخلاق احمد جو ایک جرات والے جج تھے، ان کا جسٹس منیر کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا اور جب جسٹس منیر چیف جسٹس بنے تو انہوں نے جسٹس اخلاق احمد کا مقدمہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجوا دیا۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ جسٹس صفدر شاہ نےجب ذوالفقار علی بھٹو کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تو ان کا مقدمہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیا گیا اور جج ملک سے فرار ہو گئے۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ یہ درست ہے کہ جسٹس اخلاق احمد اور جسٹس منیر کے درمیان ایک محفل میں تلخ کلامی ہوئی تھی۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ جسٹس منیر نے باؤنڈری کمشن میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن ان کے عدالتی فیصلوں نے ملک میں جمہوریت کو تباہ کر دیا۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ جب کسی جج کے خلاف ریفرنس دائر ہو جائے تو اس جج سے امید کی جاتی ہے وہ رضاکارانہ طور پر چھٹی پر چلا جائے گا۔ جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے سید شریف الدین پیرزادہ سے پوچھا کہ کیا چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بھی رضا کارانہ طور پر چھٹی پر چلے جانے کا موقع دیا گیا تھا۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کے بعض پہلوؤں پر ان کے ہونٹ سلے ہوئے ہیں اور جب چیف جسٹس کے خلاف کارروائی شروع ہوئی وہ ملک میں نہیں تھے۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ وہ عدالت سے سوال کرتے ہیں کہ جب چیف جسٹس کے خلاف کارروائی ہوئی تو ججوں کا کیا ردعمل تھا۔ انہوں نے چیف جسٹس کو کام سے روکے جانے کے بعد دو قائم مقام چیف جسٹس مقرر ہوئے اور تمام ججوں نے انہی قائم مقام چیف جسٹسوں کے بنائے ہوئے روسٹر کے مطابق مقدموں کی سماعت کی۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ وہ جج جس کے ریفرنس دائر کیا گیا اگر وہ چاہے تو سپریم جوڈیشل کونسل کی کاررائی کھلی عدالت میں ہونی چاہیے۔ عدالت نے شریف الدین پیرزادہ سے استفسار کیا کہ اگر ریفرنس چیف جسٹس کے خلاف دائر ہو اور وہ رضاکارانہ طور پر چھٹی پر جانے سے انکار کرے تو ایسی صورت میں کیا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ اس چیف جسٹس کو کام سے روکنے کا وہی اختیار کیا جانا چاہیے جو جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ ان کے ساتھی ججوں نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں بیٹھے سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو کام کرنےسے روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اس فیصلے پر بڑے تبصرے ہو چکے ہیں اور بریف کیس کا تذکرہ سننے میں آتا ہے۔ سید شریف الدین نے کہا کہ بریف کیس کا تذکرہ صرف جسٹس رفیق تارڑ کے بارے میں ہے۔ اسی کے ساتھ سید شریف الدین کے دلائل ختم ہو گئے۔ عدالتی کارروائی کے اختتام پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے چیف جسٹس کے وکلاء سے کہا کہ وہ چیف جسٹس کو وکلاء کی تقاریب میں لے جانے کی پالیسی کا جائزہ لیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن سے کہا کہ وہ ذاتی حیثیت میں ان سے کہہ رہے ہیں کہ جب عدالت نامساعد حالات میں پچھلے ڈھائی مہینوں سے مقدمے کی سماعت کر رہی ہے تو وکلاء کو بھی سوچنا چاہیے کہ اب کافی ہو چکا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر عدالت نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کر دیا تو وہ عدالت کا حصہ ہوں گے اور وہ وکلاء کی تحریک میں شریک نہیں ہوں گے۔ عدالت کی کارروائی جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔ |
اسی بارے میں ’رات میں اجلاس کس نے بلایا‘17 July, 2007 | پاکستان غیر موزوں عدالتی رویہ، الزام واپس 16 July, 2007 | پاکستان ’فیصلہ بیس جولائی تک متوقع‘11 July, 2007 | پاکستان ’صورت حال 9 مارچ پر چلی جائے گی‘28 June, 2007 | پاکستان ’ایڈوائس وزیر اعظم ہی کی تھی‘04 July, 2007 | پاکستان ’آئین میں مداخلت سنگین جرم ہے‘15 July, 2007 | پاکستان جوڈیشل کونسل بدل سکتی ہے: قیوم12 July, 2007 | پاکستان جسٹس کیس: ’اگلے دو ہفتے فیصلہ کن‘06 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||