جوڈیشل کونسل بدل سکتی ہے: قیوم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی حکومت کے وکیل نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست سننے والی فل کورٹ کو بتایا ہے کہ حکومت کو سپریم جوڈیشل کونسل کے ان ممبران کو تبدیل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے جن پر چیف جسٹس نے متعصب ہونے کا الزام لگایا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم جوڈیشل کونسل کے تین ممبران، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبد الحمید ڈوگر اور جسٹس افتخار حسین چودھری کے بارے میں کہا ہے کہ انہیں ان ججوں سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے مؤکل سے ہدایات لینے کے بعد عدالت کے سامنے کہہ رہے ہیں کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل کے جن ممبران پر تعصب کا الزام لگایا گیا ہے اور وہ الزامات لغو نہیں ہیں تو ان ججوں کی جگہ نئے جج لگائے جا سکتے ہیں۔
جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے حکومتی وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’اس کے علاوہ بھی کچھ سوچ لیں۔ دو مہینے بعد آپ کو کچھ اور خیال آ جائے گا‘۔ حکومت کے وکیل ملک قیوم نے مزید کہا کہ حکومت کو سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائی جس میں حساس نوعیت کی معلومات ہوں اسے بند کمرے میں ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنی آئینی درخواست میں استدعا کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں ہونی چاہیے۔
وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ وہ ایسے کاغذات کو عدالت میں پیش نہیں کریں گے جن میں ججوں کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ عدالت نے سپریم جوڈیشل کونسل کا ریکارڈ عدالت کے سامنے رکھنے کی وجہ سے حکومتی ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کے لائسنس کو معطل کر دیا تھا اور حکومت کو ایک لاکھ روپے بطور اخراجات ادا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے سپریم جوڈیشل کونسل کے ریکارڈ کو ایک بار پھر عدالت کے سامنے لانے کی استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی حکومت کے وکیل سپریم جوڈیشل کونسل کے کاغذات کو عدالت کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں تو پھر ان کو مکمل ریکارڈ عدالت کے سامنے لانا چاہیے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عدالت انہیں کاغذات کا معائنہ کر کے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کا فیصلہ کر دے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس میں لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے گواہ بھی پیش نہیں کریں گے اور عدالت کو کاغذات کو ہی دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ اگر عدالت نے ریفرنس پر کارروائی شروع کی تو وہ اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے کے لیے گواہوں کو بلائیں گےاور ان گواہوں میں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز شامل ہوں گے۔ اس موقع پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کا ریکارڈ عدالت کے سامنے نہیں پیش کریں گے اور صرف چیف جسٹس کے خلاف دائر کیے جانے والے ریفرنس کو پڑھیں گے جو پہلے ہی عدالت کے ریکارڈ پر موجود ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے جب عدالت سے کہا کہ وہ ایسے ججوں کو تبدیل کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے کہ جن پر تعصب کا الزام لگایا گیا ہو تو جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ عدالت کے پاس کسی جج کو متعصب قرار دینے کا اختیار نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس میں سپریم کورٹ نے محترمہ بینظیر بھٹو کے مقدمے میں جسٹس ملک قیوم (وفاقی حکومت کے وکیل) اور سپریم کورٹ کے جج راشد عزیز کو متعصب جج قرار دے دیا تھا جس کی بنا پر ان کو بطور جج مستعفی ہونا پڑا تھا۔ ملک قیوم نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ عدالت سے نکل کر زیادہ اچھی زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن ان کو جسٹس راشد عزیز پر افسوس ہے۔ بنچ کے ایک رکن نے کہا جسٹس راشد عزیز بھی نیشنل انڈسٹریل کمیشن کے چیئرمین ہیں۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ اگر ہر معاملے میں عدالتی مداخلت کی روایت ڈال دی گئی تو کل ہائی کورٹ کا ایک جج سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کو رد کر دے گا۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ جب کسی جج کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ریفرنس کا سامنا ہو تو اس کو وقتی طور پر کام سے روکا جا سکتا ہے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت اس نکتے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے کہ جج کو کن حالات میں کام کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل جو پانچ ججوں پر مشتمل ہوتی ہے کسی جج کو کام سے روکنے یا نہ روکنے کے لیے بہترین فورم ہے۔ ملک قیوم نے کہا کہ نو مارچ کو چیف جسٹس کو کام سے روکے جانے کے بعد قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری جائز ہے اور جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس رانا بھگوان داس کی بطور قائم چیف جسٹس تعیناتی ایک ٹھیک عمل تھا۔ جب وفاقی حکومت کے وکیل نے نو مارچ کو صدر پاکستان اور سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے چیف جسٹس کو کام سے روکنے سے جاری ہونے والے احکامات کا دفاع کرنے کی بجائے صرف چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجنے کے نوٹیفیکشن کا دفاع کرنا چاہا تو جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اس طرح معاملات انتہائی پیچیدہ ہو جائیں گے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اگر چیف جسٹس کو کام سے روکنے والے احکامات غلط تھے تو پھر قائم مقام چیف کی تعیناتی بھی غلط قرار پائے گی اور قائم مقام چیف جسٹس کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے پہلی میٹنگ بھی غیر قانونی ہو گی جس نے چیف جسٹس کو کام کرنے سے روکنے کا دوسرا حکم جاری کیا تھا۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ کسی نوٹفیکیشن کے غیر قانونی قرار پانے پر اس کے تحت ہونے والے احکامات غیر قانونی قرار نہیں دیئے جا سکتے۔ وفاقی حکومت کے وکیل دلائل ابھی جاری تھے کہ مقدمے کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ | اسی بارے میں سپریم کورٹ میں حکومت کی معافی 02 July, 2007 | پاکستان ’صدر سپریم کورٹ کو جوابدہ‘31 May, 2007 | پاکستان حفاظتی انتظامات ناکافی: سپریم کورٹ07 July, 2007 | پاکستان نتائج کی پرواہ نہیں: سپریم کورٹ28 May, 2007 | پاکستان فل کورٹ: سماعت چودہ مئی سے08 May, 2007 | پاکستان فل کورٹ کی ہیئت کیا ہوسکتی ہے؟07 May, 2007 | پاکستان ’فل کورٹ بینچ کا مطالبہ بدنیتی ہے‘03 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||