’صدر سپریم کورٹ کو جوابدہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا ہے کہ صدر سمیت تمام عہدیدار سپریم کورٹ کے سامنے جوبداہ ہیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ ان کی سمجھ کے مطابق وفاقی حکومت صدر جنرل پرویز مشرف کو عدالتی کارروائی سے مسثتنٰی نہیں سمجھتی اور ان کا صرف یہ مطالبہ ہے کہ صدر پرویز مشرف کو فریقین کی فہرست سے خارج کر دیا جائے کیونکہ وفاقی حکومت فریق ہے۔ پاکستان بار کونسل کے وکیل حامد خان نے کہا کہ حکومت کا موقف ہے کہ صدر عدالتی کارروائی سے مسثتنٰی ہیں، لہذا ان کو فریق نہیں بنایا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کا تیرہ رکنی فل کورٹ گزشتہ بارہ روز سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی دخواست کے قابل سماعت کے ہونے یہ نہ ہونے کے بارے میں فریقین کے دلائل سن رہا ہے اور یہ دلائل مزید کئی روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ سپریم کورٹ کا فل کورٹ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت تئیس ایسی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے جن میں چیف جسٹس کو کام سے روکنے اور سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو کام کرنے سے روکنے اور جبری چھٹی پر بھیجے جانے کے فیصلے کے خلاف پاکستان بار کونسل کی درخواست میں دلائل دیتے ہوئے، پاکستان بار کونسل کے وکیل حامد خان نے عدالت سے کہا کہ تمام مہذب ملکوں میں کسی آئینی عہدیدار کو ہٹانے کے لیے ایک فورم کی بجائے دو فورم ہوتے ہیں اور یہی طریقۂ کار چیف جسٹس کو ہٹانے کے لیے بھی اپنایا جانا چاہیے۔ حامد خان نے کہا کہ صدر عدالتی جوابدہی سے مبرا نہیں ہے اور خلیفہ دوئم حضرت عمر کا ایک واقعہ عدالت کو سنایا جس کے مطابق حضرت عمر نے اس قاضی کو ناپسند کیا تھا جس نے ایک مقدمے میں خلیفہ دوئم سے دوسرے مدعی سے مختلف برتاؤ روا رکھا تھا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل رشید رضوی نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل عدالت نہیں ہے اور اس کے ممبر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج ضرور ہیں لیکن جب وہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بیٹھتے ہیں تو وہاں وہ ’ممبر‘ ہوتے ہیں جج نہیں۔ پاکستان بار کونسل کے وکیل نے کہا کہ جب کسی شخص کو عدالت کا جج مقرر کیا جاتا ہے تو وہ اس وقت تک جج تصور نہیں ہوتا جب تک وہ حلف نہیں لے لیتا لیکن سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل ہونے سے پہلے کوئی حلف نہیں لیا جاتا جس کا مطلب ہے سپریم جوڈیشل کونسل عدالت کی تعریف پر پوری نہیں اترتی۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل اتنی بے بس ہے کہ اگر آئین کے آرٹیکل 210 میں گواہوں کو بلانے اور اپنی کارروائی چلانے کے لیے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے اختیارات نہ دیےگئے ہوتے تو شاید وہ کسی کو اپنے سامنے بلا بھی نہ سکتی۔ سماعت کے دوران ایک موقع پر جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ ہر معاشرے کی بنیاد انصاف پر ہوتی ہے اور صرف انصاف کی فراہمی کی ہی وجہ سے شہری مملکت سے وفادار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں وہ معاشرے تباہ ہوگئے جہاں انصاف کا فقدان تھا۔ مقدمے کی سماعت جمعہ کو بھی جاری رہے گی۔ |
اسی بارے میں حکومتی درخواست کی سماعت ہوگی30 May, 2007 | پاکستان ’گرفتاری کے امکان کے باوجود واپسی‘ 30 May, 2007 | پاکستان کراچی میں وکلاء پر حملے کی FIR بحال30 May, 2007 | پاکستان بارہ مئی پر بات نہیں: صبیح الدین 30 May, 2007 | پاکستان حماد قتل کیس: چار افراد گرفتار30 May, 2007 | پاکستان صحافیوں کو دھمکی پر احتجاجی مظاہرے30 May, 2007 | پاکستان ’بندوق بردار کو کیسے ہٹایا جائے‘30 May, 2007 | پاکستان وزیر اعلیٰ پر توہین عدالت کا الزام31 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||