وزیر اعلیٰ پر توہین عدالت کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ درخواست کی سماعت ہائی کورٹ کی لارجر بنچ کو کرنے کی استدعا کی گئی جو بارہ مئی کے واقعات کی بھی سماعت کر رہی ہے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر افتخار جاوید قاضی نے اس درخواست میں کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بارہ مئی کے واقعے پر سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے از خود نوٹس کے بعد فوری طور پر عوام اور میڈیا میں اس طرح سے رد عمل کا اظہار کیا ہے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ارباب غلام رحیم نے جو الفاظ اور فقرے استعمال کئے ہیں ان میں ججوں کی توہین اور عدالت کے وقار کو مجروح کیا گیا ہے اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کراچی بار کے صدر افتخار جاوید قاضی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی ہتک کرنے کی کسی کو بھی آزادی نہیں ہے چاہے وہ کسی بھی عہدے پر ہو۔ افتخار جاوید کے مطابق انہوں نے یہ درخواست توہین عدالت کے قانون کی دفعات تین اور چار کے تحت دائر کی ہےاور استدعا کی ہے کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کے خلاف آئین کے آرٹیکل دو سو چار کے تحت کارروائی کی جائے۔ افتخار جاوید قاضی کے وکیل منیب الرحمان ہیں جو سندھ ہائی کورٹ بار کے سیکریٹری جنرل بھی ہیں۔ واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں بارہ مئی اور اس کے بعد ہونے والے واقعات کے بارے میں چار درخواستیں زیر سماعت ہیں۔ | اسی بارے میں ’عدالتیں غیر جانبدار نہیں رہیں‘28 May, 2007 | پاکستان بارہ مئی پر بات نہیں: صبیح الدین 30 May, 2007 | پاکستان ہائی کورٹ: کراچی تشدد کا نوٹس 26 May, 2007 | پاکستان بارہ مئی کی تحقیقات نہیں ہوں گی25 May, 2007 | پاکستان ’سیاسی نعرہ بازی، عدالت نوٹس لے‘27 May, 2007 | پاکستان کراچی ہلاکتیں، ایوانوں کا بائیکاٹ14 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||