’عدالتیں غیر جانبدار نہیں رہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہ بارہ مئی کے واقعات پر سندھ ہائی کورٹ کے ازخود نوٹس کے حوالے سے حکومت کا تعاون عدالت کے ’غیر جانبدار‘ ہونے سے مشروط ہوگا۔ بی بی سی اردو سروس کی مہ پارہ صفدر سے بات کرتے ہوئے ارباب رحیم نے کہا کہ عدالتیں آجکل ہر چیز کا خود نوٹس لے رہی ہیں۔ ’ٹرانسفر اور پوسٹنگ اور زمینوں کے معاملات میں بھی عدالتیں مداخلت کر رہی ہیں‘۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ بارہ مئی کے واقعات کی تحقیقات کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ’میرا کہنا یہ تھا کہ پہلی ترجیح امن قائم کرنا ہے ۔۔۔۔ تاریخ میں انکوائریوں کا کبھی کوئی نتیجہ نکلا ہے؟ بنگلہ دیش کی (مشرقی پاکستان کی علیحدگی) رپورٹ آج تک سامنے نہیں آئی ۔۔۔ سانحہ نشتر پارک کی رپورٹ بھی نہیں آئی‘۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات شروع ہوئیں تو تلخ باتیں سامنے آئیں گی۔ ’سب پارٹیوں کے لوگ ہلاک ہوئے ہیں، سب پارٹیوں کے لوگ ملوث ہیں۔ گھروں
ارباب رحیم کا کہنا تھا ’عدالت اگر پارٹی نہ بنی تو حکومت تحقیقات میں تعاون کرے گی، اگر پارٹی بنی تو پھر ہمارے افسر (عدالت میں) نہیں جائینگے‘۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی عمارت میں سنیچر کو ہونے والے سمینار میں نعرے بازی ہوتی رہی۔ ’عدالتوں میں پہلے ایسے کبھی نہیں ہوتا تھا۔ ہمارے وکلاء پیشی پر جاتے ہیں تو ان کی بے عزتی کی جاتی ہے ۔۔۔۔۔ اس صورتحال کا (عدلیہ کو) نوٹس تو لینا پڑے گا‘۔ ارباب رحیم نے کہا ’سن رہے ہیں کہ اعتزاز احسن جسٹس پارٹی بنانے کا اعلان کرنے والے ہیں ۔۔۔۔ بی بی (بینظیر بھٹو) کے کنٹرول سے تو نکل گئے ہیں شاید‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹو بمقابلہ عدلیہ کے خطرناک رحجان کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ ’اس میں اندرونی و بیرونی ہاتھ ملوث ہے‘۔
ایک سوال کے جواب میں سندھ کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں عدلیہ کو ایگزیکٹو سے علیحدہ کرنے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ ’کرپشن وہاں بھی ہے، ہم سے زیادہ عوام جانتے ہیں کہ وہاں کے حالات کیسے ہیں‘۔ بارہ مئی کے پرتشدد واقعات کے حوالے سے ایم کیو ایم پر انگلی اٹھنے اور اس کے صوبائی حکومت پر اثرات کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’مخلوط حکومت میں حصہ داروں کے اچھے کاموں کا جہاں فائدہ ہوتا ہے وہاں ان کی غلط باتوں کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے‘۔ ارباب رحیم کے مطابق بارہ مئی کے واقعات کے حوالے سے ایم کیو ایم سے پوچھا گیا تو ان کا موقف تھا کہ ہوسکتا ہے ایم کیو ایم حقیقی والے ملوث ہوں۔ ’جھنڈا ایک ہے، نعرہ ایک ہے ۔۔۔۔ وہ بھی (حقیقی والے) خود کو مہاجر کہتے ہیں‘۔ |
اسی بارے میں کراچی ضرور جاؤنگا: عمران خان27 May, 2007 | پاکستان تنظیمیں فائرنگ کا نوٹس لیں: متحدہ21 May, 2007 | پاکستان وکلاء پر ’تشدد‘، تفتیش رک گئی19 May, 2007 | پاکستان تحقیقات پبلک سیفٹی کمیشن سے17 May, 2007 | پاکستان وفاق، سندھ توہینِ عدالت کی زد میں16 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||