BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 May, 2007, 15:12 GMT 20:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سیاسی نعرہ بازی، عدالت نوٹس لے‘

جسٹس افتخار اور وکلاء
سیمینار سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے منعقد کیا تھا
حکومت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیرانتظام اسلام آباد کے ایک سیمنار میں مبینہ سیاسی نعرہ بازی اور تقاریر کو سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عدالت عظمی سے اس کا نوٹس لینے کے لیے کہا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس بابت اپنے آپشنز پر بھی قانونی ماہرین سے مشورے کر رہی ہے۔


یہ مطالبہ سرکاری ترجمان محمد علی دورانی اور وزیر مملکت طارق عظیم کی اسلام آباد میں آج شام ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں سامنے آیا۔

اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی کے عنوان سے یہ سمینار سپریم کورٹ میں سنیچر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے منعقد کیا تھا جس سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے علاوہ کئی وکلاء نمائندوں نے بھی خطاب کیا تھا۔

تاہم اس دوران ہال میں موجود وکلاء وقفے وقفے سےحکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔

وفاقی وزراء کا کہنا تھا کہ یہ سمینار نہیں بلکہ ایک سیاسی ڈرامہ تھا۔ وزیر مملکت طارق عظیم کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی شو سپریم کورٹ کی جانب سے نو مئی کو سپریم کورٹ کے اندر تمام افراد کے لیے جاری کیے گئے ایک واضع ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تھا۔

انہوں نے عدالت سے استفسار کیا کہ اسے فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔

لوگ سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر بڑی سکرین پر چیف جسٹس کا خطاب دیکھ رہے ہیں
’یہ سمینار نہیں بلکہ ایک سیاسی ڈرامہ تھا‘

محمد علی دورانی کا الزام تھا کہ اس سیمنار میں ملک کے اہم اداروں اور شخصیات یہاں تک کے سابق ججوں پر کیچڑ اچھالا گیا۔ ان کا موقف تھا کہ اس سمینار میں انتہائی نامناسب زبان استعمال کی گئی جس پر انہیں افسوس ہے۔

ایک سوال کے جواب میں حکومتی ترجمان نے واضع کیا کہ نو مئی کے ضابطہ اخلاق میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ اس کا اطلاق صرف مقدمے کی سماعت کے دوران ہوگا۔

ان کا الزام تھا کہ سیاسی جماعتوں کے پاس بھی کوئی ایشو نہیں تو وہ عدلیہ کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنماعمران خان پر پابندی کے بارے میں ایک سوال کا جواب انہوں نے محض یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ صوبائی معاملہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد