BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 May, 2007, 15:03 GMT 20:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی: اعتزاز

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے کسی بھی تقریب میں کبھی کوئی سیاسی بات نہیں کی
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے حکومت کی طرف سے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے منعقد کردہ تقریب میں انہوں نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔

دو وفاقی وزراء کی طرف سے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ بارکی تقریب میں چیف جسٹس کی تقریر کا عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے از خود نوٹس لینے کے مطالبہ پر اپنے رد عمل میں اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر یہ معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھانے کی کوشش کی گئی تو وہ اس کا مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت بوکھلاٹ کا شکار ہے تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ چیف جسٹس نے اس سیمینار میں اور اس سے پہلے ہونے والی تقاریب میں کوئی سیاسی بات نہیں کہی ہے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے دو پہلو ہیں اور حکومت اور سپریم کورٹ دونوں کا ان پہلوؤں کا علم ہے۔ ایک پہلو کا تعلق صدر کی طرف سے چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف دائر کردہ ریفرنس اور چیف جسٹس کے طرزِ عمل سے ہے جبکہ دوسرے کا تعلق سیاست اور سیاسی جماعتوں سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ گیارہ ہفتوں میں چیف جسٹس نے کوئی بیان نہیں دیا نہ انہوں نے پریس سے کوئی بات نہیں کی۔ دورانِ سفر انہوں نے میڈیا کو دیکھ کر کبھی اپنی گاڑی کا شیشہ تک نہیں اتارا۔

’جہاں تک چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس اور عدالت کا تعلق ہے، ہم اس معاملے کو محض عدالتی اور قانونی معاملہ سمجھتے ہیں۔ چیف جسٹس نے بار ایسوسی ایشنز سے چھ مرتبہ خطاب کیا ہے اور سیاسی باتوں سے گریز کیا ہے۔ البتہ سیاسی جماعتوں نے اس معاملے کو ضرور اشو بنایا ہے۔‘

اعتزاز احسن نے کہا کہ گزشتہ روز چیف جسٹس نے کوئی ایسی بات نہیں کی کہ جس کی بنا پر حکومت یہ کہے کہ ان کے بیان کا نوٹس لیا جائے۔ اگر حکومت نے اس طرح کا کوئی قدم اٹھایا تو اس کا قانونی جواب دیا جائے گا۔

’حکومت تڑپ رہی ہے۔ حکومت حواس باختہ ہے۔ وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی غلط بیان کرتے ہیں اور میڈیا کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ معاملہ چیف جسٹس اور ان کے وکلاء کی حد تک سیاسی نہ ہو لیکن دوسروں کی حد تک ضرور سیاسی ہے۔ جب چیف جسٹس کو اپنی حکومت بچانے کے لیے ڈسمس کیا جاتا ہے۔ ان کی مار کٹائی کی جاتی ہے، ان کو گرفتار کیا جاتا ہے، نظر بند کیا جاتا ہے، ان کے ٹیلیفون کاٹے جاتے ہیں تو اس معاملے میں سیاسی جماعتیں کیوں ان کے ساتھ نہیں آئیں گی۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ چیف جسٹس نے گزشتہ روز اپنی تقریر میں ایک مصنف کے حوالے سے کہا تھا کہ مطلق اختیار ممکل بدعنوانی کا سبب بنتا ہے اور بعض لوگوں کے نزدیک ان کا اشارہ صدر پرویز مشرف کی جانب تھا تو اعتزازاحسن نے کہا کہ چیف جسٹس کا اشارہ کسی کی طرف نہیں تھا۔ ’اب اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو سمجھتا رہے۔ ایسے حوالے تو عدالتوں کے فیصلوں میں عام دیئے جاتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے کوئی سیاست نہیں کی لیکن اگر سیاسی جماعتیں کچھ کہتی ہیں تو چیف جسٹس سے اس کا تعلق نہیں جوڑا جا سکتا۔

 سندھ ہائی کورٹ بلڈنگقائم مقام گورنر
سندھ ہائی کورٹ کے ججز کے فیصلے کی تعریف
موبائل’گو مشرف گو‘
صدر کے خلاف احتجاج ’موبائل‘ ہو گیا
 کیا سید شریف الدین پیرزادہ صدر مشرف کی کرسی بچا سکتے ہیں؟’آپ تو ڈرا رہے ہیں‘
حکومتی وکلاء اور ملائیشیا کی مثال
 جسٹس افتخار چودھری ہڈی اور سیاسی گلے
جسٹس افتخارگلے کی’ہڈی‘ بنتے جا رہے ہیں
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
قانونی نکات
جسٹس افتخار کی پیٹیشن کے قانونی نکات
داتو پرام کمارا سوامے جیورسٹس کمیشن
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی پر تشویش
اسی بارے میں
جسٹس افتخار جبری چھٹی پر
17 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد