ہائی کورٹ: کراچی تشدد کا نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں بارہ مئی کو ہونے والے واقعات کا از خود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اٹھائیس مئی کو طلب کرلیا ہے۔ بارہ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سندھ ہائی کورٹ بار کی تقریب کے لیے کراچی آئے اور اس روز شہر میں ہونے والی شدید ہنگامہ آرائی میں چالیس سے زائد افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے اس واقعے کا از خود نوٹس لیا اور جواب طلبی کے لیے سندھ کے چیف سیکرٹری شکیل درانی، سیکرٹری داخلہ غلام محمد محترم ، آئی جی سندھ پولیس نیاز صدیقی، کراچی پولیس چیف اظہر فاروقی اور ٹاؤن پولیس افسر کیپٹن طاہر نوید کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ اس مقدمے کے سماعت کے لیے جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں سات رکنی بنچ تشکیل دیا گیا ہے جس میں جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عزیز اللہ میمن، جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس علی سائین ڈنو میتلو شامل ہیں۔ اس حکم سے ایک روز قبل سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ کراچی واقعے کی کوئی تحقیقات نہیں کرائی جائیں گی۔ بارہ مئی کے واقعے سے ایک روز قبل سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے حکام کو جسٹس افتخار محمد چودھری کے لیے موثر حفاظتی انتظام کرنے کی ہدایت کی تھی۔ بارہ مئی کو پولیس نے ہائی کورٹ کے چاروں طرف رکاوٹیں کھڑی کردیں تھیں۔ چیف جسٹس صبیح الدین نے انہیں ہٹانے کی ہدایت کی تھی جس پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے توہین عدالت کی ایک درخواست بھی سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ | اسی بارے میں ’سڑکوں پر خون بہہ رہا ہے اور ۔۔۔‘25 May, 2007 | پاکستان کراچی ہڑتال ملتوی کر دی گئی23 May, 2007 | پاکستان بارہ مئی کی تحقیقات نہیں ہوں گی25 May, 2007 | پاکستان کراچی تشدد، متحدہ کی وڈیو جاری19 May, 2007 | پاکستان ’مشرف نے کراچی کو جاگیر بنا دیا ہے‘20 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||